| 88965 | حج کے احکام ومسائل | حج کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میں تین بچوں کی ماں ہوں، بچوں کی عمر سات سال، پانچ سال، تین سال ہے۔ مجھ پر کئی سالوں سے حج فرض ہو چکا ہے۔ حج پالیسی کے تحت چھوٹے بچوں کو حج پر لے جانے کی اجازت نہیں۔لہذا بچوں کو میرے اور میرے شوہر کے علاوہ میری ساس یا میری شادی شدہ بہن یا دیگر رشتے دار نہیں سنبھال سکتے۔ سوال: کیا میں جب تک میرے بچے بڑے نا ہو جائیں تب تک حج پر جانا موخر کر سکتی ہوں؟ شریعت کا فرض رکن تاخیر کرنے پر میں گناہ گار تو نہیں ہوں گی؟ جب تک حج ادا نا کر لوں تب تک اللہ تعالی مجھ سے اس بات پر ناراض رہیں گے؟ اس دوران اگر میری موت واقع ہو جائے تو کیا مجھ سے حج نا کرنے کا سوال ہوگا؟ اور مجھے سزا دی جائے گی؟ میں بچوں کو اپنے شوہر کے پاس چھوڑ کر اپنے بھائی یا ماموں یا چاچا کے ساتھ حج پر جانا چاہتی ہوں لیکن میرے شوہر کہتے ہیں کہ ”میں نے ساتھ جانا ہے حج پر۔“ جبکہ میرے شوہر اپنا فرض حج ادا کر چکے ہوئے ہیں۔میرے شوہر مجھے بار بار کہہ رہے ہیں کہ ”میں نے حج پر تمہارے ساتھ جانا ہے۔ میں نے تمہیں کسی اور کے ساتھ حج پر جانے نہیں دینا۔“ جبکہ میں نے اپنے شوہر کو بہت سمجھایا ہے کہ مجھ پر حج بہت دیر سے فرض ہو چکا ہے ،اور آپ اپنا فرض حج ادا کر چکے ہیں ،اور بچوں کو صرف آپ ہی سنبھال سکتے ہیں، لیکن بہت سمجھانے کے باوجود میرے شوہر مجھے حج پر جانے کی مجھے اجازت نہیں دے رہے۔ سوال: کیا میں شوہر کے کہنے پر حج مؤخر کر دوں؟ کیا میرے شوہر مجھے فرض حج کرنے پر جبکہ میں اپنے محرم رشتے دار کے ساتھ جانا چاہتی ہوں، مجھے روک سکتے ہیں؟ کیا میرے شوہر کا مجھے روکنا جائز ہے؟ کیا میں شوہر کے روکنے کے باوجود اپنے محرم رشتے دار کے ساتھ حج پر جا سکتی ہوں یا شوہر کی بات ماننا لازم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حج فرض ہو جائے تو اس کی ادائیگی فی الفور ضروری ہے، بلا عذر تاخیر کرنا شرعاً جائز نہیں۔ اگر محرم موجود ہو تو شوہرکےلیے روکنا جائز نہیں ہوگا۔ نیز بیوی کے لیے بلا اجازت جانے کی بھی گنجائش ہوگی ۔ بچوں کی عمر دودھ پینے کی نہیں ہے لہذا کسی رشتہ دار خاتون یا ا ٓیا کے ذریعے انہیں سنبھالا جاسکتا ہے۔
شوہر کو چاہیے کہ وہ بیوی کے فرض حج کے لیے بچوں کو سنبھالنے کا نظم بنائے ۔ اگر وہ بلا کسی شرعی عذر کے روکے گا تو وہ گناہ گار ہوگا ۔
حوالہ جات
اعلاء السنن (18/10، ط الوحیدیہ):
قوله: عن أبي أمامة إلخ : قلت فيه دلالة على أن التأخير في الحج لأجل المرض- والمراد به ما يمنع عن السفر والذهاب إلى بيت الله - أو لأجل الحاجة الظاهرة - كحضانة الولد الصغير المحتاج إليه أو تعهد الوالد أو الوالدة المريضين المحتاجين إلى خدمته.... لا يوجب الوعيد،ويجوز لمن ابتلي بمثل هذه الأعذار أن يؤخر الحج إلى زوال العذر.
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 259):
(على الفور) أي على أن فعله فرض على الفور والمراد من الفور أن يتعين أشهر الحج من العام الأول للأداء ..
مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 263):
(وتحج) المرأة (معه) أي المحرم (حجة الإسلام) أي الحج الفرض (بغير إذن زوجها) وقت خروج أهل بلدها أو قبله بيوم أو يومين وليس له منعها عن حجة الإسلام وله منعها عن كل حج سواها.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 465):
(قوله وليس لزوجها منعها) أي إذا كان معها محرم وإلا فله منعها كما يمنعها عن غير حجة الإسلام.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 219):
وعند وجود المحرم كان عليها أن تحج حجة الإسلام، وإن لم يأذن لها زوجها، وفي النافلة لا تخرج بغير إذن الزوج.
محمدطلحہ فلک شیر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
16//جمادی الاولی /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طلحہ ولد فلک شیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


