| 88988 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میری تین بہنیں ہیں ۔ امی ،ابو اور میں گھر پر ہوتے ہیں۔ صبح کے وقت میں اور ابو نماز کے لیے مسجد جاتے ہیں، جب مسجد میں نماز ہو جاتی ہے، تو ابو مسجد میں ہی ہوتے ہیں اور مجھے گھر والوں کو نماز کے لیے آواز دینی ہوتی ہے۔ اگر بندہ مسجد میں سلام پھیرنے کے ساتھ ہی اُٹھ کر گھر چلا جائے تو نماز قضا ہونے میں بہت کم وقت ہوتا ہے۔ میں جب گھر جاتا ہوں تو گھر والوں کو آہستہ آہستہ آوازیں دیتا ہوں، گھر والے کبھی اُٹھتے ہیں اور زیادہ تر ایسا ہوتا ہے کہ وہ نہیں اُٹھتے۔گھر والے مجھ سے کہتے ہیں کہ ہمیں ہاتھ لگا کر اُٹھایا کرو۔ جبکہ میری عمر 21 سال ہے اور بڑی بہن کی 22 سال۔ تو کیا مجھے شریعت بڑی بہن اور دیگر گھر والوں کو ہاتھ لگانے کی اجازت دیتی ہے؟ کبھی کبھار نانی بھی آ جاتی ہیں کیا مجھے انہیں ہاتھ لگانے کی شریعت اجازت دیتی ہے یا نہیں؟
مفتی صاحب، اگر میں آہستہ آہستہ گھر والوں کو آواز دیتا ہوں عام آواز میں، جس آواز میں لوگوں سے بات کی جاتی ہے، تو اگر گھر والے نہیں اُٹھتے تو کیا میں گناہ گار ہوں گا یا نہیں؟
اور اگر میں مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد 15 منٹ تک مسجد میں بیٹھا رہوں اور گھر والوں کو اُٹھانے نہ جاؤں تو کیا میں گناہ گار ہوں گا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
گھر والوں کو مناسب آواز کے ساتھ یا دروازہ کھٹکٹھا کر جگانا چاہیے، اگر اس پر بھی نہ اٹھیں تو آپ اپنی نانی اور بہنوں کو بازو سے ہلاکر اٹھالیا کریں۔ بازو پر کپڑا بھی ہوتا ہے لہذا عام طور پر بازو پر ہاتھ لگانے سے کوئی منفی خیالات نہیں آتے۔
نیز اگر آپ کے مسجد میں بیٹھنے سے گھر والوں کی نماز قضا ہوتی ہے تو آپ گھر آکر انہیں جگا لیا کریں، ان شاء اللہ اس پر اللہ تعالی آپ کو مسجد میں ذکر و اذکار کا ثواب عطا کریں گے۔
حوالہ جات
الدر المختار مع ردالمحتار (9/605)
(ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا (إلى الرأس والوجه والصدر والساق والعضد إن أمن شهوته) وشهوتها أيضا ذكره في الهداية فمن قصره على الأول فقد قصر ابن كمال (وإلا لا، لا إلى الظهر والبطن) خلافا للشافعي (والفخذ) وأصله قوله تعالى - {ولا يبدين زينتهن إلا لبعولتهن}الآية وتلك المذكورات مواضع الزينة بخلاف الظهر ونحوه (وحكم أمة غيره) ولو مدبرة أو أم ولد (كذلك) فينظر إليها كمحرمه (وما حل نظره) مما مر من ذكر أو أنثى (حل لمسه) إذا أمن الشهوة على نفسه وعليها (لأنه عليه الصلاة والسلام كان يقبل رأس فاطمة) وقال عليه الصلاة والسلام: (من قبل رجل أمه فكأنما قبل عتبة الجنة) وإن لم يأمن ذلك أو شك، فلا يحل له النظر والمس.
الدر المختار مع ردالمحتار (6/367)
(ومن محرمه) هي من لا يحل له نكاحها أبدا بنسب أو سبب ولو بزنا (إلى الرأس والوجه والصدر والساق والعضد إن أمن شهوته) وشهوتها أيضا ذكره في الهداية فمن قصره على الأول فقد قصر ابن كمال (وإلا لا، لا إلى الظهر والبطن) خلافا للشافعي (والفخذ) وأصله قوله تعالى - {ولا يبدين زينتهن إلا لبعولتهن} [النور: 31]- الآية وتلك المذكورات مواضع الزينة بخلاف الظهر ونحوه (وحكم أمة غيره) ولو مدبرة أو أم ولد (كذلك) فينظر إليها كمحرمه
(وما حل نظره) مما مر من ذكر أو أنثى (حل لمسه) إذا أمن الشهوة على نفسه وعليها ''لأنه عليه الصلاة والسلام كان يقبل رأس فاطمة'' وقال عليه الصلاة والسلام: ''من قبل رجل أمه فكأنما قبل عتبة الجنة'' وإن لم يأمن ذلك أو شك، فلا يحل له النظر والمس كشف الحقائق لابن سلطان والمجتبى (إلا من أجنبية) فلا يحل مس وجهها وكفها وإن أمن الشهوة؛ لأنه أغلظ ولذا تثبت به حرمة المصاهرة وهذا في الشابة۔
الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی (7/206)
قال: "وينظر الرجل من ذوات محارمه إلى الوجه والرأس والصدر والساقين والعضدين. ولا ينظر إلى ظهرها وبطنها وفخذها". والأصل فيه قوله تعالى: {وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَاّ لِبُعُولَتِهِنَّ}الآية، والمراد والله أعلم مواضع الزينة وهي ما ذكر في الكتاب، ويدخل في ذلك الساعد والأذن والعنق والقدم؛ لأن كل ذلك موضع الزينة، بخلاف الظهر والبطن والفخذ؛ لأنها ليست من مواضع الزينة، ولأن البعض يدخل على البعض من غير استئذان واحتشام والمرأة في بيتها في ثياب مهنتها عادة، فلو حرم النظر إلى هذه المواضع أدى إلى الحرج، وكذا الرغبة تقل للحرمة المؤبدة فقلما تشتهى، بخلاف ما وراءها، لأنها لا تنكشف عادة.
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
19/05/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


