| 88908 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
علی کے دل میں موٹر سائیکل چلاتے ہوئے خیال آیا کہ اگر میرے موٹر سائیکل پر طلاق کی تحریر لکھی ہو تو اس سے زینب کو طلاق، علی کے موٹر سائیکل کے رم پر پہلے سے لفظ طلاق تحریر شدہ تھا ،جو کہ علی نے نہیں لکھا تھا ،ٹائر گھوم رہا تھا تب بھی علی نے طلاق کی نیت کی، اور ٹائر کے رکنے پر بھی کی، اور طلاق کا لفظ جو ٹائر کی رم پر لکھا ہوا تھا ظاہر ہوگیاجبکہ علی نے زبان سے نہ طلاق بولااور نہ ہی ہاتھ سے لکھا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق واقع ہونے کے لیے صرف نیت کرلینا کافی نہیں، بلکہ زبان سے کہنا یا ہاتھ سے لکھنا یا لکھے ہوئے پر دستخط کرکے اسے اپنی طرف منسوب کرنا بھی شرط ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں ان میں سے کوئی صورت نہ ہونے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔تاہم ایسی حرکات سے اجتناب ضروری ہے، یہ خلاف احتیاط ہے۔ بعض صورتوں میں طلاق واقع ہوجائے گی اور ہمیشہ کا پچھتاوا ہو گا۔
حوالہ جات
رد المحتار ط: الحلبي (3/ 230):
(قوله: وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية... وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته، فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظا لا صريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لا يقع به طلاق وإن نواه.
حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 219):
"لو أجرى الطلاق على قلبه وحرك لسانه من غير تلفظ يسمع لا يقع وإن صحح الحروف ."
صحيح مسلم (1/ 81):
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: « إن الّله تجاوز لأمتي ما حدثت به أنفسها ما لم يتكلموا أو يعملوا به ».
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/جمادی الاولی /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


