| 88911 | طلاق کے احکام | طلاق دینے اورطلاق واقع ہونے کا بیان |
سوال
کیا یہ فتوی درست ہے جس میں لکھا ہے کہ زید اگر طلاق کی نیت سے تنہائی میں طلاق کا لفظ بیوی کے لیے بولے گا اگرچہ اضافت نہ بھی ہو تو مذکورہ کی بیوی مطلقہ ہو جائے گی؟
سوال: زید نے تنہائی میں صرف لفظِ طلاق کہا، کیا اس لفظ سے طلاق ہو جاتی ہے؟
جواب: اگر زید نے تنہائی میں اپنی بیوی کو طلاق دینے کی نیت سے لفظِ طلاق کہا تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شوہر کا بیوی کے حق میں طلاق کی نیت سے لفظ طلاق کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔اس کے لیے مکمل جملہ کا ہونا یا صریح اضافت کا ہونا ضروری نہیں ۔
حوالہ جات
رد المحتار ط: الحلبي (3/ 248):
"ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق، فقيل له: من عنيت؟ فقال: امرأتي، طلقت امرأته... لو قال: امرأة طالق أو قال : طلقت امرأة ثلاثا وقال: لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك، تطلق امرأته؛ لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله: إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها ؛ لأنه يحتمله كلامه، بخلاف ما لو ذكر اسمها أو اسم أبيها أو أمها أو ولدها، فقال: عمرة طالق أو بنت فلان أو بنت فلانة أو أم فلان، فقد صرحوا بأنها تطلق، وأنه لو قال: لم أعن امرأتي، لا يصدق قضاء إذا كانت امرأته كما وصف."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/جمادی الاولی /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


