03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بوقت ضرورت مشت زنی کرنے کا حکم
88951معاشرت کے آداب و حقوق کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

السلام علیکم!مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میں شادی شدہ ہوں لیکن جب بیوی کو ہم بستری کے لیے کہتا ہوں تو کبھی کبھار انکارکرتی ہے تومیں اپنےشہوت کوکنٹرول نہیں کرسکتا ہوں اور ہاتھ کا استعمال کرتا ہوں اس کے گناہ سے کیسے بچوں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نکاح خوشگوار خانگی تعلقات کے لیے کیا جاتا  ہے،ایک دوسرے کی جنسی ضروریات کا خیال رکھنا بھی اس کے اہم مقاصد میں سے ہے۔ لہذا بیوی کو بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر کو جماع سے منع نہیں کرنا چاہیے، اگر وہ بغیر کسی عذر کے منع کرتی ہے تو گناہ گار ہوگی، ایسی عورت کے متعلق حدیث شریف میں آتا ہے کہ فرشتے رات بھر اس پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ہاں اگر بیوی کو کوئی شرعی عذر ہو یا بیماری لاحق ہو جس کی وجہ سے وہ جماع سے منع کر رہی ہے تو ایسی صورت میں شوہر کو اس کی صحت اور جذبات کا خیال رکھنا چاہیے، ایسی صورت میں ہمبستری کی جگہ اس سے جسمانی تلذذ پر اکتفاء کرنا چاہیے۔

اگر بیوی بغیر کسی عذر کے روکتی ہو تو شوہر کو دوسری شادی کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن ایسی صورت میں بھی شوہر کے لیے غیر شرعی طریقوں سے استفادہ کرنا جائز نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

القرآن الکریم (سورۃ المؤمنون 5-7)

والذین ھم لفروجھم حافظون إلا علی أزواجھم أو ما ملکت أیمانھم فإنھم غیر ملومین فمن ابتغی وراء ذلک فأولئک ھم العادون.

صحیح البخاری حدیث نمبر(5193)

إذا دعا الرجل امرأتہ إلی فراشہ، فأبت أن تجیئ، لعنتھا الملائکۃ حتی تصبح۔

رد المحتار علی الدر المختار (3/3)

قوله:( أي حل استمتاع الرجل) أي المراد أنه عقد يفيد حكمه بحسب الوضع الشرعي. وفي البدائع أن من أحكامه ملك المتعة وهو اختصاص الزوج بمنافع بضعها وسائر أعضائها استمتاعا أو ملك الذات والنفس في حق التمتع على اختلاف مشايخنا في ذلك.

الدر المختار مع ردالمحتار  (3/4)

كلام الشارح والبدائع يشير إلى أن الحق في التمتع للرجل لا للمرأة كما ذكره السيد أبو السعود في حواشي مسكين قال: يتفرع عليه ما ذكره الأبياري شارح الكنز في شرحه للجامع الصغير في شرح قوله عليه الصلاة والسلام (احفظ عورتك إلا من زوجتك أو ما ملكت يمينك) من أن للزوج أن ينظر إلى فرج زوجته وحلقة دبرها، بخلافها حيث لا تنظر إليه إذا منعها من النظر. اهـ. ونقله ط وأقره والظاهر أن المراد ليس لها إجبار على ذلك لا بمعنى أنه لا يحل لها إذا منعها منه؛ لأن من ‌أحكام ‌النكاح حل استمتاع كل منهما بالآخر، نعم له وطؤها جبرا إذا امتنعت بلا مانع شرعي وليس لها إجباره على الوطء بعدما وطئها مرة، وإن وجب عليه ديانة أحيانا على ما سيأتي تأمل.

زبیر احمد بن شیرجان

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

16  /جمادی الاولی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب