| 88782 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرا نکاح ایک سنی لڑکے سے گھر والوں کی اجازت سے ہوا، کچھ وقت کے بعد میرے گھر والوں نے اس لڑکے سے رخصتی سے پہلے ہی عدالت کے ذریعہ خلع لے لیا، میرے گھر والوں نے عدالت میں یہ جھوٹ بول کر خلع لیا کہ وہ شرابی اور غلط لڑکا ہے جبکہ وہ لڑکا حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور اس لڑکا کے نے نہ تو زبانی کلامی طلاق دی ہے اور نہ تحریری طور پر اور نہ ہی وہ عدالت گیا ہے اور یہ خلع میری رخصتی سے پہلے ہوا ہے، پوچھنا یہ ہےکہ اس طرح عدالت کے ذریعہ جو خلع لیا ہے اس سے طلاق واقع ہوگئی یا نہیں ہوئی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر عدالت سے غلط بیانی کر کے بغیر کسی معتبر وجہ کے خلع لیا ہے تو اس صورت میں یہ یک طرفہ عدالتی خلع شرعاً معتبر نہیں ہوا، لہذا فریقین کے درمیان نکاح بدستور قائم ہے، لڑکی کا اس لڑکے سے طلاق یا اس کی رضامندی سے خلع لیے بغیر دوسری جگہ نکاح کرنا ہرگز جائز نہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 440) دار الفكر-بيروت:
قالت: خلعت نفسي بكذا، ففي ظاهر الرواية لا يتم الخلع ما لم يقبل بعده.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 145) دار الكتب العلمية:
وأما ركنه (الخلع) فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
27/ ربیع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


