03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تحلیل شرعی کا حکم و طریقہ(حلالہ شرعیہ)
88989طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

میرا ایک دوست ہے، نام صابرہے، ہماری کمیونٹی میں ہے۔ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، اور طلاق صحیح طریقے سے ہوئی ہے  یہ بات پکی ہے۔ دو بچے ہیں، چھوٹے چھوٹے اور بہت پیارے۔ صابر نے پھر ہمارے ایک دوسرے دوست اسامہ کو بتایا کہ اُس نے یہ سب کیا ہے، اب وہ شرمندہ ہے۔ لیکن بچوں کی خاطر وہ "حلالہ" کروانا چاہتا ہے۔ کہنے لگا: "آپ حلالہ کر دیں، تاکہ بچے محروم نہ ہوں۔" یہ بات صابر اور اُس کی بیوی نے باہمی مشورے سے کی کہ بچوں کی زندگی خراب نہ ہو۔ اب اسامہ نے آ کر مجھ سے ذکر کیا، لیکن شروع میں یہ نہیں بتایا کہ یہ معاملہ صابر کا ہے۔ بس عام طور پر پوچھا کہ ایسا مسئلہ ہے، کیا کیا جائے؟ میں نے اُسے سمجھایا کہ یہ "پری پلان حلالہ" ہے، اور ایسا کرنا حرام اور گناہ ہے، اس پر لعنت ہے۔ میں نے کہا: "آپ انکار کر دیں۔" چنانچہ اسامہ نے انکار کر دیا۔ بعد میں اسامہ پر کافی دباؤ ڈالا گیا، تو وہ دوبارہ میرے پاس آیا اور بتایا کہ یہ کام صابر کرنا چاہتا ہے، اور مجھ سے کہہ رہا ہے ،کہ ہماری مدد کرو۔ میں نے پھر اُسے واضح طور پر کہا کہ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں  ایسا کرنا حرام اور سخت گناہ ہے۔ کچھ دن بعد اسامہ نے بتایا کہ وہ دونوں (صابر اور اس کی بیوی) اب مجھ سے کہہ رہے ہیں ،کہ بچوں کی خاطر ہماری مدد کرے تو مجھے کہا کہ آپ حلالہ کریں میں نے کہا: نہیں میں نہیں کرسکتا میں نے پوچھا ،یہ آپ کو صابر نے بتایا کہ جاؤمولانا عبدالعزیز کو بتاو ،کہا نہیں یہ میں اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں آج پھر اسامہ آیا اور کہنے لگا کہ "جب میں بچوں کو دیکھتا ہوں تو دل دکھتا ہے، آپ کچھ کر لیں۔" طلاق کی عدّت بھی گزر چکی ہے، اور یہ بات صرف مجھے اور اسامہ کو معلوم ہے۔ اب میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں کہ: میں کیا کروں؟ اور اسامہ کو کس طرح سمجھاؤں کہ وہ صابر اور اس کی بیوی کو صحیح راستہ دکھائے؟ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ صابر ابھی بھی اپنی بیوی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہ رہا ہے، الگ الگ کمروں میں، تاکہ کمیونٹی کو علم نہ ہو اور بچوں کی زندگی متاثر نہ ہو۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ گناہ ہے۔ میں نے اسامہ کے ذریعے پیغام پہنچایا ہے کہ فوراً الگ ہو جائیں، لیکن وہ اب بھی ساتھ رہ رہے ہیں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ: کیا میں بھی اس گناہ میں شامل شمار ہوں گا؟ کیونکہ میں یہاں مسجد کا امام ہوں۔ مثال کے طور پر میں حلالہ کرو ،پری پلان نہ ہو ،تو کیا مجھے نقصان تو نہیں ہوگا کیونکہ میں نے اسامہ کو کہا کہ اس میں یہ یہ مسائل ہے تو اسامہ نے کہا وہ اپنے بچوں کی خاطر کچھ بھی نہیں کہیں گے، خاموشی ہمیشہ اختیار کریں گے اس بات کی فکر نہ کریں بچوں کی زندگی خراب ہو رہی ہے۔ تو میں کیا کرو ں اور اگر میں نہ کرو ں تو دوسرے شخص کو کس انداز میں بتاؤں گا، کہ وہ سمجھ  جائے کہ یہ حلالہ کی بات کررہے ہیں اور پری پلان نہ ہوجائے براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔

صورت مسؤلہ میں سائل  تین  باتیں معلوم کرنا چاہتا ہے ۔

سوال: اگر امام مسجد کو علم ہو کہ طلاق یافتہ  مرد عورت بغیر نکاح کے ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں، اور وہ انہیں شرعی حکم بتا    چکا ہو ،کہ یہ جائز نہیں ہے، مگر وہ جدائی اختیار نہ کریں ،  تو کیا امام مسجد گناہ گار ہوگا؟

سوال نمبر: اگر کسی شخص کو علم ہو، کہ میاں بیوی حلالہ کروانا چاہتے ہیں، لیکن اس سے باقاعدہ پری پلان نہیں کیا گیا،تو اس صورت میں اس حلالہ کا شرعی حکم کیا ہوگا؟

سوال نمبر: اگر میاں بیوی حلالہ کروانا چاہتے ہوتو پری پلان سے بچنے کے لیے حلالہ کرنے والے شخص کو کس طرح شرعی طور پر سمجھایا جائے کہ یہ حلالہ ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ایسا مرد و عورت جن کا  نکاح ختم ہوگیا ہو ،اور عدت بھی گزر چکی ہوتو انکا ایک ہی گھر میں رہنا جائز نہیں ہے۔اگر امام مسجد نے ان کو ایک گھر میں اکھٹا رہنے سے منع کیا ہو، لیکن وہ پھر بھی رہ رہے ہیں تو صرف وہ مرد و عورت گناہ گار ہوں گے  امام مسجد گناہ گار نہیں ہوگا۔

اگر کسی شخص کو علم ہو کہ میاں بیوی حلالہ کرواناچاہتے ہیں،لیکن  میاں  بیوی میں سے کسی  ایک یا دونوں سے حلالہ کرنے  کی شرط نہ لگائے،اور بغیر شرط کے میاں  بیوی کے درمیان اصلاح کی نیت سے نکاح کرےاور ازدواجی تعلق کے بعدبلا دباؤ طلاق دے دےتو  ایسا کرنا جائز  ہے۔

تاہم اگر میاں بیوی میں سے کسی ایک یا دونوں کے ساتھ حلالہ کرنے کی شرط  لگائے،تو ایسا حلالہ کرنا ناجائزہے۔اور ایسے محلل کے بارے میں وعید بھی ہے۔

مذکورہ صورت میں   سائل چونکہ بذات خود  مسجد کا امام ہے،ان کو خود اس عمل سے بچنا چاہیے۔ تاکہ اس کی ساکھ  خراب نہ ہو اور اس کی دعوتی سرگرمیوں  پر لوگ انگلی نہ اٹھا سکیں ۔

اگر میاں بیوی  کی ضرورت واضح ہوتو  کسی آدمی کو متوجہ کیا جائے کہ میاں بیوی کے درمیان اصلاح  کی نیت سے ایسا کرلے ۔نیز نکاح  کے وقت  طلاق کا اختیار بیوی کو دے دی جائے تو  اس میں اور بھی آسانی ہو جائے گی ۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (1/ 50):

سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ‌من ‌رأى ‌منكم ‌منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان .

شرح الأربعين النووية لابن دقيق العيد (ص112):

وأما قوله: "فليغيره" فهو أمر إيجاب بإجماع الأمة وقد تطابق الكتاب والسنة على وجوب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر وهو أيضا من النصيحة التي هي الدين........ وإذا كان كذلك فمما كلف به المسلم الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فإذافعله ولم يمتثل المخاطب فلا عتب بعد ذلك فإنما عليه الأمر والنهي لا القبول والله أعلم.

ثم إن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فرض كفاية إذا قام به من يكفي سقط عن الباقي وإذا تركه الجميع أثم كل من تمكن منه بلا عذر.ثم إنه قد يتعين كما إذا كان في موضع لا يعلم به إلا هو أو لا يتمكن من إزالته إلا هو وكمن يرى زوجته أو ولده أو غلامه على منكر ويقص.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 474):

رجل تزوج امرأة ومن نيته التحليل ولم يشترطا ذلك تحل للأول بهذا ولا يكرهوليست النية بشيء ولو شرطا يكره وتحل عند أبي حنيفة وزفر - رحمهما الله تعالى - كذا في الخلاصة وهو الصحيح هكذا في المضمرات.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 415):

 (قوله: أما إذا أضمر ذلك) محترز قوله بشرط التحليل (قوله: لا يكره) بل يحل له في قولهم جميعا قهستاني عن المضمرات (قوله: لقصد الإصلاح) أي إذا كان قصده ذلك لا مجرد قضاء الشهوة ونحوها.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 259):

قال رحمه الله (وكره بشرط التحليل للأول) أي يكره التزوج بشرط أن يحلها له يريد به بشرط التحليل بالقول بأن قال تزوجتك على أن أحلك له أو قالت المرأة ذلك. وأما لو نويا ذلك في قلبهما ولم يشترطاه بالقول فلا عبرة به ويكون الرجل مأجورا بذلك لقصده الإصلاح.

المبسوط للسرخسي (30/ 228):

وذكر عن سالم بن عبد الله أنه سئل عن رجل طلق امرأته ثلاثا فانقضت عدتها فتزوجها رجل ليحلها للزوج الأول لم يأمره الزوج بذلك ولا المرأة قال: هذا ما يجوز، وهو قول أبي حنيفة رحمه الله وبه نأخذ؛ لأنه تزوجها نكاحا مطلقا، والنكاح سنة مرغوب فيها، وإنما قصد بذلك ارتفاع الحرمة بينهما ليمنعهما بذلك على ارتكاب المحرم ويوصلهما إلى مرادهما بطريق حلال فتكون إعانة على البر والتقوى، وذلك مندوب إليه.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 476):

وإن خافت المرأة أن لا يطلقها المحلل فقالت: زوجتك نفسي على أن أمري بيدي أطلق نفسي كلما أردت فقبل جاز النكاح وصار الأمر بيدها كذا في التبيين إذا أرادت المرأة أن تقطع طمع المحلل تقول: لا أطاوعك حتى تحلف بثلاث طلقاتي أنك لا تخالفني فيما أطلب منك فإذا حلف مكنته فإذا قربها مرة طلبت منه الطلاق فإن طلقها طلقت وإلا فكذلك كذا في السراجية.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 259):

ولو خافت المرأة أن لا يطلقها المحلل فقالت زوجتك نفسي على أن أمري بيدي أطلق نفسي كلما أردت فقبل جاز النكاح وصار الأمر بيدها.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

17/جمادی الاولی /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب