| 88840 | نماز کا بیان | نماز کےمتفرق مسائل |
سوال
فرض نماز کے قعدہ اولیٰ میں امام جب تک کھڑا نہ ہو تو مقتدی درود اور دعا پڑھ سکتے ہیں کیا اور اگر خاموش رہے گا تو کیوں ؟ تفصیل درکار ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر مقتدی قعدہ اولٰی میں امام سے پہلےتشہد مکمل کرلے تو اب امام کے اُٹھنے تک مقتدی پرخاموش رہنا لازم ہے۔درود ودعا نہیں پڑھ سکتا ،اس لیے کہ قعدہ اولٰی میں تشہد کے علاوہ درود و دعا پڑھنا درست نہیں ۔ نیز جماعت کی نماز میں امام کی متابعت واجب ہے، لہٰذا جب تک امام بیٹھا ہو مقتدی پر بھی امام کی اتباع لازم ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار (ص71) :
ولو فرغ المؤتم قبل إمامه سكت اتفاقا.
حاشية ابن عابدين (1/ 511):
قوله: سكت اتفاقا لأن الزيادة على التشهد في القعود الأول غير مشروعة كما مر؛ فلا يأتي بشيء من الصلوات والدعاء وإن لم يلزم تأخير القيام عن محله، إذ القعود واجب عليه متابعة لإمامه.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
6/جمادی الاولٰی/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


