03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جمعہ کی نماز نکل جائے توکیاکرے؟
88846نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

السلام علیکم کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ایک بندہ کہتا کہ جمعہ کی جماعت میں وضو ٹوٹ گیا پہلی صف میں تھا وضو نا کر سکا تو اب اس نے ظہر پڑھنی ہے یا جمعہ کی جماعت جو درمیان میں رہ گئ ہے والسلام فیصل اصغر

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی اور مسجد میں جمعہ کی جماعت میں شریک ہونا ممکن ہو تو اس میں شریک ہوکر جمعہ کی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔اور اگر جماعت نہ ملے تو ظہر کی  چاررکعات نماز ادا کرنا ہوگی ۔ یاد رہے کہ جمعہ کی نماز انفرادی طورپر  ادا نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کی انفرادی طورپر قضا کی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 82)

ومن شرائطها "الجماعة " لأن الجمعة مشتقة منها، وأقلهم عند أبي حنيفة رحمه الله ثلاثا سوى الإمام .

المحيط البرهاني (2/436)

على قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى أصل الفرض في هذاالوقت هو الظهر وقد أمرنا بإسقاطه بالجمعة.

المحيط البرهاني (2 /468)

فإذا صلى الظهر يوم الجمعة قبل فراغ الإمام فقد خالف أمر الشرع فذا يكره  . وهذا بخلاف ما بعد فراغ الإمام من الجمعة فإن بعد فراغ الإمام من الجمعة  سقط عنه الأمر بإقامة الجمعة ولزمه أداء الظهر ..

امداداللہ بن مفتی شہید اللہ

دارالافتاءجامعۃالرشید، کراچی

07/05/1447

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب