03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
الفلاح اسلامک پنشن سکیم کا حکم
88967جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب اس مسئلے میں رہنمائی درکار ہے     کہ میں ایک کمپنی میں جاب کر رہا ہوں  ا  ور  وہ کمپنی ہمیں الفلاح بینک والوں سے پنشن  کی سہولت دیتی ہے ۔ الفلاح بینک والے دو طرح کے موڈ میں یہ سہولت دیتے ہیں، ایک کنونشنل اور دوسرا اسلامک۔ ایمپلائیز کے پاس اختیار ہوتا ہے کہ وہ ان دونوں میں سے کوئی ایک منتخب کریں، اس کے بعد پھر کمپنی اپنی طرف سے 10 فیصد ہماری بنیادی  تنخواہ اور جو  ملازم اپنی تنخواہ سے خود اس میں ڈالے گا ،تو اکاؤنٹ میچورٹی کے حساب سے بندے کو وہ مقدار ملے گی۔ اب مجھے سمجھائیں کہ کیا میں کمپنی سے یہ پینشن  کی سہولت لے سکتاہوں یا نہیں؟ اورازروئے شریعت میرے لیے یہ جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ پینشن تنخواہ کا حصہ نہیں بلکہ ادارے کی طرف سے دیا جانے والا انعام اور تبرع ہے۔ اگرچہ بعض اداروں میں پینشن کا ایک معاہداتی پہلو بھی پایا جاتا ہے، تاہم چونکہ پینشن کی ادائیگی ملازمت ختم ہونے کے بعد ہوتی ہے، اس لیے اسے اجرتِ عمل (تنخواہ) نہیں کہا جا سکتا۔ یوں پینشن اپنی حقیقت میں انعام و تبرع ہے، مگر ظاہری طور پر اجرت سے مشابہ ادائیگی شمار ہوتی ہے۔لہٰذا پینشن کی وہ رقم جو ادارہ کسی ملازم کے نام پر جاری کرے، اس کا وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ وہ ادارہ سودی یا حرام کاروبار میں ملوث نہ ہو۔

صورتِ مسؤلہ میں، جب کمپنی آپ کو الفلاح بینک کے ذریعے اسلامک پینشن اسکیم کی سہولت فراہم کرتی ہے، تو ایسی پینشن لینا شرعاً جائز ہے۔

حوالہ جات

صحيح مسلم للنيسابوري (5/ 50)

عن عبد الله قال لعن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- آكل الربا ومؤكله. قال قلت وكاتبه وشاهديه قال إنما نحدث بما سمعنا.

محمد ابرہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی

27/جمادی الاولی /7144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب