| 88838 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
ہم ایک رجسٹرڈ ویلفیئر ادارہ چلارہے ہیں، جس کے تحت یتیم، نادار اور غریب گھرانوں کے بچوں کو مفت تعلیم دیتے ہیں۔ایک وقت تقریباً 1500 کے قریب بچے زیر تعلیم تھے،جوکہ اب وسائل کی قلت کے باعث کم ہوگئے ہیں۔ ان بچوں کو (فنڈ دستیابی کی صورت میں) اسکالرشپ،انعامات ، راتوں کو سڑک پر چیزیں فروخت کرنے والے بچوں کی فیملی سپورٹ کےلیے وظائف بھی دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ غریب خواتین کیلیے ہنر پروگرام بھی ہے۔ نیز ایک پورا الگ نظام دسترخوان اور صفائی مہم کا بھی ہے، کچھ عرصہ قبل فنڈز کی کمی کی وجہ سے قرضہ لینے کی نوبت آئی، جسے اضافی رقم کے ساتھ واپس کرنا تھا۔اس وقت مسئلہ معلوم نہیں تھا ،بعد میں معلوم ہوا کہ یہ اضافی رقم واپس کرنا سود ہے۔
دوسری اہم بات یہ کہ قرضہ ادارے کو نہیں مل سکتا تھا، کیونکہ قرض دینے والا کا کہنا یہ تھا کہ ویلفیئر ادارے سے واپسی لینا مشکل ہوسکتا ہے ،لہذا ادارے کی نمائندگی کرنے والے افراد کو دیا جائے گا، تاکہ واپس لینا آسان ہو۔نمائندوں نے یہ قرضہ وصول کرکے ادارے کی ضروریات پر خرچ کردیا۔ادارے میں فنڈ کی قلت کے باعث قرضے کی ادائیگی میں مسلسل تاخیر ہورہی ہے اور وہ افراد ہم سے قرضہ واپس مانگ رہے ہیں۔ہم اس سے پہلے اپنے کاروبار ،حتی کے گھر کی چیزیں،گاڑیاں وغیرہ فروخت کرکے اس ادارے میں لگاچکے ہیں اور مستقل بنیادوں پر ذمہ دار افراد ہی اس میں فنڈ دیتے ہیں باہر سے فنڈ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن اب ہم میں بھی مزید گنجائش نہیں کہ یہ قرضہ اپنی طرف سے ادا کرسکیں، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ :
1۔کیا یہ قرضہ ہمارے ذمے شمار ہوگا یا ادارے پر؟
2۔اگر ادارے پر ہے تو کیا زکاة وصول کرکے اس قرضے کو ادا کیا جاسکتا ہے؟یا صرف نفلی صدقات سے ادا کرنا لازم ہے یا پھر کسی بھی مد سے نہیں ادا کیا جاسکتا، بلکہ الگ سے خاص اسی مقصد کے لیے کوئی مہم چلاکر رقم جمع کرنا ضروری ہے؟
3۔اگر ادارے پر ہے یا ہم پر تو واپس صرف اصل رقم کریں گے یا سود سمیت؟قرضہ دینے والا اضافے سمیت مطالبہ کرتا ہے۔
4۔اگر ادارے پر ہو اور زکوة سے قرضہ واپس نہیں کیاجاسکتا تو کیا زیرِ تعلیم غریب مستحق بچوں سے زکاةکی وصولی اور اخراجات کا وکالت نامہ بھرواکر پھر وصول ہونے والی زکاة سے ادا کیا جاسکتا ہے؟
5۔اگر وکالت نامہ لیا جاسکتا ہے تو کیا صرف مستحق بالغ بچوں سے لیا جاسکتا ہے یا نابالغ بچوں سے بھی؟ اگر نابالغ بچوں سے لیا جاسکتا ہے تو کیا صرف وصولی کا لیا جاسکتا ہے یا وصولی اور خرچ کرنے دونوں کا؟
6۔اگر زکاة سے براہ راست ادا نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی کوئی وکالت نامہ لیا جاسکتا ہے تو کیا اس کا کوئی دوسرا جائز متبادل حل ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ شریعت کا یہ اصول ہے کہ استقراض یعنی قرض لینے میں وکالت کا معاملہ کرنا شرعاً درست نہیں، بلکہ اگر کسی شخص نے دوسرے کو اپنے لیےقرض لینے کا وکیل بنایا تو فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس کی دو صورتیں ذکر فرمائی ہیں:
پہلی صورت: وکیل نے قرض دینے والے سے یہ کہا کہ مجھے فلاں شخص نے قرض لینےکے لیے بھیجا ہے، لہذا آپ اس کے لیے اتنی رقم بطورِ قرض دے دیں تو اس صورت میں اس قرض کی ادائیگی موکل یعنی بھیجنے والے کے ذمہ لازم ہو گی اوراس وکیل کی حیثیت محض قاصد (پیغام پہنچانے والا) کی ہو گی۔
دوسری صورت: اگر اس وکیل نے اپنے موکل کی طرف نسبت کیے بغیر صرف یہ کہا کہ اتنا قرض دے دو اوردوسرے شخص نے قرض دے دیا تو اس صورت میں اس قرض کی ادائیگی وکیل یعنی قرض لینے والے کے ہی ذمہ لازم ہو گی، اگرچہ اس کے دل میں اپنے موکل کے لیے قرض لینے کی نیت ہو۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں جب قرض دینے والے نے صراحت کی تھی کہ ہم ادارے کی بجائے اس کے نمائندگان کو قرض دیں گے، تاکہ قرض واپس لینا آسان ہو، اس لیے اب اس قرض کی ادائیگی ادارے کے نمائندگان کے ہی ذمہ لازم ہو گی، یعنی اس قرض کی واپسی کا مطالبہ انہیں نمائندگان سے ہی ہو گا، باقی ادارہ سے اس قرض کی وصولی کا جواب آئندہ سوال کے جواب میں آ رہا ہے۔
2۔ مذکورہ صورت میں اگرچہ قرض کی ادائیگی قرض لینے والوں کے ذمہ لازم ہے، لیکن چونکہ ادارہ کے نمائندگان نے یہ قرض ادارہ کے اخراجات میں اس کے نمائندہ ہونے کی حیثیت سے خرچ کیا ہے، اس لیے وہ یہ حضرات رقم ادارے سے وصول کر کے قرض کی ادائیگی کر سکتے ہیں، اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو کوئی چیز خریدنے کا وکیل بنائے تو خریدوفروخت کے تمام احکام جیسے خریدی گئی چیز پر قبضہ کرنا، عیب نکلنے کی صورت میں اس کو واپس کرنا اور ثمن یعنی فروخت کنندہ کوچیز کی قیمت ادا کرنا وغیرہ سب وکیل سے ہی متعلق ہوتے ہیں، لیکن وکیل نے اگر اپنی جیب سے چیز اس کی قیمت ادا کی ہے تو اس کو اپنے موکل سے اس کی مکمل قیمت واپس لینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔
لہذا جب ادارے سے قرض کی رقم وصول کرنے کا حق ہے تو ادارے میں زکوة، صدقات اور عطیات وغیرہ کی جتنی بھی مدات موجود ہیں ان میں سے کسی بھی مد کے ذریعہ اس قرض کی ادائیگی کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ ادارے میں زکوةاورصدقاتِ واجبہ کی وصولی شرعی تملیک کے طریقہ کے مطابق ہو، یعنی ادارے نے مستحق زکوة بالغ حضرات سے زکوة کی وصولی اور پھر حسبِ صوابدید خرچ کرنے کی دونوں وکالتیں لے رکھی ہوں۔
3۔ قرض پر اضافی رقم لینے کا معاہدہ سودی ہے، جس کی شرعاً بالکل اجازت نہیں ہے، اس لیے اولا تو دونوں فریقوں پر اس معاہدہ کی وجہ سے سچے دل سے اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرنا ضروری ہے، دوسری بات یہ کہ آپ حضرات کے ذمہ شرعاً اصل رقم کی ادائیگی ہی واجب ہے، اضافی رقم دینا آپ کے لیے ہرگز جائز نہیں، اضافی رقم دینے کی صورت میں رقم دینے والا اور لینے والا دونوں فریق گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوں گے، تاہم اگر دوسرا فریق جبرا سود وصول کرے تو یہ اضافی رقم آپ کو اپنے پاس سے ادا کرنا ہو گی، ادارے سے یہ رقم نہیں لے سکتے، کیونکہ سودی معاہدہ کرنے کے آپ خود ذمہ دار ہیں۔
4۔جی ہاں! زیرِ تعلیم عاقل بالغ اور غیرہاشمی مستحقِ زکوة بچوں سے زکاةکی وصولی اور اخراجات کا وکالت نامہ لےکر وصول ہونے والی زکاة سے بھی یہ قرض ادا کیا جاسکتا ہے۔
5۔زکوة کی وصولی اور خرچ کے لیے حیلہٴ تملیک کے طور پر عاقل بالغ غیر ہاشمی طلباء سے ہی وکالت نامہ لیا جا سکتا ہے، کیونکہ سمجھدار نابالغ مستحقِ زکوة (جس کی اپنی ملکیت اور اس کے ولی کی ملکیت میں سونا،چاندی،نقدی، مال تجارت اور ضرورت سے زائد گھریلو سامان میں سے کوئی ایک یا زیادہ چیزیں ایسی نہ ہوں کہ جن کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر ہو) بچوں سے اگرچہ شرعازکوة کی وصولی کا وکالت نامہ لیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ زکوة کی وصولی کا شرعی معنی سمجھتے ہوں، لیکن ان سے زکوة خرچ کرنے کا وکالت نامہ لینا درست نہیں، البتہ اگر ادارے کے پاس صرف نابالغ بچے ہی ہوں تو ایسی صورت میں نابالغ بچے کا ولی جیسے والد اگر مستحقِ زکوة ہو تو اس سے وکالت نامہ لینا درست ہے، اور يہ وکالت نامہ زکوة کی وصولی اور اس کے حسب صواب دید خرچ کرنے دونوں کا لیا جا سکتا ہے، نیز یہ وکالت نامہ ہر سال لینا ضروری ہے، تاکہ اگر کوئی طالب علم یا نابالغ بچے کا ولی صاحبِ نصاب ہو جائے تو اس کی طرف سے وکالت کا معاملہ ختم کیا جا سکے۔
6۔ اس کا جواب گزشتہ سوالات کے جوابات کے تحت گزر چکا ہے۔
حوالہ جات
مجمع الضمانات (ص: 248) الناشر: دار الكتاب الإسلامي،بيروت:
ولو بعث رجلا إلى رجل ليقرضه فأقرضه فضاع من يده فلو قال الرسول أقرض للمرسل ضمن مرسله، ولو قال: أقرضني للمرسل ضمن رسوله والحاصل أن التوكيل بالإقراض جائز وبالاستقراض لا يجوز، ولو أخرج وكيل الاستقراض كلامه مخرج الرسالة يقع القضاء للآمر، ولو أخرجه مخرج الوكالة بأن يضيفه إلى نفسه يقع للوكيل وله منعه من آمره، من المشتمل.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (5/ 167) الناشر: دار الفكر-بيروت:
والحاصل: أن التوكيل بالإقراض جائز لا بالاستقراض والرسالة بالاستقراض تجوز، ولو أخرج وكيل الاستقراض كلامه مخرج الرسالة يقع القرض للآمر، ولو مخرج الوكالة بأن أضافه إلى نفسه يقع للوكيل وله منعه عن آمره اه.
قلت: والفرق أنه إذا أضاف العقد إلى الموكل بأن قال إن فلانا يطلب منك أن تقرضه كذا صار رسولا والرسول سفير ومعبر بخلاف ما إذا أضافه إلى نفسه بأن قال: أقرضني كذا أو قال: أقرضني لفلان كذا، فإنه يقع لنفسه، ويكون قوله لفلان بمعنى لأجله، وقالوا إنما لم يصح التوكيل بالاستقراض، لأنه توكيل بالتكدي وهو لا يصح.
حاشية الشلبي على تبيين الحقائق (4/ 257) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:
قوله: (لكن التوكيل بالاستقراض باطل) قال قاضي خان - رحمه الله - وإن وكل بالاستقراض إن أضاف الوكيل الاستقراض إلى الموكل فقال: إن فلانا يستقرض منك كذا أو قال أقرض فلانا كذا كان القرض للموكل وإن لم يضف الاستقراض للموكل يكون القرض للوكيل اهـ
صحيح مسلم (3/ 1218) دار إحياء التراث العربي – بيروت:
عن عبد الله، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله»، قال: قلت: وكاتبه، وشاهديه؟ قال: «إنما نحدث بما سمعنا»
فیض القدیرلعبدالرؤوف المناوي: ٩/٤٤٨٧، مکتبۃ نزار مصطفی الباز:
''قولہ علیہ السلام: (کل قرض جر منفعۃ) إلی المقرض (فهو ربا) أي في حکم الربا، فیکون عقد القرض باطلا، فإذا شرط في عقدہ ما یجلب نفعاً إلی المقرض من نحو زیادۃ قدر أو صفۃ، بطل''.
الفتاوى الهندية (1/ 190) الناشر: دار الفكر،بيروت:
ولو دفع الزكاة إلى مجنون أو صغير لا يعقل فدفع إلى أبويه أو وصيه قالوا لا يجوز كما لو وضع على دكان ثم قبضها فقير لا يجوز، ولو قبض الصغير، وهو مراهق جاز، وكذا لو كان يعقل القبض بأن كان لا يرمي، ولا يخدع عنه، ولو دفع إلى فقير معتوه جاز كذا في فتاوى قاضي خان.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 140) دار الكتاب الإسلامي:
الرابع في شرائطها وهي أنواع ما يرجع إلى الموكل وما يرجع إلى الوكيل وما يرجع إلى الموكل به فما يرجع إلى الموكل كونه ممن يملك فعل ما وكل به بنفسه وسنتكلم عليه عند شرح الكتاب وما يرجع إلى الوكيل فالعقل فلا يصح توكيل مجنون وصبي لا يعقل لا البلوغ والحرية.
البناية شرح الهداية (9/ 227) دار الكتب العلمية – بيروت:
والصبي الذي يعقل البيع والشراء، إذا كان مأذونا له في التجارة؛ لأن توكيل الصبي المأذون غيره جائز كسائر تصرفاته، بخلاف ما إذا كان الصبي محجورا حيث لا يجوز له أن يوكل غيره.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 142) دار الكتاب الإسلامي، بيروت:
(قوله إذا كان الوكيل يعقل العقد ولو صبيا أو عبدا محجورا) بيان للشرط في الوكيل فلا يصح توكيل غير العاقل وفي يتيمة الدهر وذكر السرخسي في الوكالة في باب البيع والشراء وإن كان الوكيل مجنونا فبيعه باطل فإن كان يعقل البيع والشراء فهو بمنزلة الصبي المحجور عليه وذكر في باب توكيل الزوج بالطلاق ولو وكل مجنونا بطلاق امرأته فقبل الوكالة في حال جنونه ثم أفاق فهو على وكالته لأن بالإفاقة يزداد التمكن من التصرف ولا يزول ما كان ثابتا اهـ.
وذكر في الهداية أنه يشترط أن يكون الوكيل ممن يعقل العقد ويقصده فقال الشارحون: إن المراد بعقل العقد أن يعرف أن الشراء جالب للمبيع سالب للثمن والبيع على عكسه ويعرف الغبن الفاحش من اليسير والمراد بقصده أن يقصد ثبوت الحكم أو الربح للاحتراز عن بيع المكره والهازل فإنه لا يقع عن الآمر اهـ.
الفتاوى الهندية1/189، باب المصرف، کتاب الزکاة، ط: رشیدیة:
'' لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصاباً أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلاً عن حاجته في جميع السنة، هكذا في الزاهدي، والشرط أن يكون فاضلاً عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان، كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب، وإن كان صحيحاً مكتسباً، كذا في الزاهدي. .......ولا يدفع إلى بني هاشم، وهم آل علي وآل عباس وآل جعفر وآل عقيل وآل الحارث بن عبد المطلب، كذا في الهداية ۔ ويجوز الدفع إلى من عداهم من بني هاشم كذرية أبي لهب؛ لأنهم لم يناصروا النبي صلى الله عليه وسلم، كذا في السراج الوهاج. هذا في الواجبات كالزكاة والنذر والعشر والكفارة، فأما التطوع فيجوز الصرف إليهم، كذا في الكافي''.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
6/جمادی الاولیٰ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب |


