| 88787 | حج کے احکام ومسائل | احرام اور اس کے ممنوعات کا بیان |
سوال
حالت احرام میں اگر محرم نے خوشبو لگایا یا کعبہ کے معطرغلاف کو ہاتھ لگایا تو اس سےمحرم پر کیا لازم ہوتا ہے؟اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حالت احرام میں خوشبو کا استعمال جائز نہیں۔اگر جسم یا کپڑوں پر زیادہ خوشبو لگ جائےتو دم لازم آتاہےورنہ صدقہ (احتیاطاً سوا دو کلو گندم یا اس کی قیمت )کرنا واجب ہوگا۔غلاف کعبہ کوہاتھ لگانے سے اگر خوشبو حسی طورپرنہ لگی ہو،صرف مہک آرہی ہوتو نہ دم واجب ہے نہ ہی صدقہ ۔اوراگر خوشبوحسی طورپر پورے ہاتھ پر لگ گئی ہو تو دم لازم ہوگااوراگر پورے ہاتھ پر نہ لگی ہو البتہ خوشبو تیزاور زیادہ ہو تو بھی دم واجب ہوگا ،ورنہ صدقہ لازم ہوگا۔
زیادہ اور کم ہونے میں آپ کی رائےمعتبرہے۔اگر آپ فیصلہ نہ کرسکیں تو دوسرے ساتھیوں سے پوچھ لیں، اگر وہ کہیں کہ آپ سے ذیادہ تیز خوشبو آرہی ہے توزیادہ ہوگی اور اگر وہ کہیں کہ نہیں آرہی یا بہت ہلکی آرہی ہے تو یہ کم ہوگی۔
حوالہ جات
وفي شرح التنوير:(2/544)
إن طيب عضوا) كاملا ولو فمه بأكل طيب كثير أو ما يبلغ عضوا لو جمع، والبدن كله كعضو واحد إن اتحد المجلس وإلا فلكل طيب كفارة. (قوله كاملا) لأن المعتبر الكثرة.
المبسوط للسرخسي:(124/4)
وإن مس طيبا فإن لزق بيديه تصدق إلا أن يكون ما لزق بيديه كثيرا فحينئذ يلزمه الدم.
الفتاوي الهندية:(1/240)
فإذا استعمل الطيب فإن كان كثيرا فاحشا ففيه الدم، وإن كان قليلا ففيه الصدقة كذا في المحيط. قال الشيخ الإمام أبو جعفر:اعتبر القلة والكثرة في نفس الطيب إن كان الطيب في نفسه بحيث يستكثره الناس ككفين من ماء الورد وكف من الغالية والمسك بقدر ما استكثره الناس فهو كثير وما لا فلا .
رشيدخان
دارالافتاءجامعۃ الرشید کراچی
27/ربیع الثانی/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


