| 88918 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میری بیٹی کا انتقال ہو چکا ہے ۔ اس کی میرات کے متعلق چند سوال ہیں ۔ ورثاء میں مرحومہ کے ماں باپ،شوہراورایک بیٹی ہے جس کی عمر 4سال ہے۔شوہر کا کہنا ہے کہ ان کو اپنا حصہ نہیں چاہئے۔بیٹی کے ترکہ میں درج ذیل چیزیں ہیں:
١۔ زیور، جو کہ شادی کے وقت سسرال اور میکے دونوں جانب سے اس کو دیا گیاتھا ۔
۲۔ استعمال کی چیزیں جیسے کپڑے ، جوتے ، پرس وغیرہ ہیں۔ مرحومہ نے اپنی زندگی میں اپنی بہنوں کو کہا تھا کہ یہ سب چیزیں تم لوگ لے لینا اور استعمال کرنا۔
۳۔کچھ دیگر سامان جیسے برتن ، AC وغیرہ جو شادی کے وقت والدین نے دیا تھا۔ اس کا کیا حکم ہے ؟
اگر یہ ساماں زیادہ عرصہ نہ رکھا جا سکے تو اس کے استعمال کی کیا صورت ہوگی کیونکہ مرحومہ کی بیٹی ابھی نابالع ہے۔رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شرعاً وہ تمام چیزیں مرحومہ کی ترکہ میں شامل ہوں گی جو بوقتِ موت ان کی ذاتی ملکیت تھیں، جیسے زیور (خواہ میکے یا سسرال سے ملا ہو،بشرطیکہ کہ ملکیت کے طور پر دیاگیاہو)، کپڑے، برتن، اے سی وغیرہ۔
کپڑے اور ذاتی استعمال کی چیزیں اگرچہ مرحومہ نے بہنوں کو دینے کا کہا تھا، لیکن جب تک قبضہ نہ دیا گیا ہو، وہ ترکہ میں شامل رہیں گی، البتہ اگربالغ ورثاء باہمی رضامندی سے وہ چیزیں اپنے حصوں کی حد تک﴿نہ کہ نابالغ بیٹی کا حصہ﴾ بہنوں کو دے دیں تو جائز ہے۔
حقوق متعلّقہ بالترکہ،(قرض اگرہو،وصیت اگر کی ہو﴾ کی ادائیگی کے بعد مذکورہ ترکہ ذکر کردہ وارثوں میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحومہ کے خاوند کو ایک چوتھائی، یعنی ﴿%23.076﴾ ، بیٹی کو نصف یعنی ﴿%46.153﴾ اور باقی ایک چوتھائی والدین میں برابر تقسیم ہوگایعنی ﴿ہرایک کو%15.384﴾ملےگا ۔
کفن دفن کے اخراجات شوہر کے زندہ ہونے کی وجہ سے اس پر ہوں گے۔
اگر شوہر اپنا حصہ واقعةً خوشی سے معاف کرناچاہتاہےتوزبانی معافی توکافی نہیں ،یاتومیراث سے کوئی چھوٹی موٹی چیز لیکرباقی صلحة بخش دےیا دیگرورثہ کو عطیہ کرکے ان کو اپنے درمیان تقسیم کا وکیل بھی بنادےتو اس طرح کرنے سے ان کاحصہ باقی ورثاء کاہوجائےگا اور ان کے حصوں کے مطابق ان میں تقسیم کردیا جائے گا۔
چونکہ بیٹی نابالغ ہے، اس کا حصہ اس کے ولی یعنی والد کے قبضے میں امانت ہے، جسے محفوظ رکھنا اور کسی نفع بخش صورت میں استعمال کرنا ضروری ہے۔ اگر سامان زیادہ عرصہ محفوظ نہ رہ سکے تو اسے بیچ کر رقم بیٹی کے نام محفوظ کر دینا افضل اور شرعاً درست طریقہ ہے۔
حوالہ جات
وفی شرح السراجی فی تعریف الترکة (ص۲۷)
کل مایترکہ المیت من اموال صافیة عن تعلق حق الغیر بعین منھا.
قال في كنز الدقائق :
"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..." (ص:696, المكتبة الشاملة)
قال اللہ تعالی:
{وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ } ....{وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ} [النساء: 12]
وفی البحر الرائق (8/ 567)
والعصبة أربعة أصناف: عصبة بنفسه وهو جزء الميت وأصله وجزء أبيه وجزء جده الأقرب.
وفی تكملة حاشية رد المحتار - (2 / 208)
وفيها: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه.
غمز عيون البصائر - (3 / 354)
قوله لو قال الوارث تركت حقي إلخ اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه أنه إن كان ملكا لازما لم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك بل إن كان عينا فلا بد من التمليك وإن كان دينا فلا بد من الإبراء وإن لم يكن كذلك بل ثبت له حق التملك صح كإعراض الغانم عن الغنيمة قبل القسمة كذا في قواعد الزركشي من الشافعية۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لو قال وارث تركت حقي إلى آخر كلامه وفيه التصريح بأن إبراء الوارث من إرثه في الأعيان لا يصح وقد صرحوا بأن البراءة من الأعيان لا تصحِ.
وفی لسان الحكام - (1 / 236)
وفي جامع الفتاوى ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منه أو من حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه.
وفي الدرالمختار (٦/٢٤٢)
(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي(ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف (وفي) إخراجه عن (نقدين) وغيرها بأحد النقدين لا يصح (إلا أن يكون ما أعطي له أكثر من حصته من ذلك الجنس) تحرزا عن الربا، ولا بد من حضور النقدين عند الصلح وعلمه بقدر نصيبه شرنبلالية وجلالية ولو بعرض جاز مطلقا لعدم الربا، وكذا لو أنكروا إرثه لأنه حينئذ ليس ببدل بل لقطع المنازعة.
و فی الدرالمختار:
(والولاية في مال الصغير) (إلى الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه) إذ الوصي يملك الإيصاء (ثم إلى) الجد.
فی الدر المختار:
(وجاز) لو اتجر من مال اليتيم (لليتيم) وتمامه في الدرر(ج6،ص712،ط:سعید).
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
12/5/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


