| 88843 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید کپڑے سلائی کرنے کے لیے درزی کے پاس گیا اور کپڑے دے کر کچھ عرصہ بعد جب زید درزی کے پاس کپڑے لینے کے لیےگیا تو درزی نے کہا کہ میں نے تو آپ کے کپڑے بناکرآپ ہی کوواپس کردیے ہیں تو زید نے کہا کہ آپ نے میرے کپڑے واپس نہیں کیے ہیں اگر آپ نے میرے کپڑے واپس کیے ہوں تو مجھ پر میری بیوی تین طلاقوں کے ساتھ طلاق ہو۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ درزی نے زید کپڑے واپس کیے تھے ،لیکن اب زید کہتا ہے کہ مجھے پورا یقین تھا کہ درزی نے کپڑے واپس نہیں کئے ہیں تو کیا اب تین طلاقیں واقع ہوجائیں ے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
زید نے تین طلاقوں کو کپڑے واپس نہ کرنے پر معلق کیا، جبکہ حقیقت میں کپڑے درزی نے وآپس کردیےتھے،تو یہ الفاظ ادا کرتےہی تین طلاقیں واقع ہوگئی ۔زید کے یقین کی وجہ سے مسئلے پر کوئی فرق نہیں پڑےگا۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (3/ 369)
نعم صرحوا في الأيمان بأنه لو حلف على ماض أو حال يظن نفسه صادقا، لا يؤاخذ فيها إلا في ثلاث: طلاق ،وعتاق ،ونذر، وقد قال الشارح هناك، فيقع الطلاق على غالب الظن إذا تبين خلافه.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (4/ 303)
وفي الخلاصة والخانية: واللغو لا يؤاخذ به صاحبه إلا في الطلاق والعتاق والنذر، وفي فتاوى محمد بن الوليد: لو قال: إن لم يكن هنا فلان فعلي حجة ،ولم يكن۔ وكان لا يشك أنه فلان۔ لزمه ذلك اهـ.
فقد علمت أن اليمين بالطلاق على غالب الظن إذا تبين خلافه موجب لوقوع الطلاق.وفي منحة الخالق ّ: قوله: (موجب لوقوع الطلاق) ظاهره الوقوع قضاء وديانة.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (1/ 420)
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (3/ 355)
(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا.
رشیدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
04/جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


