03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گری پڑی چیزوں کے بیچنے کا حکم
89062گری ہوئی چیزوں اورگمشدہ بچے کے ملنے کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

حضرات مفتیان کرام جامعۃ الرشید کراچی السلام علیکم سوال ہے کہ کچھ لوگ راستہ میں گری پڑی چیزیں اٹھاکر کباڑی کو بیچتا ہے۔عموما چیزیں معمولی اور بہت کم قیمت کی ہوتی ہیں۔جیسے بوتل وغیرہ اس کا کیا حکم ہے۔ اٹھا بیچنے والے مستحق زکوۃ و محتاج نہ ہوں تو کیا حکم ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کوئی قیمتی چیز ہو تو اس کو مالک تک پہنچانا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم ایسی چیزیں جن کے بارے میں غالب گمان یہ ہو کہ مالک نے انہیں فالتو سمجھ کر راستے میں پھینک دیا ہے۔ ان کو استعمال کرنا یا ان کو کباڑ میں بیچ کر پیسے لینا جائز ہے۔ اس کے لیے مستحق زکوٰۃ ہونا بھی ضروری نہیں۔

 

حوالہ جات

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (708/1)

وللملتقط أن ينتفع باللقطة بعد التعريف لو  فقيرا، وإن غنيا تصدق بها ولو على أبويه أو ولده أو زوجته لو فقراء، وإن كانت حقيرة كالنوى وقشور الرمان والسنبل بعد الحصاد ينتفع بها بدون تعريف.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهنديۃ(290/2)

ثم ما يجده الرجل نوعان: نوع يعلم أن صاحبه لا يطلبه ،كالنوى في مواضع متفرقة ‌وقشور ‌الرمان في مواضع متفرقة، وفي هذا الوجه له أن يأخذها وينتفع .

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

24/05/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب