03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شرکت و مضاربت کے متفرق مسائل
88885شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

(1) شرکت یا مضاربت میں کاروباری ویلیو اور انویسٹر کے سرمایے کا تناسب ظاہر کرنا(بوقت عقد) شرعاً لازم ہے یا نہیں؟

آج کل کئی کاروباری حضرات یا کمپنیاں مختلف افراد سے کسی  ضرورت وغیرہ کی بنا پر   سرمایہ (Investment) لیتی ہیں ۔ یہ سرمایہ عموماً شراکت داری (Partnership) یا مضاربت (Mudarabah)  کے تحت لیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے چند مسائل پائے جاتے ہیں:

  • کمپنی یا کاروبار انویسٹر کو یہ ظاہر نہیں کرتا کہ اس وقت اس کے کاروبار کی کل مالیت (Total Business Valuation) کتنی ہے؟اس کے اثاثے، برانڈ، کسٹمر بیس، یا مارکیٹ میں کیا پوزیشن ہے؟اس کی سالانہ یا ماہانہ سیلز اور سرکولیشن کتنی ہے؟
  • اسی طرح انویسٹر سے جو سرمایہ لیا جاتا ہے، اسے بھی یہ وضاحت نہیں کی جاتی کہ اس کےد یے  ہوئے سرمایہ کا  موجودہ کاروبار میں تناسب کتنا ہے؟یعنی وہ اس پورے کاروبار میں کتنے تناسب کا مالک یا شریک ہے۔
  • کمپنی اس طرزِ عمل کے حق میں عموماً یہ دلیل دیتی ہے کہ یہ معلومات کاروباری راز (Confidential Data) میں شامل ہیں اور سیکیورٹی یا مارکیٹ مقابلے (Market Competition) کی وجہ سے ہم یہ تفصیل ظاہر نہیں کر سکتے۔بس سرمایہ دیں اور وقتاً فوقتاً نفع لیتے رہیں۔

(2) کیا شرعاً شرکت یا مضاربت میں یہ لازمی ہے کہ انویسٹر کو یہ بتایا جائے کہ کاروبار کی کل موجودہ مالیت کیا ہے؟

(3)کیا لازمی ہے کہ انویسٹر کو یہ بتایا جائے کہ کاروبار کی ماہانہ یا سالانہ سیلز کتنی ہے؟

(4) کیا لازمی ہے کہ انویسٹر کو یہ بتایا جائے کہ مجموعی طور پر وہ کس نوعیت کے سیٹ اپ میں شریک ہو رہا ہے؟

(5)اگر انویسٹر کو یہ علم ہی نہ ہو کہ اس کا سرمایہ اس پورے کاروبار کے اندر کتنے فیصد کے برابر ہے؟تو کیا یہ شرکت یا مضاربت شرعی اصولوں کے مطابق درست ہوگی؟

(6)کیا اس قسم کے معاہدے میں انویسٹر کا نفع لینا درست ہو گا؟جبکہ وہ اپنے سرمایے کے تناسب، یا کاروبار کی مالیت سے لاعلم ہو؟

(7)نیز اس صورت کے بارے میں شرعاً کیا حکم ہے کہ اگر کاروبار یا کمپنی انویسٹر کو تو اوپر ذکرکردہ وجوہات کی بنا پر  کاروبار کی worthکے بارے میں  نہ بتائے لیکن خود کمپنی یا کاروبار کے علم میں ہو کہ کل کاروبار کی مالیت کیا ہے اور اس میں  انویسٹر کی شرکت کا تناسب کیا ہے اور انویسٹر کو طے شدہ تناسب سے نفع دے ۔کیا اس صورت کی شرعاً  گنجائش ہوگی ؟

(8)شراکت سے نکلنے والے انویسٹر کو اندازے سے نفع دینے کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟یہ بھی دریافت کرنا ہے کہ بعض   کاروبار  کسی ضرورت کے تحت کچھ مدت تک کیلئے لوگوں سے انویسمنٹ لے لیتے ہیں اور ضرورت پوری ہونے پر مقررہ مدت پر جب  اس انویسٹر کو کاروبار سے نکالا جاتاہے  تو اس حوالے  سے کچھ کاروبار   چونکہ مکمل یا بروقت حساب کتاب نہ ہوپانے یا مشکل ہونے کی وجہ سے  یوں کرتے ہیں کہ  انویسٹر کااصل سرمایہ  تو جتنا ہوتا ہے، اس کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ  بطور نفع  اندازے سے کوئی رقم، مثلاً:"آپ کا تقریباً اتنا نفع بن گیا ہے" کہہ کر ادا کر دی جاتی ہےاور انویسٹر کو مطمئن کر کے معاملہ ختم کر دیا جاتا ہے۔اب شرعی نقطۂ نظر سے پوچھنا یہ ہے  کہ کیا کسی انویسٹر کو، جب وہ شرکت سے نکل رہا ہو، اندازے سے نفع دینا شرعاً درست ہے جبکہ اصل حساب موجود نہ ہو؟

(9)گڈول (Goodwill) کے بڑھنے کی صورت میں انویسٹر کو اضافی حق ملے گا یا نہیں؟ایک اہم مسئلہ شرکت میں یہ آتا ہے کہ  ایک شخص نے چند سال پہلے ایک کاروبار میں بطور انویسٹر سرمایہ لگایا۔ اُس وقت کمپنی کی گڈ ول (شہرت (Reputation)،کسٹمر بیس ،برانڈ ویلیو،یا مارکیٹ پوزیشن)ایک محدود سطح پر تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ کمپنی کا نام، اثر، کسٹمر نیٹ ورک، اور مارکیٹ ویلیو کئی گنا بڑھ گئی۔ اب وہ انویسٹر کاروبار سے نکلنا چاہتا ہے۔ ایسی صورت میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ :

(10)کیا انویسٹر کو صرف اس کا اصل سرمایہ اور طے شدہ نفع واپس کیا جائے گا ؟یا بڑھتی ہوئی گڈول (Goodwill) میں اس کا بھی کوئی تناسبی حق ہوگا؟

(11)اگر اس کو گڈول میں بھی حصہ دیا جائے تواس کی شرعی بنیاد کیا ہے؟

(12) گڈول کی مالیت کا تعین کن اصولوں پر ہو گا؟موجودہ مارکیٹ ویلیو؟برانڈ نیٹ ورتھ؟یا کسی ماہر کی رپورٹ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

(1،2) چلتے کاروبار میں انویسٹمنٹ کی دو صورتیں جائز ہیں۔

ایک صورت یہ ہے کہ انویسٹر کے سرمایہ سے کاروبار والا جو پروڈکٹ یا مال خرید لے، وہ اس مال کو بالکل الگ رکھے اور اس کے نفع و نقصان کا حساب بھی الگ کرے۔ یہ صورت مضاربت کے طور پر جائز ہے۔ ایسے میں اس پروڈکٹ میں ہونے والا نقصان سارا کا سارا انویسٹر کا ہوگا اور نفع طے شدہ تناسب سے تقسیم ہوگا۔

دوسری صورت یہ ہے کہ کاروبار کا مالک کسی انویسٹر کو اپنے پورے کاروبار میں اپنے ساتھ شریک کرے۔ یہ صورت بطورِ شرکت کے جائز ہے اور اس کے جواز کے لیے شرعاً ضروری ہے کہ جس وقت انویسٹر سرمایہ کاری کرے اس وقت پہلے سے جاری کاروبار کی قیمت لگا کر اس کا حجم معلوم کیا جائے، اور پھر انویسٹر کے سرمایہ سمیت اس پورے کاروبار کی جو قیمت بنے، اس میں مالک کے کاروبار اور انویسٹر دونوں کے سرمایوں کا تناسب طے کیا جائے تاکہ بعد میں نقصان بھی اسی طرح سے اور نفع بھی طے شدہ تناسب سے تقسیم کیا جا سکے۔

 (3) انویسٹر کو ماہانہ یا سالانہ سیلز کے بارے میں بالتفصیل بتانا ضروری نہیں،البتہ اتنا تو بتانا ہوگا کہ کل کاروبار سے ہونے والے نفع میں طے شدہ نفع کی شرح کے مطابق آپ کا حصہ اتنا بنا۔

یاد رہے کہ مضارِب کاروبار سے متعلق جو معلومات نفع و نقصان کے حوالے سے فراہم کرے گا، وہ معلومات درست سمجھی جائیں گی،الا یہ کہ واضح طور پر خیانت کا مرتکب ہورہا ہو تو اس سے اپنی بات کے درست ہونے پر دلیل یا گواہ ،طلب کیے جاسکتے ہیں۔

(4)مضاربت کی دو قسمیں ہوتی ہیں،ایک مضاربت مطلقہ اور دوسری مضاربت مقیدہ۔

مضاربت مطلقہ میں انویسٹر کی طرف سے مضارب کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق کسی نفع بخش اور مفید کام میں سرمایہ لگائےاور وہ کام ایسا ہو کہ تاجر لوگ نفع کمانے کے لیے اس کام اور طریقہ کار کو عموماً اختیار کرتے ہوں۔

            لہٰذا اگر مضاربت مطلقہ ہو تو انویسٹر کو یہ بتادینا کافی ہے کہ کل نفع میں طے شدہ شرح کے مطابق آپ کا حصہ اتنا ہے،باقی تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں۔

البتہ اگر مضاربت مقیدہ ہو مثلاً انویسٹر نے کہا ہو کہ میرے پیسوں سے تم فقط کپڑوں کا کاروبار کرو گے تو مضارِب کے لیے اس طرح کی ہدایات کی پابندی ضروری ہے۔نیز سوال نمبر ایک اور دو کے جواب میں ذکر کردہ پہلی صورت کو اگر اختیار کیا ہو تو اس میں بھی پروڈکٹ وغیرہ  کی تعیین بہرحال ہوجائے گی،اس لیے نزاع کا احتمال باقی نہیں رہے گا۔

خلاصہ یہ کہ تفصیل بتانا مضارِب پر لازم نہیں،البتہ معاملہ کو شفاف رکھنے اور نزاع سے بچنے کے لیے کم از کم اتنی تفصیل ضرور واضح کرے جس سے مضارِب کو بھی ضرر نہ ہو اور انویسٹر کا اعتماد بھی بحال رہے۔

(5،6) شرکت قائم ہوتے وقت فریقین کے راس المال کا تناسب معلوم ہونا ضروری ہے،لیکن اگر کمپنی کے پاس اپنے ریکارڈ کے مطابق اپنے اثاثوں کی قیمت معلوم ہواور وہ انویسٹر کو   بتائے بغیر بوقت شرکت راس المال کا درست تناسب معلوم کرلے تو یہ بھی کافی ہے۔

البتہ معاملہ اگر اتنا مبہم اور غیر شفاف ہو کہ نفع و نقصان کے حساب کےوقت بھی انویسٹمنٹ کے وقت کےسرمایہ کا تناسب معلوم نہ ہوسکے تو یہ نزاع کااور بعد میں حقیقی نفع و نقصان کے مبہم رہنےکا ذریعہ بنے گا اورایسا کرنا جائز نہیں ہے،لہٰذا اگر ایسا کرلیا اور انویسٹمنٹ کے وقت کےسرمایہ کا تناسب بوقت حساب بھی درست معلوم نہ ہوسکا تو ایسی صورت میں شرکت فاسد ہوگی،لہٰذا اب اس ناجائز عمل سے تہہ دل سے توبہ اور آئندہ کے لیے بچنے کے قوی عزم کے ساتھ اس کاروبار  کی تقسیم فریقین کے بیان اور اندازے کی روشنی میں ہوگی۔ پس اگر فریقین کسی اندازے پر متفق ہو کر صلح کر لیتے ہیں تو ٹھیک، ورنہ اس مسئلے کو کسی ایسی پنچائیت میں پیش کیا جائے، جس میں کاروبار کے ماہرین بھی ہوں اور کوئی مستند مفتی بھی ہو، جو دونوں فریق سے اختیار لے کر ان کے بیانات اور قرائن کی روشنی میں منصفانہ تقسیم کر کے اس مسئلے کو حل کرے۔

 (7) جی ،یہ صورت بھی کافی ہے،لیکن معاملے کو شفاف اور واضح رکھنے کے لیے کم از کم اتنی معلومات انویسٹر کو دینا یا اس کی رسائی میں رکھنا بہتر ہے،جس سے مضارب یا کمپنی کو ضرر بھی نہ ہو اور انویسٹر کا اعتماد بھی بحال رہے۔جیسے مستند اداروں سے آڈٹ کرواکر آڈٹ رپورٹ شیئر کردینا وغیرہ

(8) اصولی طور پردو طریقوں میں سے کوئی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے؛

  1. کاروبار یا کمپنی کے تمام اثاثوں کو بیچ کر نقد رقم کی صورت میں لایا جائے اوراخراجات وغیرہ منہا کرکے دیکھا جائے کہ نفع ہوا ہے یا نہیں،اگر نفع ہوا ہے تو انویسٹر کو اس کے سرمایہ کے ساتھ طے شدہ شرح ِ نفع کے مطابق نفع دے دیا جائے۔
  2. دوسری صورت"تنضیضِ حکمی" کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کاروبار کے اثاثوں کو بیچا نہ جائے، بلکہ ان کی قیمت لگائی جائے، اور قیمت کے ساتھ جو نقدی اور دیون ہوں ان کو ملالیا جائے اور ان سب کے مجموعے سے اولاً  سرمایہ کاروں کا سرمایہ منہا کیا جائے، اسی طرح کاروباری اخراجات اور اگر کوئی نقصان ہوا ہو تو ان کو بھی منہا کیا جائے ، اس کے بعد جو کچھ بچے وہ حقیقی نفع کہلائے گا، جو طے شدہ فیصد کے حساب سے شرکاء کے درمیان قابلِ تقسیم ہوگا۔چونکہ اس طرح کرنے سے کاروبار سے نکلنے والے انویسٹر کا نفع معلوم ہوجائے گا لہٰذا اسے اس کے سرمایہ کے ساتھ اس کا نفع دے کر کاروبار سے الگ کردیا جائے۔

 (,10,119) گڈول کے طور پر کاروبار کی جو قیمت طے ہوتی ہے اس کا پس منظر یہ ہے کہ جب کوئی دوسری کمپنی وغیرہ کسی چلتے ہوئے کاروبار یا کمپنی کو خریدتی ہے تو اس کمپنی کے اثاثوں کی قیمت کے علاوہ جو اضافی رقم فقط اس کاروبار کی بااعتماد شہرت وغیرہ کی بنیاد پرادا کرتی ہے،وہ اس کی گڈ ول کہلاتی ہے۔

      مسؤولہ صورت میں اگر کوئی انویسٹر چلتے ہوئے کاروبار یا کمپنی سے نکل کر جارہا ہے تو اس وقت اس کاروبار یا کمپنی کو گڈول کی صورت میں اگرچہ  کچھ ملا نہیں ہوتا،لیکن کاروبار کی موجودہ مالیت میں گڈول کی وجہ سے اضافہ ضرور ہوا ہوتا ہےلہٰذا اس کامدار عرف پر ہوگا کہ کاروبار سے نکل کر جانے والے شریک کو گڈ ول کی مد میں کچھ دیا جائے یا نہیں؟ چنانچہ اگر گڈول کی وجہ سے اضافی حصہ دیے جانے کا عرف ہو تو جانے والے شریک کو وہ  حصہ دیا جائے گا،ورنہ نہیں۔البتہ کاروبار کے اختتام پر موجود شرکاء میں بہرحال گڈول کی مد میں ملنے والی رقم اپنے اپنے حصے کے بقدر تقسیم کی جائے گی۔

 (12)گڈ ول طے کرنے کے اپنے اصول اور ماہرین موجود ہیں، جو قیمت وہ لگائیں اور فریقین اس پر راضی ہوں تو وہ قیمت معتبر ہوگی۔

حوالہ جات

درر الحکام شرح غرر الاحكام: (318/2)

"(وهي) أي شركة العقد (ثلاثة) الأول ( شركة بالاموال و الثاني (شركة بالاعمال وتسمي) هذه الشركة اصطلاحا (شركة الصنائع) شركة (التقبل) وشركة (الابدان) وجه التسية ظاهر (الثالث (شركة الوجوه)۔

المعايير الشرعية (207)

" الأصل أن يكون رأس الشركة موجودات نقدية، يمكن بها تحديد مقدار رأس المال ، لتقرير نتيجة المشاركة من ربح أو خسارة ، ومع ذالك يجوز باتفاق الشركاء الأسهام بموجودات غير ) نقدية (عروض)، بعد تقويمها بالنقد لمعرفة مقدار حصة الشريك ".

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (53/5)

وشرطها أن يكون رأس المال من الأثمان وهو معلوم والربح بينهما شائعا ونصيب كل منهما معلوما وأن يكون معينا مسلما إليه فإن فقد شيء من هذه الأشياء فسدت.

(بدئع الصنائع: 6/95)

(وأما) القسم الذي للمضارب أن يعمله إذا قيل له: اعمل برأيك وإن لم ينص عليه، فالمضاربة والشركة والخلط، فله أن يدفع مال المضاربة مضاربة إلى غيره، وأن يشارك غيره في مال المضاربة شركة عنان، وأن يخلط مال المضاربة بمال نفسه، إذا قال له رب المال : اعمل برأيك، وليس له أن يعمل شيئا من ذلك، إذا لم يقل له ذلك ، أما المضاربة فلأن المضاربة مثل المضاربة.

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (6/ 7)

وإن أراد تجويز الشركة بالعروض فالحيلة في ذلك أن يبيع كل واحد منهما نصف عروض نفسه بنصف عروض صاحبه حتى صار مال كل واحد منهما مشتركاً بينهما شركة ملك، ثم يعقدان عقد الشركة بعد ذلك إن شاءا مفاوضة، وإن شاءا عياناً، وتصير العروض رأس مال الشركة، والعروض بعدما صار مشتركاً بينهما شركة ملك يصلح رأس مال الشركة،  وإن كان قبل ذلك لا يصلح.وكذلك إذا كان لأحدهما دراهم، وللآخر عروض ينبغي أن يبيع صاحب العروض نصف عروضه بنصف دراهم صاحبه، ويتقابضان به مشتركان؛ إن شاءا مفاوضة، وإن شاءا عياناً؛ هكذا ذكر شيخ الإسلام في شرح كتاب الشركة قبل باب بضاعة المفاوض.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 59)

ولو كان من أحدهما دراهم، ومن الآخر عروض، فالحيلة في جوازه: أن يبيع صاحب العروض نصف عرضه بنصف دراهم صاحبه، ويتقابضا، ويخلطا جميعا حتى تصير الدراهم بينهما، والعروض بينهما، ثم يعقدان عليهما عقد الشركة فيجوز.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 63)

(وأما) العلم بمقدار رأس المال وقت العقد فليس بشرط لجواز الشركة بالأموال عندنا، وعند الشافعي - رحمه الله - شرط (وجه) قوله أن جهالة قدر رأس المال تؤدي إلى جهالة الربح، والعلم بمقدار الربح شرط جواز هذا العقد، فكان العلم بمقدار رأس المال شرطا.

(ولنا) أن الجهالة لا تمنع جواز العقد لعينها بل لإفضائها إلى المنازعة، وجهالة رأس المال وقت العقد لا تفضي إلى المنازعة؛ لأنه يعلم مقداره ظاهرا وغالبا؛ لأن الدراهم والدنانير توزنان وقت الشراء، فيعلم مقدارها فلا يؤدي إلى جهالة مقدار الربح وقت القسمة.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

10.جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب