| 88976 | امانت ودیعت اورعاریت کے احکام | متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک شخص نے ایک چلتی ہوئی دکان کرایہ پر لی۔ دکان کا مالک شہزاد تھا۔ اس نے 5 لاکھ روپے ایڈوانس لیے اور ماہانہ 60 ہزار روپے کرایہ طے ہوا۔ حالانکہ اس لائن میں اسی نوعیت کی دکانوں کا کرایہ 80 ہزار روپے سے کم نہیں تھا، لیکن چونکہ شہزاد نے ایڈوانس زیادہ لیا تھا اور دکان پہلے سے چلتی ہوئی تھی، اس لیے کم کرایہ پر طے ہوگئی۔شہزاد نے بتایا کہ کرایہ دار دکان خالی نہیں کر رہاہے اور نہ ہی کرایہ بڑھا رہا ہے، اس لیے میں یہ دکان تمہیں اس سے لے کر دے رہا ہوں۔ہم نے شہزاد کو 5 لاکھ روپے دیے اور دکان اس سے لے لی۔ دکان میں دودھ کا کاروبار ہوتا تھا، اور ہم نے بھی دودھ ہی کا کاروبار شروع کیا۔ دکان میں دودھ سے متعلق کچھ سامان بھی موجود تھا، جو ہم نے شہزاد سےلے لیا۔تقریباً دو سال تک ہم نے دکان چلائی، اس دوران ہم نے 5 لاکھ روپے ایڈوانس اور سامان کی قیمت کے مدمیں 5 لاکھ شہزاد کو ادا کیے۔ اب معاملہ یہ ہوا کہ ہمیں اس سامان میں ایک فائل ملی ہے جو ہم سے پہلے والے دکاندار کے گھر کی ہے۔اب دکان پر کسی اور نے قبضہ کرلیا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ وہ پہلے والا کرایہ دار ہے( کیونکہ وہ بھی دعویٰ کرتا تھاکہ یہ دکان اس کی ملکیت ہے)یا شہزاد ہے یا کوئی اورتیسرا فریق۔ہمیں 10 لاکھ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوچکا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ:
1. کیا ہم اس فائل کو بیچ (سیل) سکتے ہیں تاکہ اپنا نقصان پورا کرلیں؟
2. یا یہ فائل شہزاد کو دے کر اس سے اپنے 10 لاکھ روپے واپس لے سکتے ہیں، پھر وہ جانے اور پہلا کرایہ دار جانے؟
3. یا ہم یہ فائل پہلے والے کرایہ دار کو واپس کرکے اس سے اپنی قیمت طلب کرسکتے ہیں، کیونکہ ہمیں معلوم نہیں کہ دکان پر قبضہ کس نے کیا ہے؟ براہ کرم ہمارے اس مسئلے کا شرعی حل تحریر فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(١،۲،۳)مذکورہ فائل چونکہ پہلے کرایہ دار کی ملکیت ہے، اس لیے وہ آپ کے پاس امانت ہے، اسے بیچنا یا روک کر نقصان پورا کرنا شرعاً ناجائز اور خیانت ہے۔ آپ کا اصل معاملہ شہزاد کے ساتھ تھا، لہٰذا آپ کو اپنے دس لاکھ روپے کا حق شہزاد سے ہی لینا چاہیے اور اسی کے خلاف شرعی یا قانونی دعویٰ کرنا درست ہے۔ فائل اصل مالک کو واپس کرنا ضروری ہے، کیونکہ امانت کو بغیر اجازت استعمال کرنا یا کسی اور کو دینا گناہ اور ضمان کا باعث بنتا ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی :
اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھلِہَا۔ [النساء: ۵۸]
وقال اللہ فی مقام آخر:
فَلْیُؤَدِّ الَّذِیْ اؤْتُمِنَ أَمَانَتَہُ وَلْیَتَّقِ اللّہَ رَبَّہ (بقرة: ۲۸۳(
وفی تفسیر القرطبی:
وأجمعوا علی أن الأمانات مردودۃ إلی أربابھا الأبرار منھم والفجار (۵/ ۲۵۶)
وقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :
”لَا اِیمانَ لِمَنْ لا أ مانةَ لَہ، وَلَا دِینَ لِمَنْ لَا عَھدَ لَہ“(سنن بیہقی-۱۲۶۹۰(
وفی المرقاةشرح المشکاة :
حق الأمانۃ أن تؤدی إلی أھلہا، فالخیانۃ مخالفۃ لھا (مرقاۃ المفاتیح، مکتبہ أشرفیہ دیوبند ۱/ ۱۲۶)
وفی الفتاوی الھندیة:
الودیعۃ لا تودع، ولا تعار، ولا تؤاجر، ولا ترھن، وإن فعل شیئا منہا ضمن (هندیۃ، کتاب الودیعۃ، الباب الأول، زکریا قدیم ۴/ ۳۳۸، جدید ۴/ ۳۴۹، کذا فی خلاصۃ الفتاوی، کتاب العاریۃ، الفصل الأول، أشرفیہ دیوبند ۴/ ۲۹۱، البحرالرائق، کوئٹہ ۷/ ۲۷۵، زکریا ۷/ ۴۶۷)
المبسوط للسرخسي - (ج 18 / ص 222)
وأما للثاني فلإقراره بأنه كان أمينا من جهته وقد دفع الأمانة إلى غيره وبإقراره صار ضامنا له.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
17/5/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


