| 88771 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
شاپنگ بیگ پر دوکان کا نام نہیں لکھا ہوتا، لیکن اس پرA لکھا ہوتا ہے اور اس سے دلالت عبداللہ پرہی ہوتی ہے کیونکہ دوکان کا نام عبداللہ پکوان ہے ،پوچھنا یہ ہے کہ اس شاپر کو کچرے کی تھیلی کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں یا مقدس اوراق میں ڈالیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی بھی چیز پرکتابت چاہے ایک حرف ہی کیوں نہ ہو اس کا ایک احترام اور تقدس ہے، تاہم اگر تعارف کے لیے لکھنا نا گزیر ہو تو شاپر وغیرہ پر مقدس نام لکھنے کے بجائے مخفف کر کے لکھنا مستحسن ہے، لہذا ضرورت ہو تو اس طرح لکھنےپر حرج نہیں ، اور اس شاپر کو کسی بھی استعمال میں لا سکتے ہیں۔
حوالہ جات
رد المحتار على الدر المختار ط: الحلبي (6/ 364):
"بساط أو مصلى كتب عليه في النسج الملك لّله يكره استعماله وبسطه، والقعود عليه، ولو قطع الحرف من الحرف أو خيط على بعض الحروف حتى لم تبق الكلمة متصلة لا تزول الكراهة؛ لأن للحروف المفردة حرمة ، وكذا لو كان عليها الملك أو الألف وحدها أو اللام ."
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ط: دار الكتب العلمية (1/ 212): "وينبغي أن لا يكره كلام الناس مطلقا، وقيل: يكره حتى الحروف المفردة... لكن الأول أحسن وأوسع ."
الفتاوى العالمكيرية ط: دار الکتب العلمية بیروت (5/ 322) :
"ويكره أن يجعل شيئا في كاغدة فيها اسم الّله تعالى كانت الكتابة على ظاهرها أو باطنها."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
27/ربیع الآخر /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


