03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حقیقی بہن بھائی کی موجودگی میں علاتی بہن بھائی محروم رہتے ہیں
88920میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے والد صاحب نے دو شادیاں کی تھیں۔ پہلی اہلیہ سے اللہ تعالیٰ نے مندرجہ ذیل اولاد عطا فرمائی:

١۔ محمد شوکت حیات قاضی

٢۔ خالد حیات قاضی (درخواست گزار)

٣۔ میری چھوٹی بہن نجم قاضی

میری والدہ کی وفات کے بعد والدِ صاحب مرحوم نے دوسری شادی کی، جس سے ان کو مندرجہ ذیل اولاد ہوئی:

١۔ سات بیٹیاں

٢۔ تین بیٹے

مندرجہ بالا اولاد (سوائے محمد شوکت حیات قاضی کے) اور والدِ مرحوم کی دوسری اہلیہ سب زندہ و سلامت ہیں۔

ازراہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ ہمارے بڑے بھائی محمد شوکت حیات قاضی اکتوبر 2025ء میں وفات پا چکے ہیں۔ ان کا بینک بیلنس اور جائیداد موجود ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ان کی میراث کے شرعی وارث صرف میں اور میری چھوٹی بہن ہیں یا ہمارے ساتھ والدِ مرحوم کی دوسری اہلیہ اور ان کی مذکورہ بالا اولاد کا بھی محمد شوکت حیات قاضی کی میراث میں حصہ ہوگا؟

اور ان سب کے درمیان بینک بیلنس اور جائیداد کی تقسیم کس طرح ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں مرحوم محمد شوکت حیات قاضی کے تمام ترکہ، بمع بینک بیلنس، جائیداد وغیرہ، کے شرعی وارث صرف آپ (خالد حیات قاضی) اور آپ کی بہن نجم قاضی ہیں۔

آپ کے والد کی دوسری بیوی یعنی آپ کی سوتیلی والدہ اور ان کی اولاد (سوتیلے بھائی بہن) محمد شوکت حیات قاضی کی میراث کے شرعی وارث نہیں ہیں، لہٰذا ان کو محمد شوکت حیات قاضی کی میراث سے کچھ نہیں ملے گا۔

حقوقِ متعلقہ بالترکہ — کفن دفن کے اخراجات، قرض اگر ہو، اور ثلث تک وصیت اگر کی ہو — کے نفاذ کے بعد مرحوم کے ترکہ میں آپ، خالد حیات قاضی، کو %66.66667 اور آپ کی بہن نجم قاضی کو %33.33333 حصہ ملے گا۔

حوالہ جات

وفی شرح السراجی فی تعریف الترکة (ص۲۷)

کل مایترکہ المیت من اموال صافیة عن تعلق حق الغیر بعین منھا.

قال في كنز الدقائق :

"يبدأ من تركة الميّت بتجهيزه ثمّ ديونه ثمّ وصيّته ثمّ تقسم بين ورثته،وهم:ذو فرضٍ أي ذو سهمٍ مقدّرٍ..."  (ص:696, المكتبة الشاملة)

قال اللہ تعالی:

يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ، إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ، وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ، فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ، وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ (النساء: 176)

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

12/5/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب