03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رسم ورواج والی تقریب میں شرکت کا حکم
88894سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان)متفرّق مسائل

سوال

 مفتیانِ کرام اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں: ہمارے یہاں نکاح کے رسوم و رواج میں سے ایک رسم ہے جو ’’رات جاگہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تقریب نکاح سے ایک دن پہلے ہوتی ہے۔ اس میں عام طور پر مسجد کے امام کو بلایا جاتا ہے، اور وہ قرآنِ پاک کی تلاوت، بیان اور دعا کرتے ہیں۔ اس کے بعد کھانا پینا ہوتا ہے۔ یہ تقریب لڑکے اور لڑکی دونوں کے یہاں علیحدہ علیحدہ منعقد کی جاتی ہے۔ اسی رات کو لڑکے اور لڑکی کو مہندی لگائی جاتی ہے، اور اب تو بعض جگہوں پر ہلدی لگانے کا بھی رواج شروع ہو گیا ہے۔ اس میں پھوپھی کو پیسے دیے جاتے ہیں اور کچھ دیگر تحائف بھی دیے جاتے ہیں۔ مردوں اور عورتوں کا بھی اختلاط ہوتا ہے، پردے کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔ کیا ایسی تقریب میں ان رسوم و رواج کے ساتھ کسی بھی امام یا مسلمان کو شرکت کرنی چاہیے؟ والسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دلہن کا مہندی لگانا یا رنگ صاف کرنے کے لیے  ہلدی لگانا جائز ہے، البتہ شادی کی  تقریبات  کے طور پر مہندی اور مایوں کی رسم قابل ترک ہے۔ شادی ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے۔اسے شریعت نے سادہ رکھا ہے،ولیمہ کے علاوہ کوئی مستقل تقریب مسنون نہیں ۔لہذا مہندی اور مایوں کی رسم ترک کرنا ضروری ہے، پھر اگر ان تقاریب میں مرد بھی مہندی لگائیں یا بے پردگی یا اختلاط ہو تو یہ مزید خرابی کا باعث ہوگا، خاص طور پر ائمہ کرام کو ایسی تقریب میں شرکت سے گریز کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

سنن أبي داود  ط: دار الرسالة العالمية    (6/ 144 ):

عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « من تشبه بقوم فهو منهم.»

لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح  ط: دار النوادر  (7/ 356):

"وهو بإطلاقه يشمل الأعمال والأخلاق."

    فيض القديرط:  المكتبة التجارية الكبرى (6/ 104):

" أي:  تزيا في ظاهره بزيهم وفي تعرفه بفعلهم وفي تخلقه بخلقهم وسار بسيرتهم وهديهم في ملبسهم وبعض أفعالهم."

المعجم الكبير للطبراني ط: مكتبة ابن تيمية (11/ 252):

عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «‌لعن ‌الله ‌المتشبهين من الرجال بالنساء، ولعن المتشبهات من النساء بالرجال.»

نيل الأوطارط: دار الحديث مصر  (6/ 230):

"فيه دليل على أنه يحرم على الرجال التشبه بالنساء، وعلى النساء التشبه بالرجال في الكلام واللباس والمشي وغير ذلك ."

شرح النووي على مسلم ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت (6/ 172):

"وفي هذه الأحاديث استحباب وعظ النساء وتذكيرهن الآخرة وأحكام الإسلام وحثهن على الصدقة، وهذا إذا لم يترتب على ذلك مفسدة وخوف على الواعظ أو الموعوظ أو غيرهما، وفيه أن النساء إذا حضرن صلاة الرجال ومجامعهم يكن بمعزل عنهم خوفا من فتنة أو نظرة أو فكر."

محمد جمال

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

9/جمادی الاولی/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب