03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مرحوم کے ترکہ کی شرعی تقسیم
88938میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

مرحوم منظور صاحب نے انتقال کے وقت اپنی جائیداد میں اسی (80) لاکھ روپے چھوڑے۔ ان پر ساڑھے چار (4.5) لاکھ روپے کا قرض باقی تھا۔ انہوں نے اپنی تین بھتیجیوں کے لیے وصیت کی تھی کہ ہر ایک کو تین تین لاکھ روپے دیے جائیں، اور اس وصیت پر گواہ موجود ہیں۔مرحوم کے چار بیٹے، تین بیٹیاں اور ایک بیوی وارث ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ قرض اور وصیت کے بعد یہ رقم شرعی طور پر کس طرح ان تمام وارثوں میں تقسیم کی جائے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم......... کے انتقال کے وقت ان کی کل جائیداد اسی (80) لاکھ روپے تھی۔ سب سے پہلے اس میں سے شرعی ترتیب کے مطابق یہ اقدامات کیے جائیں :

  1. تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالے جائیں، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان برداشت نہ کیے ہوں۔
  2. اس کے بعد ان پر جو ساڑھے چار (4.5) لاکھ روپے قرض ہے، وہ ادا کیا جائے گا۔
  3. پھر ان کی وصیت پوری کی جائے گی جو انہوں نے اپنی تین بھتیجیوں کے حق میں  ہربھتیجی کو تین تین لاکھ روپے دینے کے لیے کی ہے۔یاد رہے کہ وصیت صرف ایک تہائی ترکہ کی حد تک نافذ ہوتی ہے، بشرطیکہ ورثاء  اجازت نہ دیں۔

اب باقی بچی ہوئی رقم ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی۔مرحوم کے چار بیٹے، تین بیٹیاں اور ایک بیوی وارث ہیں۔بیوی کو بقیہ کل مال میں سے آٹھواں حصہ ملے گا، کیونکہ مرحوم کی اولاد موجود ہے۔باقی مال اولاد میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا۔یعنی بیٹے کا حصہ بیٹی کے مقابلے میں دوگنا ہوگا۔لہٰذا جب قرض اور تہائی ترکہ تک وصیت ادا کر دی جائے، تو باقی رقم 6,650,000 کو چار بیٹوں، تین بیٹیوں اور بیوی کے درمیان اسی شرعی طریقے سے تقسیم کیا جائے۔ذیل میں تقسیم میراث کا  نقشہ ملاحظہ ہو ۔

نمبرشمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوی

831,250

10.390625%

2

بیٹا

1,057,954.55

13.2244%

3

بیٹا

1,057,954.55

13.2244%

4

بیٹا

1,057,954.55

13.2244%

5

بیٹا

1,057,954.55

13.2244%

6

بیٹی

528,977.27

6.6122%

7

بیٹی

528,977.27

6.6122%

8

بیٹی

528,977.27

6.6122%

 

حوالہ جات

القرآن الکریم: [سورة النساء: 11].

 { يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11].

السراجی فی المیراث، ص5:

قال علماؤنا رحمهم الله  تعالی: تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبة: الأول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غیر تبذیر ولاتقتیر، ثم تقضی دیونه  من جمیع ما بقی من ماله،  ثم تنفذ وصایاه من ثلث ما بقی بعد الدین، ثم یقسم الباقی بین ورثته بالکتاب والسنة وإجماع الأمة.

السراجی فی المیراث، ص 38-36:  

العصبات النسبیة ثلاثة:  عصبة بنفسه، وعصبة بغیره، و عصبة مع غیره. أما العصبة بنفسه فکل ذکر لا تدخل فی نسبته إلی المیت أنثی، وهم أربعة أصناف: جزء المیت، و أصله، و جزء أبیه، و جزء جده، الأقرب فالأقرب، یرجحون بقرب الدرجة، أعنی أولاهم بالمیراث جزء المیت أی البنون ثم بنوهم و إن سفلوا… و أما العصبة بغیره فأربع من النسوة، و هن اللاتی فرضهن النصف و الثلثان، یصرن عصبة بإخوتهن کما ذکرنا فی حالاتهن.  

محمد ابرہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی

14/جمادی الاولی 7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب