| 88556 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
میرا نام نجم الدین ولد شوکت علی مگسی ہے،میرے بیٹے (شہویز مگسی ولد نجم الدین) کی شادی کراچی میں اپنی خالہ کی لڑکی (مریم جلیل زبیدی) سے دسمبر 2022 میں ہوئی۔ حقِ مہر پندرہ لاکھ روپے مقرر ہوا۔
میرا بیٹا (شہویز مگسی) بیرونِ ملک امریکہ میں ملازمت کرتا ہے۔ شادی کے بعد وہ اپنی بیوی (مریم جلیل زبیدی) کو امریکہ لے گیا۔ دونوں پاکستانی شہری ہیں۔ بیٹا (شہویز مگسی) ویزے پر وہاں ملازمت کرتا ہے اور بیوی وہاں گھریلو خاتون (ہاؤس وائف) ہے۔
1. لڑکے (شہویز مگسی) نے مورخہ 13-08-2025 کو زبانی طور پر تین مرتبہ طلاق دے دی ہے۔ اب لڑکی پاکستان میں ہے۔
2. لڑکے (شہویز مگسی) نے اپنے والد نجم الدین کو اسپیشل پاور آف اٹارنی پاکستان ایمبیسی نیویارک، امریکہ سے تصدیق شدہ دے دی ہے تاکہ پاکستان میں طلاق کے معاملے کو تحریری صورت میں مکمل کرے اور تنسیخِ نکاح کو یونین کونسل میں رجسٹر کروا سکے۔
سوال:
کیا اٹارنی (وکیل) تحریری طور پر طلاق دے سکتا ہے یا تحریری صورت میں لڑکی کو طلاق بھیج سکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ آپ کے بیٹے (شہویز مگسی) نے 13-08-2025 کو زبانی طور پر تین طلاقیں دے دی ہیں، لہٰذا شرعاً نکاح پہلے ہی ختم ہوچکا ہے اور اب صرف یونین کونسل میں تنسیخِ نکاح کا اندراج باقی ہے، جو ایک قانونی کارروائی ہے، شرعاً اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ قانونی کارروائی جہاں مؤکل خود انجام دے سکتا ہے، وہیں وکیل کے ذریعے بھی انجام دی جا سکتی ہے۔ لہٰذا مسئولہ صورت میں اٹارنی (وکیل) کا شوہر کی واقع کردہ زبانی طلاق کو تحریر میں لا کر بیوی کی طرف بھیجنا جائز ہے۔
حوالہ جات
قال العلامۃ الحصکفی(3/146):
هو… رفع قید النکاح فی الحال او المال بلفظ مخصوص هو ما اشتمل علی الطلاق… ومحلہ المنکوحۃ… ورکنہ لفظ مخصوص خال عن الاستثناء۔
وفی الہندیۃ:
(الطلاق) شرعا فہو رفع قید النکاح حالا او مالا بلفظ مخصوص کذا فی البحر الرائق واما رکنہ فقولہ انت طالق ونحوہ کذا فی الکافی… واما حکمہ فوقوع الفرقۃ بانقضاء العدۃ فی الرجع وبدونہ فی البائن وزوال حل المناکحۃ متی تم ثلاثا کذا فی محیط السرخسی۔ (فتاویٰ عالمگیریۃ ۱:۳۴۸ کتاب الطلاق الباب الاول)
قال العلامۃ ابن عابدین:
ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب؛ ولو استكتب منآخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة."(کتاب الطلاق،باب صریح الطلاق ج نمبر ۳ ص نمبر ۲۴۷،ایچ ایم سعید)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
27/3/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


