03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ماضی کے کسی کام کے ساتھ طلاق کو مشروط کرنا
88961طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

اگر کسی شخص کا دوسرے آدمی پر قرض ہو لیکن قرض خواہ نے مقروض کو کہا کہ میں آپکی قرض ادا کر چکا ہوں لیکن مقروض کہتا ہے کہ آپ نے میرے قرض کو ادا نہیں اگر آپ نے ادا کیا ہو تو مجھ پر میری بیوی کو تین طلاق ہو لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ قرض خواہ نے قرض ادا کیا ہے لیکن مقروض کہتا ہے کہ میرا طلاق کا ارادہ نہیں تھا بلکہ اپنی بات کی تاکید مقصود تھی اسی طرح مجھے سو فیصد یقین تھا کہ قرض خواہ نے میرا قرض ادا نہیں کیا ہےاب تین طلاق واقع ہوجائے گی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔ بلا تاخیر میاں بیوی کو ایک دوسرے سے جدا ہوجانا چاہیے۔ رجوع یا تجدید نکاح کی گنجائش نہیں رہی۔ عورت شوہر کے گھر میں پردے کے ساتھ عدت گزارے گی اور اس کے بعد جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔

یاد رہےطلاق کا لفظ صریح ہے اس لیے نیت کی بھی ضرورت نہیں ،خواہ مقصد کوئی بھی ہو۔ مزیدیہ کہ اس پر استغفار بھی کرنا چاہئے، کیونکہ تین طلاق ایک ساتھ دینا گناہ ہے۔

حوالہ جات

رد المحتار (581/4)

قال العلامۃ ابن عابدین:(قال لها: أنت طالق إن شئت، فقالت شئت إن شئت أنت، فقال شئت ينوي الطلاق أو قالت شئت إن كان كذا لمعدوم) أي لم يوجد بعد كإن شاء أبي أو إن جاء الليل وهي في النهار ( بطل) الأمر لفقد الشرط .

(وإن قالت شئت إن كان الأمر قد مضى) أراد بالماضي المحقق وجوده، كإن كان أبي في الدار وهو فيها، أو إن كان هذا ليلاً وهي فيه مثلا (طلقت) لأنه تنجيز ۔

الفتاوى الهندية (1 / 579):

قال فی الھندیۃ: المعتدۃ عن الطلاق تستحق النفقۃ والسكنی، كان الطلاق رجعياأو بائناً أو ثلاثاً حاملاً كانت المرأة أو لم تكن، كذا في فتاوى قاضيخان.

رد المحتار (461/4)

قال العلامۃ ابن عابدین: قوله: (أو لم ينو شيئاً) لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالماً بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله، كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر.

رد المحتار (628/4)

قال العلامۃ ابن عابدین:(قوْله ولَمْ أرهُ لأحدٍ من علمَائنا،والله أعلم) اعلم أن الْمُقرَّر عندنا أنه يَحْنث بفعل الْمَحلوف عليه ولو مكرها أوْ مُخْطئا أوْ ذاهلًا أوْ ناسِيا أوْ ساهيًا أو مغمى عليْه أَوْ مَجْنُونًا، فإذا كان يَحْنث بفعله مكرها ونحوه فَكيف لا يَحْنث بفعله قصدا مع ظن عدمِ الْحِنْثِ؟نعم صرحوا فِي الْأيمان بأنه لو حلف علَى ماضٍ أو حالٍ يظن نفسه صادقا لا يؤاخذ فيها إلا فِي ثلاث: طلاق وعتاق ونذْر,وقدْ قال الشارح هناك فيقع الطلاق علَى غالب الظن إذا تبين خلافه، وقد اُشتهر عن الشافعية خلافه. اهـ.

ظہوراحمد

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

14جمادی الاولی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب