| 88992 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
مجھے ایک دفعہ گھرمیں کہا گیا کہ تمہاریشادی کردیں گے،پھر کسی نے کہا کہ لڑائی جھگڑے بھی ہوں گے ،پھر میں نے ان دو جملوں میں سے ایک بولا ہے ( کېدی شي چې بيا مې ورته ويلی وی چې يو دوه دری) )ممکن ہے میں نے کہا ہوگا ایک ،دو ،تین (اور طلاق کا لفظ ایک بار کہا ہے ( کېدی شي چې بيا ورته او وايم ))ممکن ہے میں اس کو کہوں ایک،دو،تین( لیکن مجھے یقین دو سرا جملہ بولنے پر ہے ۔اور میں نے ایک مسئلہ پڑھا تھا اس کی وجہ سے میرے منہ سے یہ الفاظ نکلے ( زہ ده چا سره نکاح اوکم هغي تا) )میں جس سے بھی نکاح کرو اس کو (اور طلاق کا لفظ استعمال نہیں ہوا،پھر مجھے وسوسے آنے لگے اس طلاق معلق کے بارے میں وہ ایسے کہ: اگر تم نے یہ کام کیا تو تمہاری ہونے والی بیوی کو۔۔۔۔۔اگر میں نے یہ کام کیا تو میری ہونے والی بیوی کو ۔۔۔۔۔۔اور زبان ہل جاتی تھی اور وہ کام بھی کرلیتا تھا۔ پھر میں ایک دفعہ اکیلاتھا اور سوچ میں ایک شخص مجھے یہ مسئلہ سنا رہا ہے کہ میں نے ایسا کہا ہے کہ میری ہونے والی بیوی کو ۔۔۔۔۔۔ہوجائےاور یہ جملہ مجھ سے سرگوشی میں نکل گیا، لیکن مجھے فوراً پتہ نہیں چلا تھوڑی دیر بعد جب میں کمرے میں بیٹھ گیا تو میں نے کہا کہ یہ جملہ تم نے کہا ہےاور تم تو اکیلے ہو پھر میں بہت پریشان ہوگیا ۔ایک دفعہ پھر پتہ نہیں کہ سرگوشی کی تھی، یا زبان ہل گئی تھی اس جملے کے بارے میں کہ ( میں نے کہا ہے کہ میری ہونے والی بیوی کو۔۔۔۔۔۔ہوجائے۔پھر میں نے نکاح فضولی کے بارے میں پڑھا تو تھوڑی تسلی ہوگئی تھی لیکن وہ بہت مشکل تھا۔پھر اس کے بارے میں بھی طلاق کے وسوسے آنے لگےاور زبان ہل گئی ۔پھر میں سوچ رہا تھا اور اپنے آپ کو کہنے لگا کہ میں نے کہا ہے۔میں بہت پریشان ہوں ،راہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح سے پہلے یہ الفاظ کہنے سے ہونے والی بیوی کو طلاق نہیں ہوتی ، اور نہ ہی محض وسوسوں سے طلاق ہوتی ہے۔آئندہ طلاق کے الفاظ کہنے سے گزیر کریں اور وسوسوں کی طرف توجہ نہ دیں ۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(344/3)::
(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) (، أو الإضافة إليه) أي الملك الحقيقي عاما أو خاصا، كإن ملكت عبدا أو إن ملكتك لمعين فكذا أو الحكمي كذلك (كإن) نكحت امرأة أو إن (نكحتك فأنت طالق)
معالم السنن )(3/ 248🙁
قال أبو داود: حدثنا مسلم بن إبراهيم، قال: حدثنا هشام عن قتادة عن زرارة بن أوفى، عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن الله تعالى تجاوز لأمتي ما لم تتكلم به أو تعمل به وبما حدثت به أنفسها.
قال الشيخ في هذا الحديث من الفقه أن حديث النفس وما يوسوس به قلب الإنسان لا حكم له في شيء من أمور الدين.وفيه أنه إذا طلق امرأته بقلبه ولم يتكلم به بلسانه فإن الطلاق غير واقع.
حاشية ابن عابدين، )4/ 224 (:
(وشرائط صحتها العقل) والصحو (والطوع) فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس، وصبي لا يعقل وسكران ومكره عليها.قال ابن عابدين(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب.
الموسوعة الفقهية الكويتية،(156/43 ):
نقل ابن عابدين عن الليث: في مسألة طلاق الموسوس أنه لا يجوز طلاق الموسوس، قال: يعني المغلوب في عقله ونقل ابن القيم: إن المطلق إن كان زائل العقل بجنون أو إغماء أو وسوسة لا يقع طلاقه، قال: وهذا المخلص مجمع عليه بين علماء الأمة .
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
17/جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


