03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بوقت نکاح مرض چھپانے اور اس سے ہونے والے نقصان کا حکم
88863طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرا نام وحید احمد ہے میرا  نکاح2021 میں ہوا اور اگست 2021 میں رخصتی عمل میں آئی ۔ نکاح کے وقت دلہن کو Systemic Lupus Erythematosus (SLE) نامی دائمی بیماری لاحق تھی، جس نے دماغ اور اور کولہے کے بڑے جوڑوں کو بھی شدید متاثر کیا ہوا تھا۔ جن کو شادی کے بعد تبدیل کیا گیا ہے۔ لڑکی کے اولیاء/اہلِ خانہ نے یہ بیماری مجھ سے چھپائی حالانکہ ڈاکٹر نے نکاح نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ میں نے اس تدلیس کے باوجود چار سال تک رشتہ نبھانے اور علاج میں تعاون کی کوشش کی، مگر میرے لیے ازدواجی زندگی برقرار رکھنا ممکن نہ رہا اور میں نے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ا س بارے میرے کچھ سوالات ہیں ان کا جواب مرحمت فرمائیں۔

 سوال نمبر 1: کیا اس حالت میں مجھے شرعاً فسخِ نکاح کا حق حاصل ہے؟

سوال نمبر 2: ولی یا اہلِ خانہ جنہوں نے بیماری چھپائی، ان کی وجہ سے جو مجھے مالی نقصان ہوا (مثلاً شادی کے اخراجات، حقِ مہر وغیرہ)، اس ازالے کا ذمہ دار شرعاً کون ہوگا؟

 سوال نمبر 3: کیا میں مذکورہ بالا حالات میں ازالۂ نقصان کا شرعی طور پر مطالبہ کر سکتا ہوں؟

تنقیح:

سائل سے فون پر استفار کرنے پر سائل نے بتایا کہ بیماری کی حالت یہ کہ لیوپس کا بیوی کے دماغ پر اثر کرنے کی وجہ سے جب دماغی دورہ پڑتا ہے تو دو مہینوں تک اس کی ریکوری نہیں ہوتی اور اس دوران گھر کا کام نہیں کرتی، کسی کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتی، خود کو ہرچیز میں درست سمجھتی ہے ، اپنی بات منوانے کی کوشش کرتی رہتی ہے ۔

مزید کہا کہ ازدواجی تعلق قائم رہتا ہے لیکن اس سے بیوی کو انفیکشن ہوتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

لڑکی کے والدین کو  نکاح کے وقت  بیماری چھپانے کی بجائے ظاہر کرنا چاہیے تھا،تاہم اس کے باوجود جب آپ نے نکاح قبول کرلیا تو وہ آپ کی بیوی بن گئی اور آپ کے ذمہ مہر واجب ہوگیا، اور جو دیگر اخراجات آپ نے کیے وہ آپ نے اپنی بیوی پر کیے ہے۔

1: اس بیماری کی صورت میں آپ کو طلاق کا حق  حاصل ہے تاہم اگر آپ نکاح باقی رکھیں گے تو یہ آپ کی طرف سے اس بےبس عورت پر احسان ہوگا، جسے اللہ تعالی بہت پسند فرماتے ہیں اور آپ کو اس پر اجر ملے گا۔

2:ولی / اہل خانہ  نے اگر  لڑکی کی بیماری چھپائی تو وہ اس کی وجہ سے مہر اور دیگر شادی کے اخراجات کے ذمہ دار نہیں ہوں گے، کیونکہ جب لڑکی آپ کی بیوی بن گئی تو مہر اس کا حق ہے اور جو مزید اخراجات آپ نے کیے وہ آپ نے اپنی بیوی پر کیے جس کا کوئی اور ذمہ دار نہیں ہے۔

3: آپ ولی / اہل خانہ سے مذکورہ بالا صورت حال میں ازالہ نقصان کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔

حوالہ جات

سنن ابن ماجہ حدیث نمبر (2018)

عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللّهِ الطَّلَاقُ.

الہدایۃ (3/70)

     وإذا‌‌ خلا الرجل بامرأته وليس هناك مانع من الوطء، ثم طلقها فلها كمال المهر.

الدر المختار مع ردالمحتار (5/6)

(من غالب حاله الهلاك بمرض أو غيره بان أضناه مرض عجز به عن إقامة مصالحه خارج البيت) هو الأصح كعجز الفقيه عن الإتيان الى المسجد وعجز السوقي عن الإتيان إلى دكانه، وفي حقها أن تعجز عن مصالحها داخله كما في البزازيه، ومفاده أنها لو قدرت على نحو الطبخ دون صعود السطح لم تكن مريضه.قال في النهر: وهو الظاهر.

الدر المختار مع رد المحتار  (4/240)

(‌والخلوة) ‌مبتدأ ‌خبره ‌قوله ‌الآتي: كالوطئ (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطئ (وطبعي) كوجود ثالث عاقل.ذكره ابن الكمال، وجعله في الأسرار من الحسي، وعليه فليس للطبعي مثال مستقل (وشرعي) كإحرام لفرض أو نفل.(و) من الحسي (رتق) بفتحتين: التلاحم (وقرن) بالسكون عظم (وعفل) بفتحتين غدة(وصغر) ولو بزوج (لا يطاق معه الجماع و) بلا وجود ثالث معهما ولو نائما أو أعمى (إلا أن يكون) الثالث(صغيرا) لا يعقل بأن لا يعبر عما يكون بينهما (أو مجنونا أو مغمى عليه) لكن في البزازية: إن في الليل صحت لا في النهار، وكذا الأعمى في الأصح (أو جارية أحدهما) فلا تمنع، به يفتى. مبتغى (والكلب يمنع إن) كان (عقورا) مطلقا. وفي الفتح: وعندي أن كلبه لا يمنع مطلقا (أو) كان(للزوجة وإلا) يكن عقورا وكان له (لا) يمنع، وبقي منه عدم صلاحية الماكن كمسجد وطريق وحمام وصحراء وسطح وبيت بابه مفتوح، وما إذا لم يعرفها.

زبیر احمد بن شیرجان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

10/05/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب