| 88862 | زکوة کابیان | مستحقین زکوة کا بیان |
سوال
السلام علیکم مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں مذکورہ مسئلہ کے بارے میں کہ ہم آٹھ بھائی ہیں ہماری پیداوار کی زمین مشترکہ ہے اور ہم میں سے ایک بھائی فوت ہو چکا ہے۔ اب ہمارے پاس بھنگ کی پیداوار تیار ہو چکی ہے اب جو عشر یا نصف عشر نکالیں گے تو وہ فوت شدہ بھائی کے بیوی اور بچوں کو دے سکتے ہیں ؟ نیز فوت شدہ بھائی کے عشری حصہ کے ساتھ کیا کریں جو عشر نکالنے میں شریک ہے؟ عشر کا وہ حصہ بھی اسکے بچوں کو دے سکتے ہیں یا کسی اور کو دیں؟ برائے مہربانی اس سے متعلق جتنی وضاحت ہے اس سے مجھے آ گاہ فرمالیں۔
تنقیح:
فون پر رابطہ کرنے پر مستفتی نے بتایا کہ ہمارے بھائی کا انتقال دس سال پہلے ہوا ہے، اور ان کے بچے سب بالغ ہیں سوائے بچی کے جو کہ نابالغ ہے اور ان کے حصے کا جو بھی پیداوار نکلتا ہے وہ ہم ان کی بیوی اور بچوں کو دیتے ہیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فوت شدہ بھائی کی بیوی اور اولاد بھائی کے انتقال کے فورا بعد ان کی تمام اشیاء کے وارث بن گئے۔ اب بھائی زمین کا مالک نہیں رہا، بلکہ وہ زمین ان کی بیوی اور بچوں کی ملکیت بن گئی ہے اور اپنی ملکیت کا عشر خود نہیں رکھا جاتا بلکہ مستحقین کو دیا جاتا ہے۔
اگر فوت شدہ بھائی کی اولاد اور بیوی کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے یہ لوگ صاحب نصاب بنیں (یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کےبقدر پیسہ نہ ہو) تو باقی سات بھائی اپنے حصے کا اتنا عشر ان کو دے سکتے ہیں جس سے وہ صاحب نصاب نہ بنیں ،اور اگر وہ صاحب نصاب ہیں تو ان کو عشر نہیں دے سکتے۔
حوالہ جات
سورة النساء اٰية (12)
وَلَكُم نِصفُ مَا تَرَكَ أَزوَٰجُكُم إِن لَّم يَكُن لَّهُنَّ وَلَد فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَد فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكنَ مِنۢ بَعدِ وَصِيَّة يُوصِينَ بِهَآ أَو دَين وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكتُم إِن لَّم يَكُن لَّكُم وَلَد فَإِن كَانَ لَكُم وَلَد فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكتُمۚ مِّنۢ بَعدِ وَصِيَّة تُوصُونَ بِهَآ أَو دَين وَإِن كَانَ رَجُل يُورَثُ كَلَٰلَةً أَوِ ٱمرَأَة وَلَهُۥٓ أَخٌ أَو أُخت فَلِكُلِّ وَٰحِد مِّنهُمَا ٱلسُّدُسُۚ فَإِن كَانُوٓاْ أَكثَرَ مِن ذَٰلِكَ فَهُم شُرَكَآءُ فِي ٱلثُّلُثِۚ مِنۢ بَعدِ وَصِيَّة يُوصَىٰ بِهَآ أَو دَينٍ غَيرَ مُضَآرّ وَصِيَّة مِّنَ ٱللَّهِ وَٱللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيم۔
الدر المختار مع رد المحتار(3/295)
(و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية۔
الفتاوی الھندیۃ(1/208)
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي.
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
10/05/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


