| 88891 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے دادا کے پانچ بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔دادا نے بیٹی کی شادی اپنی زندگی میں ہی کردی تھی ۔دادا کے انتقال کے بعد بھائیوں نے زمین آپس میں تقسیم کر لی ،اور بہن کو اس میں سے کوئی حصہ نہیں دیا۔کیا شرعا بہن کو وراثت میں حصہ دینا فرض ہے ؟ اور اگر اس وقت اس کو حصہ نہیں دیا گیا تھا تو اب اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے دادا کی میراث میں ان کے بیٹوں کے ساتھ بیٹی بھی حق دار ہے ۔آپ کے والد اور چچاوں کا جائیداد آپس میں تقسیم کرنا اور آپ کی پھوپھی کو نہ دینا ظلم اور ناجائز ہے ۔شرعا ان پر لازم ہے کہ اپنی بہن کا شرعی حصہ ان کو دیں۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي. 29/ 139:
وللبنت الواحدة إذا انفردت النصف ثبت ذلك بالنص وهو قوله تعالى {وإن كانت واحدة فلها النصف} [النساء: 11] واستدلالا أيضا بميراث الأخت فقد قال الله تعالى {وله أخت فلها نصف ما ترك} [النساء: 176] والبنت أقرب إليه من الأخت فإن كن ثلاثا فصاعدا فلهن الثلثان بالنص وهو قوله تعالى {فإن كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك} [النساء: 11] فهذا تنصيص على أنه لا يزاد للبنات على الثلثين عند الانفراد، وإن كثرن {فإن كانتا اثنتين فلهما الثلثان} [النساء: 176] في قول عامة الصحابة - رضوان الله عليهم - وهو قول جمهور الفقهاء.
الفتاوى الهندية 6/ 448:
وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.
سنن ابن ماجه (4/ 9 ت الأرنؤوط):
حدثنا سويد بن سعيد، حدثنا عبد الرحيم بن زيد العمي، عن أبيه عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من فر من ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة.
مشکا ۃ المصابیح،2/887)
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين.
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
10/جمادی الاولی /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


