03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاق کے بعد رجوع کی شرعی حیثیت
88945طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

عرض کرتاہوں کہ میں، غلام بکر ولد دوست علی (مرحوم)، L-102، مکان نمبر Aکا رہائشی ہوں۔ مؤدبانہ گزارش ہے کہ مجھے ا یک خاندانی مسئلہ درپیش ہے، جس کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔میں نے مئی یا جون کے مہینے میں اپنی اہلیہ سلمیٰ بنت اللہ داد کو پہلی طلاق دی تھی۔ اس کے فوراً بعد میں نے رجوع کر لیا، اور ہم تقریباً چھ ماہ تک اکٹھے رہے۔ بعد ازاں میں نے دوسری طلاق دی، جس موقع پر محمد دانش (میرا سالا) اور ان کی اہلیہ بھی موجود تھے۔ کچھ عرصے کے بعد میں نے تیسری طلاق بھی دے دی۔اب ہم دونوں اپنے چھوٹے بچوں کی خاطر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔مہربانی فرما کر قرآن و سنت کی روشنی میں شرعی رہنمائی اور فتویٰ عطا فرمائیں کہ آیا ہمارا دوبارہ اکٹھے رہنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔

تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ دوسری طلاق کے بعد شوہر نے رجوع نہیں کیا تھا، اور دوسری طلاق کے تقریباً دو ہفتے  بعد تیسری طلاق دی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دےکر بعد میں رجوع کرلیا تو اس سے آپ  کی بیوی پر ایک طلاق واقع ہو گئی تھی، رجوع کے بعد آپ کے پاس صرف دو طلاق کا اختیار باقی رہ گیا تھا، پھرچھ مہینہ بعد جب آپ نے سالی اور بیوی کی موجودگی میں دوسری طلاق دی تو اس سے آپ کی بیوی پردوسری طلاق بھی واقع ہو گئی ، اور کچھ عرصہ بعد آپ نے تیسری طلاق بھی دے دی تو اس کے بعد وہ آپ پر حرمتِ مغلّظہ کے ساتھ حرام ہو گئی ،نکاح ٹوٹ گیا ،اس کے بعد آپ کے لیے اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا جائز نہیں رہا، لہذابیوی اپنی عدت (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو اور ماہواری آتی ہو ،اور حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش تک کا عرصہ) گزار کر کسی اور شخص سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (1/ 473):

‌وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا ‌في ‌الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.

فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي» (4/ 177):

‌وإن ‌كان ‌الطلاق ‌ثلاثا ‌في ‌الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}»

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 187):

‌وأما ‌الطلقات ‌الثلاث ‌فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230].

محمد ابرہیم عبد القادر

دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی

18/جمادی الاولی /7144ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابراہیم بن عبدالقادر

مفتیان

سعید احمد حسن صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب