| 88896 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
میں سعودی عرب میں ملازم تھا، میں نے ایک آدمی سے رقم قرض لی، کچھ عرصہ بعد نوکری ختم ہو گئی ،اور پاکستان آگیا ۔اس وقت ایک ریال 27 روپے کا تھا ،اور اب 75 روپے کا ،اب مجھے کس حساب سے رقم واپس کرنا ہو گی 27 روپے سے یا 75 روپے سے؟
تنقیح:سائل سے زبانی رابطہ کرنے سے معلوم ہوا،کہ سائل نے کسی سے ریال قرض لیے تھے،اور قرض لیتے وقت کسی بات کی صراحت نہیں کی کہ واپسی میں ریال دےگا، یا کوئی اور کرنسی دےگا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قرض میں جو چیز جتنی مقدار میں لی جاتی ہے ،وہی چیزاسی مقدار میں واپس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ آپ نے جتنے ریال قرض لیے تھےاتنے ریال واپس کرنا ضروری ہے۔ باہمی رضا مندی سے ریالوں کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے،لیکن اس میں ادائیگی کے دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا،قرض لینے والی تاریخ کا اعتبار نہ ہوگا۔
حوالہ جات
قرض میں جو چیز جتنی مقدار میں لی جاتی ہے ،وہی چیزاسی مقدار میں واپس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ آپ نے جتنے ریال قرض لیے تھےاتنے ریال واپس کرنا ضروری ہے۔ باہمی رضا مندی سے ریالوں کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے،لیکن اس میں ادائیگی کے دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا،قرض لینے والی تاریخ کا اعتبار نہ ہوگا۔
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 162):
وإن استقرض دانق فلوس أو نصف درهم فلوس، ثم رخصت أو غلت لم يكن عليه إلا مثل عدد الذي أخذه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 520):
فإنه إذا بقي كيله على حاله وانتقصت قيمته لا يسقط شيء من الدين، لأن الفائت مجرد وصف وبفواته في المكيلات والموزونات لا يسقط شيء من الدين.
المحيط البرهاني (7/ 129):
أن الواجب على المستقرض رد مثل ما قبض وعلى الغاصب كذلك، وقد حصل قبض الفلوس وهي رائجة، فيجب رد مثلها من ذلك الضرب رائجة، وقد عجز عن تسليمها رائجة بالكساد، كما أن غاصب الرطب عجز عن تسليم الرطب بالانقطاع إلا أن غاصب الرطب عجز عن رد الأصل.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (5/ 366):
والقرض هو أن يقرض الدراهم والدنانير أو شيئا مثليا يأخذ مثله في ثاني الحال.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
09/جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


