03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فصل بہتر کرنے کے لیے کیے جانے والے اخراجات کس پر ہوں گے؟
88861کھیتی باڑی اور بٹائی کے احکاممتفرّق مسائل

سوال

بعض فصلوں میں مثلا ً ٹماٹر وغیرہ کےلیے چھوٹی چھوٹی لکڑیاں لگانی پڑتی ہیں تاکہ فصل اچھی ہو ،اسی طرح بعض دفعہ پیداوار پر پلاسٹک بھی چڑھایا جاتا ہے تاکہ فصل بہتر ہوسکے تو بٹائی پر زمین دینے کی صورت میں یہ لکڑیوں اور پلاسٹک کا خرچہ شرعا کسی پر آئے گا؟مزارع پر یا زمین دار پر؟ یا مشترک ہوگا؟ کیونکہ کھاد اور سپرے وغیرہ بھی اسی لیے ہوتے ہیں کہ فصل بہتر ہوسکے اور اس کا خرچہ دونوں پر ان کے حصوں کے بقدر ہوتا ہے تو یہی چیز تو پھر پلاسٹک اور لکڑی میں بھی ہے کہ وہ بھی اسی لئے لگائی جاتی ہیں تاکہ فصل بہتر ہو تو وہ بھی پھر دونوں پر ان کے حصوں کے بقدر آنے چاہئیں۔اس حوالہ سے رہنمائی فرمائیں اور اگر دونوں پر یہ اخراجات نہیں آتے بلکہ کسی ایک پر آتے ہیں تو اس کی وجہ بھی اس حوالے سے دیجئے جس طرح سوال میں استفسار کیا گیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں جولکڑیاں اور  پلاسٹک وغیرہ فصل پر چڑھائی جاتی ہے اس کا خرچہ  دونوں پر ان کے حصے کے بقدر آئےگا۔اس لیے کہ مزارع پر صرف وہ اخراجات لازم ہوتے ہیں جن پر فصل کی بقاءاور حفاظت موقوف ہوتی ہےاور وہ اخراجات جو صرف  فصل کی بہتری کے لیے ہوں دونوں پران کےحصےکے بقدر لازم ہوتے ہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية(5/294):

وأما أحكامها: منها: أن كل ما كان من عمل المزارعة مما يحتاج الزرع إليه لإصلاحه فعلى المزارع، وكل ما كان من باب النفقه على الزرع من السرقين وقلع الحشاوه ونحو ذلك فعليهما على قدر حقهما .

البدائع الصنائع(6/182):

منها : أن كل ما كان من عمل المزارعة مما يحتاج إليه لإصلاحه فعلى المزارع؛ لأن العقد تناوله وقد بيناه.(ومنها) : أن كل ما كان من باب النفقة على الزرع من السرقين وقلع الحشاوة، ونحو ذلك فعليهما على قدر حقهما، وكذلك الحصاد والحمل إلى البيدر والدياس وتذريته؛ لما ذكرنا:أن ذلك ليس من عمل المزارعة حتى يختص به المزارع.

محمدوجیہ الدین

دارالافتاءجامعہ الرشیدکراچی  

90/جمادی الاولى/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد وجیہ الدین بن نثار احمد

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب