| 88954 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ محترم مفتی صاحب! گزارش ہے کہ بیع معدوم اور قفیز طحان کے عدم جواز کا حکم کیا نصوصِ صریحہ سے ثابت ہے؟ اگر واقعی نصوصِ قطعیہ سے اس کا عدم جواز ثابت ہو تو پھر عرف کے اعتبار سے بیع معدوم کی بعض صورتوں (جیسے: چیز بنوا کر آرڈر پر خریدنا، یا قفیز طحان کی طرز پر اجرت) کو جواز دینا کس حد تک درست ہوگا؟ نیز کیا یہ عرف کا اعتبار نصوصِ صریحہ کے مقابلے میں نہیں آتا؟ جبکہ اصول یہی ہے کہ عرف کی حجیت نصوص کے تابع ہے، نہ کہ مخالف! برائے مہربانی اس مسئلے میں مفصل اور مدلل شرعی رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً و أحسن الجزاء۔
تنقیح:
سائل سے استفسار کرنے پر سائل نے بتایا کہ شامی میں یہ لکھا ہے کہ عرف کی بنا پر قفیز طحان جائز ہے ۔ اور انہوں نے یہ عبارات بھیجی
- (قولہ: للطحان) أي لمسألۃ قفیز الطحان، وھي کما فی البزازیۃ أن یستأجر رجلا لیحمل لہ طعاما أو یطحنہ بقفیز منہ فالإجارۃ فاسدۃ، ویجب أجر المثل لایتجاوز بہ المسمی (قولہ: لأنہ منصوص) أي عدم الجواز منصوص علیہ بالنھی عن قفیز الطحان و دفع الغزل إلی حائک فی معناہ. قال البیری: و الحاصل أن المشائخ أرباب الاختیار اختلفوا في الإفتاء في ذلک. قال في العتابیۃ: قال أبواللیث النسیج بالثلث و الربع لایجوز عند علمائنا، لکن مشايخ بلخ استحسنوہ و أجازوہ لتعامل الناس، قال: وبہ نأخذ۔
- (قولہ: والحیلۃ أن یفرز الأجر أولا) أي ویسلمہ إلی الأجیر، فلوخلطہ بعد و طحن الکل ثم أفرز الأجرۃ و رد الباقي جاز، ولایکون في معنی قفیز الطحان إذلم یستأجرہ أن یطحن بجزء منہ أو بقفیز منہ کما فی المنح عن جواھر الفتاوی۔ قال الرملي: وبہ علم بالأولی مایفعل في دیارنا من أخذ الأجرۃ من الحنطۃ و الدراھم معا ولاشک في جوازہ.
مزید کہا کہ مثلا ہمارے علاقے میں عرف ہے کہ گندم پسوانے پر چکی والے کو اسی آٹے کا کچھ حصہ بطور اجرت دی جاتی ہے اور قصاب کو بکری کی کھال اجرت میں دی جاتی ہے، یہ سب قفیز طحان ہی کی صورت بنتی ہے، تو کیا اس کو جائز کہنا عرف کی وجہ سے نص میں تبدیلی نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عرف نص کو کالعدم نہیں کرسکتا ۔ تاہم عرف عام نص کے لیے مخصص بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ نیز عرف کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ کر استحسان پر عمل ہوسکتا ہے۔ اس اصول کے تحت عرف کی حدود کو سمجھا جاسکتا ہے۔
باقی جہاں تک سوال میں پیش کردہ دو مثالوں کا تعلق ہے تو پہلی مثال میں بیع معدوم سے نہی (جو ایک عمومی ضابطہ ہے) کے مقابلے میں استصناع سے متعلق نص فعلی موجودہے یعنی آپ ﷺ نے انگوٹھی اور منبر اسی عقد کے تحت بنوائے تھے جبکہ وہ معدوم تھے۔نیز اس پر بغیر کسی نکیر کے امت کا تعامل پایا گیا ہے،لہذا اس درجے کے قوی عرف کی وجہ سے استحسانا جواز کا قول کیا گیا۔
اور دوسری مثال میں قفیز طحان کو شامی میں جائز نہیں کہا گیا بلکہ'' الدر المختار'' میں ''الأشباہ و النظائر'' کے حوالے سے ''المنیۃ'' کی عبارت نقل کی گئی ہے، جس میں ہے کہ '' اگر کوئی شخص سوت بننے کے لیے حائک کو دے دے اور بنا ہوا آدھا سوت ہی اجرت میں طے کر دے تو مشایخ بخاریٰ نے اس کے جواز کا قول اختیار کیا ہے۔ پھر ساتھ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ''الأشباہ و النظائر'' میں ''الفتاوی البزازیہ'' کے حوالے سے یہ لکھا گیا ہے کہ مشائخ بلخ و خوارزم اور ابو علی النسفی نے بھی جواز کا فتوی دیا ہے۔
لیکن '' الأشباہ '' ہی میں ان عبارات کے ساتھ یہ بھی لکھا گیا ہے'' الفتوی علی جواب الکتاب'' کہ اس مسئلہ میں فتوی ''المبسوط '' میں مذکور حکم پر ہے اور '' المبسوط '' میں اس مسئلہ کے متعلق صاف لکھا گیا ہے''ولو دفع الغزل إلى حائك لينسجه بالنصف فهو فاسد'' کہ آدھی اجرت پر سوت دینا'' جائز نہیں ہے۔لہذا '' الدر المختار '' کی اس عبارت (جس میں ''الأشباہ'' کے حوالے سے مختلف عبارات نقل کی گئی ہیں) کو حوالہ بنا کر قفیز طحان کو جائز کہنا درست نہیں۔ تو جب مذکورہ بیع درست نہیں تو اعتراض بھی درست نہ رہا۔
رہا آپ کا یہ کہنا کہ عرف کی وجہ سے ہمارے ہاں گندم کو چکی سے پسوانے پر چکی والے کو اسی آٹے کا کچھ حصہ اجرت میں دیا جاتا ہے یا قصاب کو بکری کی کھال اجرت میں لوگ دیتے ہیں تو ایسا کرنا جائز نہیں ۔ البتہ اس کا حل یہ ہے کہ یا تو چکی والے کو گندم ہی تول کر دیدیں یا چکی والے سے شروع میں کہہ دیں کہ میں تمہیں اتنی مقدار میں آٹا دینے کا ذمہ دار ہوں۔ اس کے بعد کسی بھی آٹے سے ادائیگی کردیں۔ اسی طرح قصائی کو یہ کہے کہ میں تجھے اجرت میں ایک اوسط جانور کی کھال دوں گا، بعد میں کھال اترنے پر اسی سے ادائیگی کردے۔یا اجرت میں پیسہ طے کرلیں پھر بعد میں ان پیسوں کے بدلے قصائی بکری کے مالک سے کھال خرید لے، تو یہ جائز ہے۔ یہ متبادل صورت اختیار کرنا قفیز طحان میں داخل نہیں ۔
حوالہ جات
جامع الترمذي حدیث نمبر (1276)
عن حكيم بن حزام قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت :يأتيني الرجل فيسألني من البيع ما ليس عندي أبتاع له من السوق ثم أبيعه منه قال: لا تبع ما ليس عندك".
سسن الدارقطني (2985)
عَن أبِي سعيد الخدرِي ، قال: نهى عن عسيبِ الفحلِ. زاد عبيد الله: وعن قفيزِ الطحان۔
شرح مشکل الاٰثار الطحاوي (711)
عن أبِي سعيد الْخدرِي قال: نهِي عن عسبِ الفحلِ وعن قفيزِ الطحان ۔
الدر المختار مع رد المحتار(6/56)
(ولو دفع غزلا لآخر لينسجه له بنصفه) أي بنصف الغزل (أو استأجر بغلا ليحمل طعامه ببعضه أو ثورا ليطحن بره ببعض دقيقه) فسدت في الكل؛ لأنه استأجره بجزء من عمله، والأصل في ذلك نهيه صلى الله عليه وسلم عن قفيز الطحان وقدمناه في بيع الوفاء.والحيلة أن يفرز الأجر أولا أو يسمي قفيزا بلا تعيين ثم يعطيه قفيزا منه فيجوز.
الدر المختار مع رد المحتار(7/551)
وفي الأشباہ في أواخر قاعدۃ العادۃ محکمۃ عن المنیۃ: لودفع غزلا إلی حائک لینسجہ بالنصف جوزہ مشائخ بخاری للعرف ثم نقل في آخرھا عن إجارۃ البزازیۃ أن بہ أفتی مشایخ بلخ و خوارزم و أبو علي النسفي أیضا. قال: و الفتوی علي جواب الکتاب للطحان لأنہ منصوص علیہ، فیلزم إبطال النص.
الأشباہ و النظائر (113)
وفي إجارة البزازية: في إجارة الأصل استأجره ليحمل طعامه بقفيز منه فالإجارة فاسدة ويجب أجر المثل لا يتجاوز به المسمى ، وكذا إذا دفع إلى حائك غزلا على أن ينسجه بالثلث . ومشايخ بلخ و خوارزم أفتوا بجواز إجارة الحائك للعرف وبه أفتى أبو علي النسفي أيضاً ؛ الفتوى على جواب الكتاب لا الطحان لأنه منصوص عليه فيلزم إبطال النص ( انتهى ) .
نشر العرف في بناء بعض الأحکام علی العرف(65)
إذا خالف العرف الدليل الشرعي، فإن خالفه من كل وجه بأن لزم منه ترك النص، فلاشك في رده، كتعارف الناس كثيراً من المحرمات من الربا، وشرب الخمر، ولبس الحرير والذهب وغير ذلك، مما ورد تحریمه نصاً. وإن لم يخالفه من كُلِّ وجه، بأن ورد الدليل عاماً، والعرف خالفه في بعض أفراده، أو كان الدليل قياساً، فإن العرف معتبر إن كان عاماً، فإن العرف العام يصلح مخصصا، كما مر عن "التحرير"، ويترك به القياس، كما صرحوا به في مسئلة الاستصناع، ودخول الحمام والشرب من السقاء.
أصول الإفتاء و آدابہ للمفتی محمد تقي العثماني (305)
قد يرد النص في جزئية مخصوصة، ويثبت الفقهاء حكمه في نظائره، إما بدلالة النص أو بالقياس. وحينئذ إن جرى العرف في تلك النظائر بخلاف القياس على النص، فقد يعتبر الفقهاء العرف في تلك النظائر، دون الجزئية التي ورد فيها النص۔
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
17/05/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / سفیر احمد ثاقب صاحب |


