03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ، بیوہ، دو بہنوں اور چھ بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم
88867میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

1۔ ایک شخص فوت ہوا، اس کے وارثان میں چھ بیٹیاں، ایک بیوہ، والدہ اوردو بہن ہیں، اس ترکہ کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ اب اس والدہ فوت ہو گئی۔

2۔  اب  والدہ کا حصہ کسی کو دیں؟ یا خیرات کردیں اور متروکہ جائیداد میں زرعی رقبہ ،ایک پلاٹ ،نقدی اورسونے کی انگوٹھی جو شادی کے وقت ملی تھی۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ مرحوم کی والدہ جب فوت ہوئیں تو ان کے ورثاء میں صرف ان کے چچا زاد بھائی اور ماموں زاد بھائی بہنیں موجود ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الادء ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، البتہ اگر کسی نے بطور تبرع یہ اخراجات ادا کر دیے ہوں تو پھر ان اخراجات کو نکالنے کی ضرورت نہیں،  اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض  ادا کیا جائے، اس کے بعد  ترکہ کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک   مرحوم کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل کیا جائے گا، اس کے بعد جو تركہ باقی بچے اس  میں سے چھٹا حصہ مرحوم کی والدہ کو، آٹھواں حصہ بیوی کو، دو ثلث چھ بیٹیوں کو ملے گا اور ان سب کو دینے کے بعد جو ترکہ باقی بچ جائے وہ مرحوم کی دو بہنوں کے درمیان  برابر تقسیم کیا جائے گا، تقسیمِ میراث کا  تفصیلی نقشہ یہ ہے:

نمبر شمار

وارث

   عددی حصہ

    فيصدی حصہ

1

والدہ

24

16.666%

2

بیوی

18

12.5%

3

بیٹی

16

11.111%

4

بیٹی

16

11.111%

5

بیٹی

16

11.111%

6

بیٹی

16

11.111%

7

بیٹی

16

11.111%

8

بیٹی

16

11.111%

9

بہن

3

2.09%

10

بہن

3

2.09%

11

مجموعہ

144

100

حوالہ جات

السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 231):

[أحوال الأم في الميراث] قال - رحمه الله - (وللأم) (الثلث) وذلك عند عدم الولد وولد الابن لما تلونا، وعند عدم الاثنين من الإخوة والأخوات على ما نبين قال - رحمه الله - (ومع الولد أو ولد الابن أو الاثنين من الإخوة والأخوات لا) أي مع واحد من هؤلاء المذكورين لا ترث الثلث، وإنما ترث السدس لما تلونا لقوله تعالى {فإن كان له إخوة فلأمه السدس} [النساء: 11].

2۔ اس کے بعد جب مرحوم کی والدہ کا انتقال ہوا تو ان کو اپنے مرحوم بیٹے سے ملنے والے حصہ سمیت بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحومہ  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الادء ہو، يہ  سب ان  کا ترکہ ہے۔اس میں سے مرحومہ کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض  ادا کرنےاورترکہ کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک   مرحومہ کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل  کرنےکے بعد جو تركہ باقی بچے وہ سب مرحومہ کے صرف چچا زاد بھائیوں (ان کے ساتھ چچا زاد بہنیں شریک نہیں ہوں گی)  میں برابر تقسیم کیا جائے گا اورمرحومہ کے ماموں زاد بھائی شرعا اس کی میراثے کے حق دارنہیں ہیں، کیونکہ چچا زاد بھائیوں کی موجودگی میں ماموں زاد بھائی وارث نہیں ہوتے۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

10/جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب