03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
باہرکی کرنسی خریدکرمہنگی ہونےکےبعدبیچنا؟
89216خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

کچھ مالیاتی مسائل کے حل کے لئے آپ کو درج ذیل سوالات کے جوابات کے لیےزحمت دے رہا ہوں۔

سوال : باہر کی کرنسی خرید کر کچھ مدت گزرنے کے بعد فروخت کی جائے اور مقامی کرنسی کی قدر گرجانے کی وجہ سے زیادہ رقم ملے تو کیا اس زائد رقم کو سودکہاجائے۔

گزارش ہےکہ  ان سوالات کے جوابات شریعت کی روشنی مرحمت فرما کر مشکور فرمائیں۔ جزاک اللّہ خیر۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 شرعایہ معاملہ جائزہے،اس کو سود نہیں کہاجائےگا،البتہ اس کےلیےضروری ہوگاکہ  اگرادھارپرمعاملہ ہوتو مارکیٹ ریٹ پرہو۔

واضح رہےکہ کسی ملک کی کرنسی کوسستی قیمت میں خریدکرکچھ مدت رکھنےکےبعداگراسے مہنگےداموں بیچنےسےملکی معیشت یاعوام کو معتدبہ نقصان پہنچنےکاخطرہ ہوتواس صورت میں یہ ذخیرہ اندوزی کےحکم میں ہوگا،اورناجائزہوگا،ایسی صورت میں اس سےبچنا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

مشروع القانون الاسلامی للبیوع والدیون 22،23:

النقود الورقیۃ لایجوز مبادلتھا بالتفاضل اوالنسیئۃ فی جنس واحد،اما اذااختلف جنسھما مثل ان تباع الربیات الباکستانیۃ بالریالات السعودیۃ فیجوز فیھا التفاضل وتجوز فیہ النسئۃ بشرط ان یقبض احدالعاقدین مااشتراہ وان کان الآخر مؤجلا وبشرط ان یکون التبادل بسعر یوم العقد ۔

"بدائع الصنائع " 5/ 129:

"ويكره الاحتكار.....

ثم الاحتكار يجري في كل ما يضر بالعامة عند أبي يوسف - رحمه الله - قوتا كان أو لا وعند محمد - رحمه الله - لا يجري الاحتكار إلا في قوت الناس وعلف الدواب من الحنطة والشعير والتبن والقت.

(وجه) قول محمد - رحمه الله - أن الضرر في الأعم الأغلب إنما يلحق العامة بحبس القوت والعلف فلا يتحقق الاحتكار إلا به (وجه) قول أبي يوسف - رحمه الله - إن الكراهة لمكان الإضرار بالعامة وهذا لا يختص بالقوت والعلف".

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

06/جمادی الاولی      1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب