| 88725 | نکاح کا بیان | ولیمہ کا بیان |
سوال
ہم بھائی سب ایک ہی گھر میں رہتے ہیں۔ ان شاء اللہ میرے سب سے بڑے بھائی کی شادی ہونے والی ہے۔ میں نے پوری کوشش کی کہ شادی میں مرد و عورت کے لیے الگ انتظام ہو، لیکن گھر والے اس پر راضی نہیں ہیں۔ تقریب میں مخلوط ماحول ہوگا، لیکن وہاں موسیقی یا ڈانس وغیرہ نہیں ہوگا۔ میرا سوال یہ ہےکہ اگر ہال میں مرد و خواتین کے نشستوں کے مابین پارٹیشن لگایا جائے لیکن اسٹیج مشترکہ ہو، تو میں اسٹیج کے ایک کونے میں ایک طرف الگ بیٹھ جاؤں گااور ہمارے ساتھ کوئی لڑکی بھی نہیں بیٹھے گی، بلکہ ممکن ہے کہ نظر بھی نہ آئے، تاہم اسٹیج پر لڑکیاں بعد میں آ سکتی ہیں۔ کیا یہ صورت کافی ہوگی؟دوسرایہ کہ جہاں تک لوگوں کے مخلوط محفل میں شامل ہونے کے گناہ کی بات ہےتو میرے سب قریبی رشتہ دار جانتے ہیں کہ میں اس عمل کو ناپسند کرتا ہوں اور میں حوصلہ افزائی نہیں کرتا، جبکہ میری کم عمری کی وجہ سے میں پورے خاندان کے خلاف بھی نہیں جا سکتا، اس لیے مجھے کسی نہ کسی طرح شامل ہونا پڑے گا۔تیسرا یہ کہ اگر میں صرف کھانے تک وہاں بیٹھوں اور جیسے ہی رسومات شروع ہوں، فوراً نکل آؤں تو کیا یہ صورت بہتر ہوگی؟ یا مجھے کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خوشی و غمی کے موقع پر شریعت مطہرہ کے بتائے ہوئے طریقے کو اختیار کرے، لہٰذا شادی بیاہ کے موقع پر مخلوط پروگرام کا انعقاد کرنا ، اس میں موسیقی اور ناچ گانا وغیرہ سب ناجائز امور ہونے کی وجہ سے گناہ ہیں۔اس طرح کی محفل میں شرکت کرنے والے شخص کو اگر پہلے سے علم ہوتواس کے لیے جانا جائز نہیںاور اگر جانےسے ان منکرات کو روکنے پر قادر ہوں تو لوگوں کو ان منکرات سے بچانے کی غرض سے شریک ہوں،ورنہ شرکت سے گریز کریں ۔
صورت مسئولہ میں اگر چہ موسیقی اور ناچ گانا وغیرہ تونہیں جیسا کہ سوال میںذکرکیا گیا ہے ،البتہ مخلوط ماحول ہے توآپ تقریب سے پہلے اپنی استطاعت کے مطابق ان کو سمجھانے کی کوشش کریں کہ شرکاء کے درمیان اسٹیج سمیت پارٹیشن لگاکر اس مخلوط ماحول کو ختم کيا جائے ورنہ میںاس میںشرکت نہیں کرسکتا ، پھر اگر وہ مان جائیں تو آسانی ہوگی ، اگر نہ مانیں اور آپ کی عدم شرکت سے خاندان میں مسائل پیدا ہونے کا قوی خدشہ ہو تو گناہ کے مواقع سے بچتے ہوئےواجبی شرکت کرلیں اور گھر والوں کی ذہن سازی جاری رکھیں ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 348):
لو دعي إلى دعوة فالواجب الإجابة إن لم يكن هناك معصية ولا بدعة والامتناع أسلم في زماننا إلا إذا علم يقينا أن لا بدعة ولا معصية ...قوله :لا ينبغي أن يقعد أي يجب عليه قال في الاختيار لأن استماع اللهو حرام والإجابة سنة والامتناع عن الحرام أولى اهـ .
قوله: فعل أي فعل المنع وجوبا إزالة للمنكر،قوله:صبرأي مع الإنكار بقلبه،قال عليه الصلاة والسلام «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان» ... وهذا لأن إجابة الدعوة سنة فلا يتركها لما اقترن به من البدعة ...وقوله: والمحكي عن الإمام أي من قوله ابتليت بهذا مرة فصبرت هداية.وقوله: وإن علم أولا؛أفاد أن ما مر فيما إذا لم يعلم قبل حضوره ،قوله :لا يحضر أصلا.
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 365):
قال: "ومن دعي إلى وليمة أو طعام فوجد ثمة لعبا أو غناء فلا بأس بأن يقعد ويأكل" قال أبو حنيفة رحمه الله: ابتليت بهذا مرة فصبرت. ….فإن قدر على المنع منعهم، وإن لم يقدر يصبر، وهذا إذا لم يكن مقتدى به، فإن كان مقتدى ولم يقدر على منعهم يخرج ولا يقعد… والمحكي عن أبي حنيفة رحمه الله في الكتاب كان قبل أن يصير مقتدى به، ولو كان ذلك على المائدة لا ينبغي أن يقعد وإن لم يكن مقتدى لقوله تعالى: {فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ} [الأنعام:68] وهذا كله بعد الحضور، ولو علم قبل الحضور لا يحضر؛ لأنه لم يلزمه حق الدعوة.
الاختيار لتعليل المختار (4/ 176):
قال: ومن دعي إلى وليمة عليها لهو، إن علم به لا يجيب؛ لأنه لم يلزمه حق الإجابة.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
20/ربيع الثانی/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


