| 88879 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
دادا نے اپنے پوتے کے بارے میں اپنے تین بیٹوں کو وصیت کی کہ یہ میرا یہ پوتا (جس کا باپ فوت ہو چکا ہے) میراث میں میرے بیٹوں کے برابرکا حق دار ہو گا اور دادا نے کچھ حصہ اپنی زندگی میں پوتےکو دیا، اب دادا فوت ہو گیا، سوال یہ ہے کہ کیا دادا کی یہ وصیت اپنے پوتے کے حق میں معتبر ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں پوتے کے حق میں دادا کی وصیت شرعاً معتبر ہے اور اس کا لفظِ میراث ذکر کرنا اس بات کی طرف سے اشارہ ہے کہ میری وراثت میں سے میرے اس پوتے کو بطورِ وصیت بیٹوں کے برابر حصہ دیا جائے، لہذا مرحوم کے کل ترکہ کے ایک تہائی میں یہ وصیت نافذ اور واجب العمل ہے، کل ترکہ کا ایک تہائی مذکورہ پوتے کو دینے کے بعد باقی ترکہ مرحوم کے ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا۔
حوالہ جات
الجوهرۃ النیرۃ: (کتاب الوصایا، 287/2، ط: المطبعة الخيرية):
’’الوصية مشروعة بالكتاب والسنة ۔۔ الوصية غير واجبة وهي مستحبة أي للأجنبي دون الوارث ولا تجوز الوصية للوارث إلا أن يجيزها الورثة يعني بعد موته وهم أصحاء بالغون لأن الامتناع لحقهم فيجوز بإجازتهم ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة يعني بعد موته وهم أصحاء بالغون ملخصاً.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
11/جمادی الاولیٰ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


