03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے جملوں میں اختلاف ہوجائے توکیاحکم ہے؟
88995طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

شوہر نے غصہ میں بیوی کوطلاق کے جملے بولے،اب اس میں اختلاف پایاجاتاہے،شوہرکابیان درج ذیل ہے:

میں نے بیوی کوغصہ کے وقت کہا میں تجھے طلاق دیدوں گا،پھرکہامیں تجھے طلاق دیتاہوں،پھرمیں نےاپنے کپڑے اٹھائے اوراپنی بیوی سے کہاکہ تم ادہررہو،اب میراآپ سے کوئی تعلق نہیں۔

موقع پرموجود شوہرکی والدہ کابیان:میرے بیٹے محمدیوسف نے غصہ میں دومرتبہ کہا میں طلاق دیتاہوں،اس کے بعد میں گھرسے چلی گئی،بعد کامجھے کچھ پتہ نہیں۔

بیوی کابیان:میرے خاوندمحمد یوسف نے غصہ میں دومرتبہ کہامیں تجھے طلاق دیتاہوں،اس کے بعد میرے خاوندنے کپڑے اٹھائے اورجاتے ہوئے کہااس کے بعد میراآپ سے کوئی رشتہ،تعلق نہیں،کوئی امید نہ رکھنا۔

اس تفصیل کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسؤلہ میں  شوہرنے درج ذیل تین جملے بولے ہیں:

۱۔میں طلاق دیتاہوں/طلاق دیدوں گا                 2۔میں طلاق دیتاہوں       3۔ میراآپ سے کوئی تعلق نہیں۔

پہلے جملہ میں  اختلاف ہے،باقی دوجملوں میں کوئی اختلاف نہیں،پہلے جملہ میں اختلاف کامطلب عدد میں اختلاف ہے یعنی شوہرمستقبل کاجملہ کہہ کرطلاق کاانکارکررہاہے اوربیوی حال کابیان دے کرطلاق کے وقوع کادعوی کررہی ہے،لہذااگرعورت کے پاس دومعتبرمرد یاایک مرداوردومعتبرعورتوں کی گواہی موجود ہے توایسی صورت میں عورت کی بات معتبرسمجھی جائے گی اور پہلے دوجملوں سے دوطلاقیں واقع سمجھی جائیں گی، مردکی بات کاکوئی اعتبار نہیں ہوگااوراگرعورت کے پاس گواہان موجود نہ ہوں تو مرد سے قسم لی جائے گی،اگرمردپنچایت یاعدالت میں قسم کھاتاہے کہ اس نے ایک طلاق دی ہے توقضاء ایک طلاق واقع سمجھی جائے گی اوراس صورت میں اگرمردجھوٹاہوتواس کاگناہ اوروبال اسی پرہوگا،باقی آخری جملہ یعنیمیرا آپ سے کوئی تعلق نہیں سے اگرشوہرکی نیت طلاق کی تھی تواس صورت میں اس جملہ سے بھی طلاق واقع سمجھی جائے گی،عورت کے پاس گواہان کی موجودگی کی صورت میں مجموعی طورپرتین طلاقیں واقع ہوجائیں گی اوررجوع یادوبارہ نکاح کی گنجائش باقی نہ رہے گی،اگرشوہرطلاق کی نیت کاانکارکرتاہے توپھرمجموعی طورپردوطلاقیں واقع سمجھی جائیں گی اورایسی صورت میں شوہر عدت  کے اندر بغیرنکاح کے رجوع کرسکتاہے ،رجوع کے لئے قول (یعنی ایسے الفاظ جورجوع پردلالت کریں جیسے شوہریہ کہےکہ میں تجھ سےرجوع کرتاہوں یایہ کہے کہ میں نے اپنی عورت سے رجوع کیاوغیرہ)یافعل (ایساعمل جورجوع پردلالت کرے جیسے بیوی سے ازداوجی تعلق قائم کرلے یابیوی کوشہوت کے ساتھ ہاتھ لگالے وغیرہ ) ان دونوں میں سے کسی ایک سے رجوع ہوسکتاہے،عدت کےبعد صرف نکاح کے ذریعہ رجوع ہوسکےگا،بہرطوررجوع کے بعد شوہرکے پاس آئیندہ ایک طلاق کااختیارباقی رہے گا،لہذاآئیندہ طلاق کے حوالہ سے سخت احتیاط کی ضرورت ہوگی۔

حوالہ جات

فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 9 / ص 181):

 والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه هكذا اقتصر الشارحون وذكر في البزازية وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة يحلفه فإن حلف فالإثم عليه .

ولا فرق في البائن بين الواحدة ، والثلاث  .

فی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 9 / ص 367):

 لم يبق بيني وبينك عمل لم تطلق إلا أن ينوي به النكاح وينوي به إيقاع الطلاق فحينئذ ۔   

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

  ۱۶/جمادی الاولی۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب