03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرکتُ الأعمال (Service-Based Partnerships) کے چند جدید مسائل
88750شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

دورِ حاضر میں شرکت الاعمال کے حوالے سے آپ کی رہنمائی درکار ہے۔ کچھ درج ذیل ہیں:
 قانونی و میڈیکل فرمز (Legal & Law Firms, Medical & Doctors Firms)، کنسلٹنسی، آئی ٹی (IT) اور دیگر شعبوں جیسے سافٹ ویئر، ٹیک، مارکیٹنگ، ڈیزائن، ڈیجیٹل میڈیا وغیرہ میں شرکت الاعمال کی مختلف شکلیں رائج ہوچکی ہیں۔

جدید شرکتُ الأعمال اپنی ساخت، وسعت اور مالی تقاضوں کے لحاظ سے ماضی کی شرکت الاعمال سے مختلف ہوچکی ہے۔ماضی میں شرکت الاعمال کا دار و مدار عمومی طور پر صرف عمل پر ہوتا تھا، جبکہ موجودہ کاروباری ماحول میں عمل کے ساتھ سرمایہ کاری Capital Investment))بھی ناگزیر ہوچکی ہے۔آج کل ایسے سروس بیسڈ بزنسز میں نفع حاصل کرنے کے لیے صرف محنت یا خدمات کافی نہیں ہوتیں، بلکہ بھاری سرمایہ درکار ہوتا ہے،

1۔جامد اثاثے Fixed Assets):)آفس، فرنیچر، لیپ ٹاپ، کمپیوٹرز، سرورز، انٹرنیٹ ڈیوائسز وغیرہ۔
غیر مادی اخراجات Operational Expenses)) ملازمین کی تنخواہیں، یوٹیلیٹی بلز (بجلی، Wi-Fi، سبسکرپشنز)، سالانہ سافٹ ویئر لائسنس فیسیں، کلاؤڈ اسٹوریج، ڈیجیٹل سیکیورٹی ٹولز وغیرہ۔ڈیجیٹل و ٹیکنالوجی سرمایہ کاری: Google Workspace، Canva Pro، Adobe Suite، Cloud Hosting، Paid APIs، Marketing Tools، SaaS Platforms، CRM Systems اور دیگر آن لائن سروسز کی خریداری۔عام طور پر ایسے اخراجات کے لیے سرمایہ فراہم کرنے والا فریق بطور قرض دہندہ (Loan Provider) نہیں بلکہ شریک (Partner) کے طور پر شامل ہوتا ہے تاکہ نفع و نقصان میں شریک رہے۔ایسی صورتحال میں درج ذیل شرعی سوالات سامنے آتے ہیں:

سوال نمبر1:چونکہ شرکت الاعمال کی بنیاد خدمات (Services) پر ہوتی ہے،اگر پارٹنرشپ کے آغاز میں کسی شریک کی طرف سے سرمایہ بھی شامل کیا جائے۔

سوال نمبر2: اگر کسی شریک کی جانب سے سرمایہ فراہم کیا جائے تو کیا وہ شرکت الاموال Investment Partnership))شمار ہوگی؟یا وہی شرکت الاعمال Work Partnership)) ہی رہے گی؟یا یہ دونوں کی

ایک مرکب Hybrid Form))صورت بن جائے گی؟

سوال نمبر3: اگر شرکت الاعمال برقرار رہتی ہے یا دونوں کا مجموعہ بن جاتی ہے،تو نقصان کی ذمہ داری کس بنیاد پر طے ہوگی؟یعنی اگر کسی شریک کا عملی حصہ (Work Contribution) 50٪ کے برابر ہے، جبکہ سرمایہ اس سے کم یا زیادہ ہےتو نقصان کی تقسیم عملی حصہ داری (شرکت الاعمال کا اصول) کے مطابق ہوگی یا سرمایہ کی نسبت (شرکت الاموال کا اصول) کے مطابق؟

سوال نمبر4: اگر جاری شرکت الاعمال میں کسی نئے پارٹنر کو شامل کیا جائے،  جبکہ کاروبار کے کچھ جامد اثاثے Fixed Assets))پہلے سے موجود ہوں تو اس کی شمولیت کی شرعی نوعیت کیا ہوگی؟

کیا وہ ان موجودہ اثاثوں کے سرمایہ فراہم کر کے ان کا مالک شریک(Partner in Ownership) بن جائے گا؟ اور اس سرمایہ میں ذاتی تصرف کرسکے گا؟یا وہ سرمایہ بطور سرمایۂ توسیع (ExpansionCapital) شمار ہوگا، جو نئے اثاثوں یا سہولیات کے اضافے کے لیے استعمال ہوگا، مگر پہلے سے موجود اثاثوں کی ملکیت میں شریک نہیں ہوگا؟ اور ان میں سے ہر صورت میں نقصان کی تقسیم کس بنیاد پر کی جائے گی؟ملکیت کے تناسب (Ratio of Ownership) کے مطابق یا ضمانِ عمل (Extent of Work Liability) کے مطابق جو اس نے شرکت الاعمال کے طور پر قبول کیا ہے؟ کیا اس سرمایہ کی شمولیت سے کاروبار کے دیگر شرکاء کے حصوں میں حقیقی کمی واقع ہوگی، یا یہ محض جزوی فروخت(Partial Sale) ہوگی؟صرف سرمایہ کے اضافے کی وجہ سے مجموعی اثاثہ جات کی قدر بڑھے گی، جبکہ ملکیت کے تناسب میں تبدیلی نہ ہوگی؟

سوال نمبر 5: اگر بعض شرکاء کی خدمات دوسروں سے زیادہ ہوں تو کیا ان کے لیے اضافی معاوضہ یا تنخواہ (Salary/Remuneration) لینا جائز ہوگا؟یا کسی متعین خدمت کے عوض مخصوص ادائیگی کی کوئی جائز صورت اختیار کی جا سکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوالات کے جوابات سے پہلے بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ شرکتِ اعمال کے شرعا درست ہونے کے لیے  درج ذیل اصولوں کو مدِ نظر رکھنا ضروری ہے:

  1. شرکت الاعمال میں شرکت کی بنیاد سرمایہ کی بجائے عمل یعنی کام پر ہونا ضروری ہے، اس لیے شرکت کا معاملہ کرتے وقت ہرشریک کا کام کی ذمہ داری کو قبول کرنا ضروری ہے،ورنہ شرکت درست نہیں ہوگی،شرکاء کے ذمہ کام طےہوجانے کے بعد اگر کوئی فریق کسی وجہ سے کام نہ کر سکے تو بھی وہ طے شدہ نفع کا حق دار ہو گااورایسی صورت میں انعقادِ شرکت کے وقت کام کی ذمہ داری قبول کرنے کی وجہ سے حکماً اس کو کام کرنے والا ہی شمار کیا جائے گا۔
  2. شرکت الاعمال میں اصولی طور پر سرمایہ لگانا ضروری نہیں ہے، البتہ کاروبار شروع کرنے کےلیے اگر کچھ سرمایہ کی ضرورت ہو، جیسے فرنیچر اور کرسیاں وغیرہ تو وہ ایک شریک یا دونوں باہمی رضامندی سے لگا سکتے ہیں اور اس سرمایہ سے خریدے گئے اثاثوں میں شرکتِ ملک قائم ہو گی اور ہر شریک اپنے سرمایہ کے تناسب میں ان اثاثوں میں شریک ہو گا اور اگر کسی ایک شریک کی طرف سے سرمایہ ہو تو خریدا گیا اثاثہ صرف اسی کی ملکیت ہو گا، جیسے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کی دکان ہو وہ اس میں کاریگر کو کام کے لیے بٹھائے اور گاہک لا کر دے اور کاریگر کام کرے اور نفع دونوں کا مثلا نصف نصف ہو تو یہ شرکت درست ہو گی اور دکان پہلے شخص کی ہی ملکیت سمجھی جائے گی۔
  3. آپس میں نفع کی شرح فیصد(Percentage) کے حساب سے طے کریں، کسی فریق کے لیے لم سم یعنی متعین  رقم کی صورت میں نفع متعین کرنا جائز نہیں،  نیز فیصد کے اعتبار سے باہمی رضامندی سے نفع کی کوئی بھی شرح طے کی جا سکتی ہے، اگرچہ کام کی ذمہ داری کا تناسب مختلف ہو، کیونکہ ہر آدمی  میں کام کی صلاحیت مختلف ہوتی ہےاورتجربہ کی وجہ سے بھی کام کی صلاحیت میں فرق پڑتا ہے، اس لیے نفع کی شرح مختلف ہونے کے باوجود کاروبار میں کام کی ذمہ داری کا تناسب برابر اور کمی بیشی کے ساتھ دونوں طرح درست ہے۔
  4. اگر   کاروبارمیں کسی شریک کی تعدی اور کوتاہی کے بغیر نقصان ہو جائے تو ہر فریق کام کی ذمہ داری کے تناسب سے نقصان برداشت کرے گا ۔البتہ اگر نقصان کسی فریق کی تعدی اور کوتاہی سے ہو تو اس صورت میں وہی شریک نقصان کا ذمہ دار ہو گا، نیز تعدی اور کوتاہی کا فیصلہ اس کاروبار کے ماہرین کریں گے۔ نیزشرکت کے کاروبار میں نقصان کو اولاً نفع سے پوراکیا جائے گا، نفع ختم ہونے کی صورت میں کسی فریق کو اس کی محنت کا بدلہ  نہیں ملے گا۔
  5. کاروبار میں ہونے والے اخراجات جیسے ملازمین کی تنخواہیں وغیرہ کاروبار پر دین یعنی قرض شمار ہوں گے، جو کہ نفع کی تقسیم سے پہلے نکالے جائیں گے اور اس کے بعد بچ جانے والی رقم کو بطورِ نفع تقسیم کیا جائے گا۔

اس تمہیدکے بعد  آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:

1،2) شرکت اعمال میں چونکہ شرکت کا عقد عمل کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، لہذا اگر کوئی شخص محض سرمایہ کی بنیاد پر ایسے کاروبار میں شریک ہونا چاہے اور وہ کام کی ذمہ داری بالکل قبول نہ کرے تو ایسی صورت میں یہ شرکت درست نہیں ہو گی۔البتہ اگر وہ شریک سرمایہ کے ساتھ کام کی ذمہ داری کوبھی قبول کرے تو شرکت الاعمال کا یہ معاملہ درست ہو گا، سرمایہ لگانے سے شرکت اموال نہیں بنے گا، باقی سرمایہ سے خریدے گئے اثاثوں جیسے فرنیچراور دفتری سامان وغیرہ میں شرکتِ ملک قائم ہو گی اور شرکتِ ملک کا اصول یہ ہے کہ مشترکہ اثاثہ بیچنے کے وقت ہرشریک اپنی  ملکیت کے تناسب سے ہی نفع ونقصان کا حقدار ہوتا ہے اور اگرسرمایہ کسی ایک شریک نے لگایا ہو تو وہ اثاثے صرف اسی کی ملکیت ہوں گے، جیسا کہ تمہید میں ذکر کیا گیا۔

3) سرمایہ لگانے سے یہ شرکت اموال میں تبدیل نہیں ہو گی، بلکہ شرکت الاعمال ہی برقرار رہے گی، باقی شرکت الاعمال میں لگایا گیا سرمایہ دو قسم کا ہوتا ہے:

پہلی قسم کا سرمایہ وہ ہے جس سے  جامد اثاثے خریدے گئے ہوں، یہ اصولا فریقین پر ان کام کی ذمہ داری قبول کرنے کے تناسب سے برداشت کرنا لازم ہے، تاہم اگر کوئی شریک تبرعاً یہ سارا خرچہ کرتا ہے تو اس کی بنیاد پر وہ زیادہ نفع کا مطالبہ نہیں کر سکتا،کیونکہ شرکتِ اعمال میں مال اور سرمایہ کی بنیاد پر نفع نہیں لیا جاتا، نیزایک شریک کی طرف سے سرمایہ کی صورت میں ان اثاثوں کا نقصان بھی صرف وہی شریک برداشت کرے گا،جس نے وہ اثاثے خریدے ہوں، اس لیے شرعا سرمایہ لگانے والا شریک خریدے گئے اثاثوں کا نصف  یا اسے کم وبیش (عمل کی ذمہ داری قبول کرنے کےتناسب سے) دوسرے شریک کو بیچ دے اور اس کی رقم کاروبار کے نفع میں سے دوسرے شریک کے حصہ سے وصول کرلے۔دوسری صورت یہ ہے کہ سرمایہ لگانے والا شریک اپنے اثاثہ جات کاروبار کو کرایہ پر دے دے اور ان کا ماہانہ کرایہ وصول کرتا رہے۔

دوسری قسم کا سرمایہ وہ ہے جو شرکت الاعمال کے جاری اخراجات ادا کرنے کے لیے خرچ کیا گیا ہو، جیسے ملازمین کی تنخواہیں اور بجلی، گیس کے بلز وغیرہ میں صرف کیا گیا ہو، اس سرمایہ میں ہونے والے نقصان کا تعلق شرکت الاعمال میں شرکاء کے درمیان طے شدہ کام کی ذمہ داری کے تناسب سے ہو گا، یعنی جو شریک جس قدر کام کرنے کی ذمہ داری قبول کرے گا اسی حساب سے وہ نقصان برداشت کرنے کا بھی ذمہ دار ہو گا۔

پھر جب شرکت کا معاملہ ختم کرنا چاہیں گے تو جامداثاثوں کی دو قسمیں بنائی جا سکتی ہیں:

اول: شركت كا معاملہ شروع کرتے وقت شرکاء کی طرف سے کم وبیش سرمایہ لگا کر خریدے گئے جامد اثاثوں میں ہر شریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے حق دار ہو گا۔

دوم: شرکت کا معاملہ ہو جانے کے بعد كاروبار بڑھنے كی صورت میں نفع کی رقم سے خریدے گئے جامد اثاثوں میں ہر شریک اپنے طے شدہ نفع کے مطابق حق دار سمجھا جائے گا، کیونکہ نفع میں جب  ہر شریک طے شدہ تناسب سے حق دار تھاتو اس سے خریدے گئے اثاثوں میں بھی ہر شریک اسی تناسب کے مطابق حق دار سمجھا جائے گا۔

4)  جاری شرکت الاعمال میں کسی کو شریک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر شرکت اعمال میں پہلے سے جامد اثاثے موجود ہوں تو نئے آنے والے شخص سے سرمایہ  کی شرح کے مطابق اس کو سابقہ  جامد اثاثوں کی قیمت لگوا کرسرمایہ کے تناسب سے اس کا کچھ حصہ مشاع طور پر نئے شریک کو بیچ دیا جائے، اس طرح ان اثاثوں میں اس کی شرکتِ ملک قائم ہو جائے گی یا یہ کہ اگر نئے اثاثوں کی ضرورت ہو تو اس کے سرمایہ سے نئے اثاثے خرید لیے جائیں تو اس صورت میں مجموعی اثاثوں میں ہرشریک اپنے سرمایہ کے تناسب سے شریک ہو جائے گا،  باقی تمہیدمیں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق عمل کی ذمہ داری قبول کرنے سے وہ شخص شرکتِ اعمال میں شریک ہو جائے گا اور باہمی رضامندی سے نفع کی جو بھی شرح طے کر لی جائے وہ اس شرح کے مطابق نفع کا حق دار ہو گا۔

5) شرکت الاعمال میں چونکہ نفع کا استحقاق عمل کی ذمہ داری کی بنیاد پر ہوتا ہے، اس لیے اگر کوئی شریک اپنے عمل کے عوض ماہانہ اجرت لے گا تو نفع کی بنیاد ختم ہو جائے گی،کیونکہ نفع کے استحقاق کے لیے سرمایہ، عمل یا ضمان میں سے کسی ایک چیز کا ہونا ضروری ہے اورشرکت الاعمال میں اپنے کام کی اجرت لینے کی صورت میں نفع کے پیچھے ان تین میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی،  اس لیے شرکت الاعمال میں کوئی شریک ماہانہ متعین اجرت نہیں لے سکتا، البتہ اگر کسی شریک سے کوئی خاص کام لیا جائے، جوشرکت کے معاہدے کی رُو سے اس کی ذمہ داری میں داخل نہ ہو، جیسے انکم ٹیکس کاگوشوارہ جمع کروانے یا کوئی عدالتی کاروائی  پوری کرنے پر کسی شریک کو کوئی متعین رقم دے دی جائے تو اس کی اجازت ہے۔ اسی طرح ایک صورت یہ ہے کہ جس شریک کو ماہانہ رقم کی ضرورت ہو تو وہ شرکت کے کاروبار سے ماہانہ رقم بطورِ قرض لیتا رہے، جو تحت الحساب ہو، یعنی سال کے آخر میں کاروبار کا حساب کرتے وقت اس شریک کے نفع سے اتنی رقم منہا کر دی جائے اور اگر بالفرض اس کی لی گئی رقم سے نفع کم ہو تو ایسی صورت میں زائد لی گئی رقم کاروبار کو واپس کرنا ضروری ہو گا اور اگر نفع کی مقدار قرض کی رقم سے زیادہ ہو تو زائد نفع اس کو ادا کر دیا جائےگا۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 261) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1359) إذا عقد الشريكان في شركة الأعمال الشركة على أن لكل واحد منهما أن يتقبل ويلتزم أي عمل كان وأن يكونا ضامنين للعمل ومتعهدين به سوية ومتساويين في المنفعة والضرر وأن يكون كل واحد منهما كفيلا للآخر بما يترتب على أحدهما بسبب الشركة فتكون مفاوضة. وتجوز في هذه الصورة مطالبة أي واحد منهما بأجرة الأجير وأجرة الحانوت , وإذا ادعى شخص على أحدهما بمتاع وأقر أحدهما فينفذ إقراره حتى ولو أنكره الآخر.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 258) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1346) ضمان العمل نوع من العمل , فلذلك إذا تشارك اثنان شركة صنائع بأن وضع أحد في دكانة آخر من أرباب الصنائع على أن ما يتقبله ويتعهده هو من الأعمال يعمله ذلك الآخر وأن ما يحصل من الكسب أي الأجرة يقسم بينهما مناصفة جاز , وإنما استحقاق صاحب الدكان الحصة هو بضمانه العمل وتعهده إياه كما أنه ينال في ضمن ذلك أيضا منفعة دكانه.

مجلة الأحكام العدلية (ص:267) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

مادة 1393: إذا تلف أو تعيب المستأجر فيه بصنع أحد الشريكين فيكون ضامنا بالإشتراك مع الشريك الآخر، والمستأجر يضمن ماله أيا شاء منهما، ويقسم هذا الخسار بين الشريكين على مقدار الضمان، مثلا إذا عقدا الشركة على تقبل الأعمال وتعهدها مناصفة، فيقسم الخسار أيضا مناصفة، وإذا عقدا الشركة على تقبل الأعمال وتعهدها ثلثين وثلثا، يقسم الخسار أيضا حصتين وحصة.

تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (3/ 321) المطبعة الأميرية  بولاق، القاهرة:

 (قوله ولو شرطا العمل نصفين) قال الأتقاني - رحمه الله - قالوا جواز اشتراط التفاضل

في الربح مع التساوي في العمل في شركة التقبل إنما يجوز إذا كانت عنانا أما في المفاوضة

 فلا يجوز اه.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام : (380/3)دار الجيل:

ولا يشترط في شركة الأعمال أن تكون تلك الأعمال من الأعمال المتفقة كما لا يشترط فيها اتحاد المكان. فلذلك يجوز أن تكون تلك الأعمال من الأعمال المتفقة كما يجوز أن تكون من الأعمال المختلفة كما أشير إلى ذلك في المادة (1332) إن اتفاق خياطين على الاشتراك في الخياطة أو صباغين على الاشتراك في الصباغة هو من قبيل الاشتراك في الأعمال المتفقة، كما أن اشتراك خياط وصباغ في الخياطة والصباغة هو من قبيل الاشتراك في الأعمال المختلفة (الولوالجية بإيضاح)

وبما أن كل واحد منهما كفيل للآخر فيطالب الصباغ بالخياطة وله أن يستخدم الأجير أو المعير في عمل ذلك العمل الذي لا يقدر على عمله لأن الشركة عمولة على التوكيل (عبد الحليم) كما أنه لا يشترط أن يكون الشريكان في شركة الأعمال في حانوت واحد أو بلدة واحدة بل لكل منهما أن يشتغل في حانوت آخر أو محل آخر لأن المعنى لها لا يتفاوت (البحر) . ولكن يشترط في شركة الأعمال أن يحوز العمل شرطين:

الشرط الأول: أن يكون العمل حلالا فلا تصح الشركة في العمل الحرام كالاشتراك في السرقة والغصب والارتشاء.

الشرط الثاني: أن يكون العمل مما يجوز التوكيل فيه وأن يكون عملا إذا قام به العامل يستحق الأجرة عليه كالاشتراك في تعليم الكتابة والقرآن والكتب الشرعية فلو اشترك اثنان في تعليم الكتب الشرعية جاز.

الدر المختار مع رد المحتار(كتاب الشركة ،مطلب في شركة التقبل ،ج6ص497):

وإما تقبل وتسمی شرکۃ صنائع واعمال وابدان ۔وقال ابن عابدین :والمراد عقد الشركة على التقبل والعمل۔۔۔ لو اشتركا على أن يتقبل أحدهما المتاع ويعمل الآخر أو يتقبله أحدهما ويقطعه ثم يدفعه إلى الآخر للخياطة بالنصف جاز كذا في القنية۔۔۔وفي النهر أن المشترك فيه إنما هو العمل ولذا قالوا من صور هذه الشركة أن يجلس آخر على دكانه فيطرح عليه العمل بالنصف والقياس أن لا يجوز لأن من أحدهما العمل ومن الآخر الحانوت واستحسن جوازها؛ لأن التقبل من صاحب الحانوت عمل.

العنايةشرح الهداية( مسائل منثورة في الإجارة:ج 5ص260):

( قوله وإذا أقعد الخياط إلخ ) يعني إذا كان الخياط أو الصباغ معروفا وهو رجل مشهور عند الناس وله جاه ولكنه غير حاذق فأقعد في دكانه رجلا حاذقا ليتقبل صاحب الدكان العمل من الناس ويعمل الحاذق وجعلا ما يحصل من الأجرة بينهما نصفين جاز استحسانا ۔وجه الاستحسان أن هذه ليست بإجارة وإنما هي شركة الصنائع وهي شركة التقبل ، لأن شركة التقبل أن يكون ضمان العمل عليهما وأحدهما يتولى القبول من الناس والآخر يتولى العمل لحذاقته وهو متعارف فوجب القول بجوازها للتعامل بها قال صلى الله عليه وسلم { ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن }.

تحفة الفقهاء (3/ 13) دار الكتب العلمية، بيروت:

إذا شرطا لأحدهما زيادة أجر أو شرطا العمل على قدر الأجر والوضيعة كذلك فهو جائز وإن كان عمل الذي شرط له الأجر القليل أكثر لأن الربح بقدر ضمان العمل لا بحقيقة العمل.

وإن شرطا الوضيعة نصفين لا يصح ويبطل وتكون الوضيعة على ما شرطا من ضمان العمل والأجر كذلك. ولو جنت يد أحدهما فالضمان عليهما جميعا؛ لأن ذلك بناء على ضمان العمل وقد ضمنا جميعا.

كشاف القناع عن متن الإقناع (3/ 529) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:

(وإن كانت لأحدهما) أي الشريكين (آلة وليس للآخر شيء، أو لأحدهما بيت وليس للآخر شيء فاتفقا) أي الشريكان (على أن يعملا بآلة أو) على أن يعملا (في البيت والأجرة بينهما) أنصافا، أو متفاضلة (جاز) لما ذكرنا فيما لو كان لأحدهما آلة والآخر بيت.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

24/  ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب