03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹوں اور بیٹیوں کو جائیداد ہبہ کرنے کا حکم
88982میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میرے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، بڑا بیٹا پندرہ سال سے میرے ساتھ کاروبار میں ہے،چھوٹا بیٹا گھر کے کام میں ہوتا ہے، تین بیٹیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں،میں نے اپنی جائیداد کا آدھے کے قریب حصہ اپنے دو بیٹوں میں دو گواہوں کی موجودگی میں اس ترتیب سے ہبہ / ہدیہ/ Gift کر دیا ہے، اس کے لیے قانونی دستاویز بھی بنا رہا ہوں۔

1- بڑے بیٹے کو زیادہ حصہ۔ 2- چھوٹے بیٹے کو اس سے کم حصہ۔باقی آدھے کے قریب جائیداد کے حصے میں میرے ان دو بیٹوں کے ساتھ تین بیٹیاں بھی شرعی اعتبار سے شریک ہوں گی۔

آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ ہبہ /Gift مکمل ہونے کرنے کے لیے صرف دو گواہ کافی ہیں ؟ بیٹوں کو ہبہ /ہدیہ/ Gift کرنے کے لیے شرعی طریقہ کار کیا ہو گا؟ امید ہے کہ اس بارے میں شرعی راہ نمائی فرمائیں گے۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ بڑے بیٹے کی عمر تینتیس (33) سال اور چھوٹے کی عمر ساڑھے اٹھارہ سال ہے، بڑے بیٹے نے چونکہ میرے ساتھ زیادہ کام کیا ہے اس لیے اس کو میں نے کچھ گفٹ دینا چاہا، چھوٹا ابھی تک گھر کے کام کاج دیکھ رہا ہے، عمر بھی کم ہے، اس لیے اس کو کم دیا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ زندگی میں آدمی کااپنی اولاد کو کوئی جائیداد دینا شرعی اعتبار سے وراثت نہیں، بلکہ یہ ہبہ (ہدیہ،گفٹ) کہلاتا ہے، اس میں عدل وانصاف کے تقاضے  پورے کرنا ضروری ہے،  جس کی بہتر صورت یہ ہے کہ تمام اولاد کو برابر حصہ دیا جائے یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت آدھا حصہ دیا جائے، لہذا زندگی میں اپنی مکمل جائیداد بغیر کسی شرعی وجہ کے بعض اولادکودینا جائز نہیں، کیونکہ اس میں دیگر اولاد کو محروم کرنا لازم آتا ہے، جس کی شریعت اجازت نہیں دیتی۔البتہ اولاد میں سے کسی بیٹے یا بیٹی کی خدمت، دینداری یا غربت کے باعث اس کو کچھ حصہ زیادہ دینا بھی جائز ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  اصولی طور پر آپ کو چاہیے تھا کہ تمام اولاد کو برابر یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت آدھا حصہ ضروردیتے، اب اس کا حل یہ ہے کہ جائیداد کا جتنا حصہ آپ نے  چھوٹے بیٹےکو دیا ہے،  اتنا یا اس کا آدھا آدھا  حصہ تینوں بیٹیوں  کو بھی مالک اور قابض بنا کر دے دیں تو اس کی تلافی ہو جائے گی۔ باقی جو بڑے بیٹے کو زیادہ دیا ہے تو وہ چونکہ پندرہ سال اس کی محنت کی وجہ سے دیا ہے اس لیے اس کی گنجائش ہے، بشرطیکہ دوسروں کو جائیداد سے محروم کرنے کی نیت نہ ہو۔اس کے علاوہ بقیہ جائیداد میں آپ کی وفات کے بعد تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق شریک ہوں گے۔   

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:

(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل  بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أكل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم؛ لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

19/جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب