03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی کام کے نہ ہونے پرتین  طلاقوں کو معلق کرنا
88843طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

  کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ زید کپڑے سلائی کرنے کے لیے درزی کے پاس گیا اور کپڑے دے کر کچھ عرصہ بعد جب زید درزی کے پاس کپڑے لینے کے لیےگیا تو درزی نے کہا کہ میں نے تو آپ کے کپڑے بناکرآپ ہی کوواپس کردیے ہیں تو زید نے کہا کہ آپ نے میرے کپڑے واپس نہیں کیے ہیں اگر آپ نے میرے کپڑے واپس کیے ہوں  تو مجھ پر میری بیوی تین طلاقوں کے ساتھ طلاق ہو۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ درزی نے زید کپڑے واپس کیے تھے ،لیکن اب زید کہتا ہے کہ مجھے پورا یقین تھا کہ درزی نے کپڑے واپس نہیں کئے ہیں تو کیا اب تین طلاقیں  واقع ہوجائیں ے گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 زید نے تین طلاقوں کو کپڑے واپس نہ کرنے پر معلق کیا،  جبکہ حقیقت میں  کپڑے درزی نے وآپس کردیےتھے،تو یہ الفاظ ادا کرتےہی  تین طلاقیں واقع ہوگئی ۔زید کے یقین کی وجہ سے مسئلے پر کوئی فرق نہیں پڑےگا۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (3/ 369)

نعم صرحوا في الأيمان بأنه لو حلف على ماض أو حال يظن نفسه صادقا، لا يؤاخذ فيها ‌إلا ‌في ‌ثلاث: ‌طلاق ،وعتاق ،ونذر، وقد قال الشارح هناك، فيقع الطلاق على غالب الظن إذا تبين خلافه.

 البحر الرائق شرح كنز الدقائق: (4/ 303)

وفي الخلاصة والخانية: واللغو لا يؤاخذ به صاحبه إلا في الطلاق والعتاق والنذر، وفي فتاوى محمد بن الوليد: لو قال: إن لم يكن هنا فلان فعلي حجة ،ولم يكن۔ وكان لا يشك أنه فلان۔ لزمه ذلك اهـ.

فقد علمت أن اليمين بالطلاق على غالب الظن إذا تبين خلافه موجب لوقوع الطلاق.وفي منحة الخالق ّ: قوله: (موجب لوقوع الطلاق) ‌ظاهره ‌الوقوع قضاء وديانة.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (1/ 420)

وإذا أضافه إلى الشرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (3/ 355)

‌(وتنحل) ‌اليمين (‌بعد) ‌وجود (‌الشرط ‌مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا.

رشیدخان

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

04/جمادی الاولی  1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب