| 88962 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
عبداللہ اور محمد کا مشترکہ کاروبار تھا جب کاروبار ختم کر رہے تھے تو دونوں کی مشترکہ گاڑیاں تھیں، گاڑیاں دونوں نے آپس میں تقسیم کر لیں۔ عبداللہ نے محمد سے کہا کہ ایک گاڑی کی قیمت میں نے ایک کروڑ چھ لاکھ اقساط جمع کرائی ہیں، جب کہ محمد یہ سمجھا کہ عبداللہ نے اُسے کہا ہے کہ ایک کروڑ دس لاکھ اقساط جمع کرائی ہیں، اس گاڑی کی جو محمد کے پاس تھی۔ دونوں میں بات بڑھ گئی اور محمد نے کہا کہ قرآن پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ مسجد تک پہنچنے پر محمد نے کہا کہ بس ٹھیک ہے اور یہ معاملہ ختم کر دیا۔
اب عبداللہ نے کہا کہ تم میرے ساتھ گاڑی میں چلو، محمد نے انکار کر دیا۔ عبداللہ نے کہا: "اگر تم میرے ساتھ نہیں چلے تو میری بیوی کو طلاق ہو گی۔(پشتو کے الفاظ: "طلاق دی خوبه رازے!!!")۔محمد ان کے ساتھ گاڑی میں نہیں گئے۔ اب بتائیے کہ اس صورت میں عبداللہ کے لیے طلاق کا کیا حکم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ تفصیل کے مطابق ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی ہے،دوران عدت شوہر رجوع کر سکتا ہے۔ رجوع کے لیے اتنا کافی ہے کہ زبانی بتا دے کہ میں نے رجوع کر لیایا طلاق واپس لے لی، بہتر ہے کہ گواہان کو بھی مقرر کیا جائے، لیکن اگر گواہ نہ ہوں تو بھی رجوع ہو جائے گا۔ یا پھر میاں بیوی والا تعلق قائم کرے، تب بھی رجوع ہو جائے گا، اس کے لیے بیوی کو بتانے کی ضرورت بھی نہیں۔
اگر شوہر نےعدت میں رجوع نہیں کیا توعدت مکمل ہونے کے بعد عورت اگر راضی ہو توسابقہ شوہر کے ساتھ نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ رجوع یا دوبارہ نکاح کی صورت میں آئندہ شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوی الھندیۃ (468/1):
كذا في المحيط رجل قال لامرأته: اكرامشب نزديك من نيائي (إن لم تجيئي عندي الليلة) فأنت طالق فجاءت إلى الباب ولم تدخل تطلق.
مختصر القدوری589:
قال العلامۃ ابو الحسین رحمہ اللہ علیہ: إذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت المرأة بذلك أو لم ترض...والرجعةأن يقول لها راجعتك أو راجعت امرأتي أو يطأها او يقبلها أو يلمسها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة۔ ويستحب له أن يشهد على الرجعة شاهدين وإن لم يشهد صحة الرجعة.
بدائع الصنائع(387/4)
قال العلامہ الکاسانی رحمۃ اللہ علیہ:أما الطلاق الرجعي فالحكم الاصلى له هو نقصان العــدد فاما زوال الملك وحل الوطء .
بدائع الصنائع(403/4)
قال العلامہ الکاسانی رحمۃ اللہ علیہ: فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق وزوال الملك ،أيضاً حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد.
ظہوراحمد
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
17جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


