| 88847 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عرض یہ ہے کہ ہمارے علاقے کی ایک بستی ہے جس میں صرف ایک دینی مدرسہ قائم ہے۔اسی بستی میں اس وقت ارتداد اور دینی بگاڑ تیزی سے پھیل رہا ہے، یہاں تک کہ کئی بچیاں مذہبِ اسلام کو ترک کر چکی ہیں۔اسی دینی و اصلاحی ضرورت کے پیشِ نظر اس مدرسے میں بچیوں کے لیے چار سالہ عالمیت کا کورس شروع کیا گیا ہے۔ اس نظامِ تعلیم میں اساتذہ مرد حضرات ہیں،(کیونکہ جو اساتذہ صبح میں ابتدائی و دینیات کے طلباء کو پڑھاتے ہیں وہی بچیوں کو پردہ کے ساتھ پڑھاتے ہیں کیونکہ صبح تمام بچے اسکول چلے جاتے ہیں) اور طالبات مکمل پردے اور برقعہ کے اہتمام کے ساتھ تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ (کمرہ میں پردہ لگا ہوا ہے استاد پردہ کے اِس طرف اور بچیاں پردہ کے اُس طرف) اساتذہ بھی پردے کی مکمل رعایت کے ساتھ تدریس انجام دیتے ہیں۔ مدرسہ غیر اقامتی ہے، مدرسہ صرف بستی کے لوگوں کے تعاون سے چلایا جاتا ہے، چندہ زکوٰۃ، صدقات یا دیگر شرعی مصارف کی رقوم استعمال نہیں کی جاتیں۔استفسار یہ ہے کہ: کیا پردے کے مکمل اہتمام کے ساتھ مرد اساتذہ کا بچیوں کو تعلیم دینا شرعاً درست ہے یا نہیں۔ براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں شرعی رہنمائی فرمائیں۔اللہ تعالیٰ آپکو جزائے خیر عطا فرمائے، علم و عمل میں برکت دے، اور دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگراساتذہ پردے کے ایک جانب ہوں اورطالبات دوسری جانب،توپڑھانے کی گنجائش ہے،بشرطیکہ طالبات سے کسی قسم کی بےتکلفی اور ہنسی مذاق نہ ہو،نیزطالبات کی نگرانی کے لیےان کے پاس معلمہ موجود ہو، البتہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ طالبات کومعلمات ہی پڑھایاکریں ۔
حوالہ جات
(الأحزاب:53):
وَإِذَا سَأَلتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حجاب.
تفسير ابن كثير - ط ابن الجوزي (6/ 223):
{وإذا سألتموهن متاعا فاسألوهن من وراء حجاب} أي: وكما نهيتكم عن الدخول عليهن كذلك لا تنظروا إليهن بالكلية، ولو كان لأحدكم حاجة يريد تناولها منهن، فلا ينظر إليهن ولا يسألهن حاجة إلا من وراء حجاب .
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (10/ 216):
وفيه جواز كلام المرأة وسماع صوتها للأجانب عند الضرورة كالاستفتاء عن العلم والترافع في الحكم والمعاملة.
الدرالمحتار الحلبي (1/ 406):
(وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة).
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 371):
فينبغي أن يعلم امرأة تداويها فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو يصيبها وجع لا تحتمله يستروا منها كل شيء إلا موضع العلة ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع.
الموسوعة الفقهية الكويتية(اختلاط، 2/290-291):
اختلاط الرجال بالنساء: يختلف حكم اختلاط الرجال بالنساء بحسب موافقته لقواعد الشريعة أو عدم موافقته، فيحرم الاختلاط إذا كان فيه:
أ - الخلوة بالأجنبية، والنظر بشهوة إليها.
ب - تبذل المرأة وعدم احتشامها.
ج - عبث ولهو وملامسة للأبدان كالاختلاط في الأفراح والموالد والأعياد، فالاختلاط الذي يكون فيه مثل هذه الأمور حرام، لمخالفته لقواعد الشريعة.
ويجوز الاختلاط إذا كانت هناك حاجة مشروعة مع مراعاة قواعد الشريعة.
عزیزالرحمن
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
09جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


