| 89033 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
مفتی صاحب! سوال میرا یہ ہے کہ میں نے یہ فتویٰ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے لیا ہے، اور مجھے اعتماد ہے اس فتویٰ پر، لیکن آپ مجھے یہ بتائیں کہ مجھے وہم اور وسوسے آتےہیں، کہ کہیں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن پکڑ نہ لے ،عجیب عجیب خیالات آتےہیں ۔مجھے معلوم ہے کہ یہ فتویٰ صحیح ہے ،لیکن میں پھر بھی آپ کےدارلافتاء سے چیک کروانا چاہتا ہوں۔ برائے مہربانی مجھے بتائیں کہ یہ فتویٰ صحیح ہے ؟اگر صحیح ہے ،تو مجھے یہ وہم اور وسوسے آتے ہیں ۔اس وہم اور وسوسوں سے میں گنہگار تو نہیں ہونگا ؟اور نکاح پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا؟اور کیا میرا نکاح درست ہے؟ اور میں اس شادی شدہ زندگی کو جاری رکھ سکتا ہوں ؟اور میرا نکاح حلال ہے؟براہ مہربانی وضاحت کریں ۔
جامعہ بنوری ٹاون کراچی کا فتویٰ یہ ہے :
سوال :میری شادی میرے ماموں کی بیٹی سے ہوئی ہے، اور اب ہمارا ایک بیٹا ہے۔شادی سے پہلے مجھے میری امی نے بتایا تھا کہ آپ کی نانی نے چپ کرانے کے لیے آپ کے منہ میں اپنا پستان دیا تھا، لیکن اس وقت ان کے پستان میں دودھ نہیں تھا۔ پھر ابھی کچھ دن پہلے مجھے میری بیوی نے بھی بتایا کہ اسے اس کی دادی نے پستان دیا تھا، لیکن اس وقت ان کے پستان میں دودھ نہیں تھا ۔تو پھر بھی میں نے تسلی کے لیے اپنی امی سے اپنے بارے میں پوچھا تو میری والدہ نے وہی بات بتائی کہ ان کے سینے میں دودھ نہیں تھا، پھر میں نے اپنی ساس، سسر سے اپنی بیوی کی متعلق پوچھا تو ان لوگوں نے بھی یہی بات بتائی کہ اس وقت دادی کے پستان میں دودھ نہیں تھا ۔تو اس بارے میں راہنمائی فرمائیں کہ کیا ہمارے نکاح پر کوئی فرق پڑ رہا ہے؟
جواب :صورتِ مسئولہ میں اگر یقینی طور پر عورت کے پستان میں دودھ نہ تھا اور اس نے اپنے نواسے (سائل) اور اپنی پوتی (سائل کی بیوی) کے منہ میں پستان ڈال دیا اور دودھ نہیں نکلا تو اس سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوئی ۔لہذا سائل اور اس کی بیوی کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔
فتاوی شامی میں ہے: "(ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكًّا، ولوالجية. (قوله: فلو التقم إلخ) تفريع على التقييد بقوله إن علم. وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك." (كتاب النكاح، باب الرضاع، ج:3، ص:212، ط سعيد)فقط واللہ اعلم. فتویٰ نمبر : 144609100819 دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن.
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ذکر کردہ جواب درست ہے۔جب آپ نے ایک مستند دارالافتاء سے فتویٰ لیا ہے ،تو اسی پر مطمئن رہیں،وسوسوں کا شکار نہ ہوں، جب تک آدمی کوئی گناہ قولاً یا عملا ًنہ کرے صرف وہم اور وسوسوں سے آدمی گناہ گار نہیں ہوتا ۔
تاہم وسوسے آتے وقت أعوذبااللہ من الشیطٰن الرجیم،لاحول ولا قوۃ الا باللہپڑھیں، اس کے بعد بھی اگر وسوسے آتے ہیں ،تو اس جگہ سے اٹھ جائیں ،اپنے آپ کو تلاوت قرآن پاک میں یا کسی دوسرے کاموں میں مشغول کریں۔
حوالہ جات
معالم السنن(3/ 248):
قال أبو داود: حدثنا مسلم بن إبراهيم، قال: حَدَّثنا هشام عن قتادة عن زرارة بن أوفى، عَن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن الله تعالى تجاوز لأمتي ما لم تتكلم به أو تعمل به وبما حدثت به أنفسها.قال الشيخ في هذا الحديث من الفقه أن حديث النفس وما يوسوس به قلب الإنسان لا حكم له في شيء من أمور الدين.وفيه أنه إذا طلق امرأته بقلبه ولم يتكلم به بلسانه فإن الطلاق غير واقع.
المفاتيح في شرح المصابيح(1/ 155):
"ولينته"، (الانتهاء): ترك الشيء، يعني فليقل: أعوذ بالله من الشيطان الرجيم، وليترك التفكُّر والشروع في هذه الوسوسة، وإن لم يقدر أن يزيل التفكر في هذه الوسوسة بالتعوذ فليَقُمْ عن مجلسه ذلك، وليشتغل بشيءٍ آخر، من تلاوة القرآن والحكايات وغير ذلك.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
18/جماد الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


