| 88909 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
میرے بیٹے کو بخار تھا ، ڈاکٹر عمر فاروق نے اسے چیک نہیں کیا، میں اپنے بیٹے کو اپنے پاس لٹا کر بیٹھا ہوا تھا، میری بیٹی کھیل رہی تھی، میری بیوی کھڑی تھی۔ میں اس سے ڈاکٹر عمر کے بارے میں کوئی بات کر رہا تھا جو مجھے یاد نہیں، میں نے کہا "لگدا ہے آپ وی حرام توں پیدا ہویا سی"، یہ بات میں نے ڈاکٹر عمر فاروق کے متعلق کہی، کیا اس بات سے میرے نکاح پر اثر تو نہیں پڑے گا؟ میں نے لفظ آپ ڈاکٹر عمر فاروق کے لیے استعمال کیا میرا خیال ہے کہ لفظ آپ پنجابی زبان میں لفظ خود کے لیے بھی ہوتا ہے ۔ میں کہنا چاہتا تھا کہ لگتا ہے خود بھی حرام سے پیدا ہوا تھا یہ بات میں ڈاکٹر عمر فاروق کے بارے میں کرنا چاہتا تھا ، میں نے پنجابی میں کہالگدا ہے آپ وی حرام توں پیدا ہویا سی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ بالا الفاظ کہنے سے آپ کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ البتہ ایسے کلمات کسی مسلمان کے حق میں کہنا سخت گناہ ہے، جس پر توبہ واستغفار کرنی چاہیے ۔
حوالہ جات
رد المحتار على الدر المختار ط: الحلبي (3/ 230):
"(قوله : وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية."
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 98):
"فركن الطلاق: هو اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة، وهو التخلية والإرسال ورفع القيد في الصريح، وقطع الوصلة ونحوه في الكناية، أو شرعا ، وهو إزالة حل المحلية في النوعين، أو ما يقوم مقام اللفظ."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/جمادی الاولی /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


