| 88820 | وقف کے مسائل | مدارس کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام میرے والد نے سال 2005 میں مدر سے اور مسجد کےلیے چار 4 کنال زمین باقاعدہ انتقال کے ذریعے مدرسہ معراج العلوم کے نام پر وقف کر دی ۔اور ایک مہتمم بھی مقرر کیا کہ وہ مدرسے کی خود تعمیر کرے گا اور اس کا تمام انتظام وہ کرے گا۔ لیکن وہ کسی وجوہات کی بنا پر مدرسے کی نہ تو کوئی تعمیر کر سکا اور نہ ہی مدرسہ چلاسکا ۔اُس نے مدرسے کو چلانے کے لیے کوئی کام نہ کیا اور شہر سے باہر چلا گیا ۔لیکن ابھی تک وہ زمین وقف ہے اور پٹوار کے ریکارڈ میں بھی ابھی تک چلی آرہی ہے ۔ ہماری بھی یہی خواہش ہے کہ اس زمین پر مدرسہ اور مسجد ہی رہے ،اگر کوئی مناسب شخص ملے اور یہ تمام ذمہ داری لے ۔ اسی دوران کسی طرح ہمارےشہر سٹی میں گھر کے قریب جامع مسجد کے پیش امام کو معلوم ہوا کہ میرے والد نے مدرسے کے لیے زمین وقف کی ہوئی ہے۔ لیکن تاحال اس پر کوئی کام نہیں ہوا۔ جس کی وجہ سے امام صاحب نے میرے والد سے رابطہ کیا اور کہا کہ اگر آپ مناسب سمجھے تو میں نے اپنے گھر کے ساتھ مدرسے کے لیے جگہ خریدی ہے ، اگر آپ وہ زمین فروخت کر کے مجھے دے دیں تو میں یہ رقم اپنے مدرسے کی زمین جو خریدی ہے اُس کو دے دوں گا۔ اورمدرسہ بنا لوں گا ۔ لیکن میرا دل مطمئن نہیں ہوا۔
اس کے بعد اس نے پھر کسی سے مشورہ کیا کہ اگر ہم اس زمین کے متبادل کسی دوسری جگہ ایک کنال پلاٹ مدرسے کے نام پر دے دیں تو وہ زمین آپ واپس اپنے نام کرلیں۔ اور آپ کسی دوسرے شخص کو دیں لیکن اس پلاٹ کے پیسے (رقم ) میں اُس سے لے لوں گا تو آپ کو اتنا اجر ملے گا ۔ لیکن میں پھر بھی اس کی اس بات سے مطمئن نہیں ہوا کیوں کہ میں سمجھتا ہوں کہ جو زمین میرے والد نے وقف کر دی ہے ،وہ زمین نہ تو ہماری ہو سکتی ہے اور نہ ہی ہم اس کو فروخت کر کے اس کے پیسے کسی دوسرے شخص کو دے سکتے ہیں۔
آپ صاحبان کی کیا رائے ہے ؟ شریعت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاد رہے کہ جب واقف نے ایک مرتبہ چار کنال کی زمین وقف کر دی۔ اور باقاعدہ انتقال و قانونی کاروائی بھی ہو گئی، تو اس کا مطلب ہے کہ وقف تام ہو گیا۔ لہذا زمین واقف کی ملکیت سے مکمل طور پر نکل گئی ہے۔ اب واقف کسی اور کو نہ تو مالک بناسکتا ہے کہ موقوفہ زمین بیچ کر اس کی رقم مذکورہ امام کو متبادل زمین خریدنے کے لیے دے۔ اور نہ ہی وہ خود اس کا مالک بن سکتا ہے کہ اسے اپنے اختیار سے واپس اپنی ملکیت میں لے کرآئے۔ پھر کہیں اور اس موقوفہ زمین کی متبادل زمین بیچ کر اس کی رقم متعلقہ امام کے حوالے کر دے۔
چنانچہ آپ کے والد کی وقف کردہ زمین وقف ہی رہے گی۔ البتہ جس امام صاحب کی آپ نے بات کی ہے، اگر وہ چاہے تو اس زمین پر خود مدرسہ کی تعمیر کرسکتا ہے۔ یا پھر کسی اور باصلاحیت عالم دین کو ڈھونڈ کر اس وقف شدہ زمین کو مقصودہ کام کے لیے کارآمد بنایا جائے۔
حوالہ جات
درر الحكّام في شرح غرر الأحكام : (2/134)
"(وإذا لزم) الوقف (وتم لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه (ولا يملك) أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه".
رد المحتار على الدر المختار : (13/416)
"(فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)".
"(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه (ولا يملك) أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه."
فتح القدير : (6/220)
"(قوله: وإذا صح الوقف) أي لزم، وهذا يؤيد ما قدمناه في قول القدوري وإذا صح الوقف خرج عن ملك الواقف. ثم قوله (لم يجز بيعه ولا تمليكه) هو بإجماع الفقهاء."
سید سمیع اللہ شاہ سید جلیل شاہ دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
5/ جمادی الاولی/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب |


