| 89031 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
میں دبی میں ایک دکان کا مالک ہوں۔ میں نے اپنی دکان کا ایک حصہ پھل اور سبزیوں کی فروخت کے لیے مختص کیا ہے، اور وہ ایک کمپنی کو کرائے پر دے رکھا ہے تاکہ وہ اپنا سامان اس جگہ پر فروخت کرے۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ اس جگہ کا کرایہ ہم کمپنی کے ساتھ معاہدے کے مطابق اس پھل اور سبزی والے حصے کی کل فروخت کا مثلاً 20٪ لے کر طے کرتے ہیں۔ تو کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ دبی میں زیادہ تر دکانوں کے اسی طرح کرایہ کے معاہدے ہوتے ہیں، اور کوئی تنازعہ یا جھگڑا نہیں ہوتا، کیونکہ ہمارا تمام کام سسٹمیٹک اور کمپیوٹرائزڈ ہوتا ہے۔ اس میں کوئی خفیہ بات نہیں ہوتی، اور یہاں بازار کا عرف بھی یہی ہے۔ اب کیا میں اس طرح معاہدے کے مطابق عقدِ اجارہ کر سکتا ہوں یا نہیں؟ براہِ کرم دلائل کے ساتھ وضاحت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صرف فیصدی اعتبار سے اجرت مقرر کرنا درست نہیں، کیونکہ اس سے حتمی اجرت متعین نہیں ہوتی ،اگرچہ بعد میں معلوم ہو جا تی ہے ۔یہ بھی ممکن ہے کہ کبھی کم ملے یا کبھی بہت زیادہ ملے ۔
البتہ اس کے متبادل کے طور پر یہ صورت اپنائی جاسکتی ہے کہ اجرت کا ایک حصہ سالانہ یا ماہانہ متعین کر لیا جاۓ،مثلاً:سالانہ0 5ہزار یا ماہانہ 5ہزار وغیرہ ،اور دوسرے حصے كو مجموعی فروخت میں سے فیصد ی اعتبار سے متعين كر ليا جائے ۔اس میں کم از کم اجرت طے ہو جاتی ہے ،لہذا ایسا معاملہ شرعا ًجا ئز ہو جائے گا ۔
حوالہ جات
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :(6/18
وأما الذي يرجع إلى ما يقابل المعقود عليه وهو الأجرة والأجرة في الإجارات معتبرة بالثمن في البياعات لأن كل واحد من العقدين معاوضة المال بالمال فما يصلح ثمنا في البياعات يصلح أجرة في الإجارات وما لا فلا وهو أن تكون الأجرة مالا متقوما معلوما وغير ذلك مما ذكرناه في كتاب البيوع.والأصل في شرط العلم بالأجرة قول النبي صلى الله عليه وسلم «من استأجر أجيرا فليعلمه أجره» والعلم بالأجرة لا يحصل إلا بالإشارة والتعيين أو بالبيان.
(حاشیۃ ابن عابدین : (6/5
(قوله وشرطها إلخ) هذا على أنواع: بعضها شرط الانعقاد، وبعضها شرط النفاذ، وبعضها شرط الصحة، وبعضها شرط اللزوم، وتفصيلها مستوفى في البدائع ولخصه ط عن الهندية (قوله كون الأجرة والمنفعة معلومتين) أما الأول فكقوله بكذا دراهم أو دنانير وينصرف إلى غالب نقد البلد، فلو الغلبة مختلفة فسدت الإجارة ما لم يبين نقدا منها.
)المحيط البرهاني :(7/395
وأما بيان شرائطها فنقول يجب أن تكون الأجرة معلومة، والعمل إن وردت الإجارة على العمل، والمنفعة إن وردت الإجارة على المنفعة، وهذا لأن الأجرة معقود به والعمل أو المنفعة معقود عليه.
)درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام :(1/95
والجهالة اليسيرة في الأجل كما إذا كان حلول الأجل محققا إلا أنه يقع أحيانا في وقت أقرب وأحيانا في وقت أبعد كالحصاد، والجهالة الفاحشة أن يكون وقوعه مجهولا، كنزول المطر وهبوب الريح.
حنبل اکرم
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
19/ جمادی الاولی ٰ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


