03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دعا کے بدلے معاوضہ لینے کا حکم
89032اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

دیکھا جاتا ہے کہ مختلف لوگ جمعہ کے دن اور دیگر مواقع پر اپنی مختلف حاجات و مقاصد کے لیے امام یا  خطیب صاحب کو ہدیہ دیتے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے دعا کریں۔ پھر امام صاحب تمام مصلیوں کو ساتھ لے کر اس شخص کے لیے دعا کرتے ہیں۔اب محترم مفتی صاحب کی خدمت میں میرا سوال یہ ہے:

1. دعا تو عبادت ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک عام اصول یہ ہے کہ عبادت کے بدلے میں معاوضہ لینا جائز نہیں۔ تو ایسے حالات میں ان حضرات کا یہ ہدیہ قبول کرنا کس حیثیت میں شمار ہوگا؟

2. ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر قرآن ختم دنیوی مقصد کے لیے کرایا جائے تو اس کا معاوضہ لینا جائز ہے، لیکن اگر اُخروی مقصد کے لیے ہو (مثلاً: ایصالِ ثواب)  تو اس کا معاوضہ لینا جائز نہیں۔ تو کیا دعا کے معاملے میں بھی یہی تفصیل لاگو ہوگی؟ کہ اگر دعا دنیوی مقصد کے لیے کرائی جائے تو اس کے بدلے میں لینا جائز ہے اور اگر اُخروی مقصد کے لیے ہو تو ناجائز؟

3. اگر یہ تفصیل معتبر ہو تو وہ دعا جس میں دونوں نوعیتیں (دنیاوی اور اُخروی) جمع ہوں ،اس کے بدلے میں معاوضہ لینے کا کیا حکم ہوگا؟براہِ کرم ان مسائل کی واضح وضاحت فرما کر مجھے مستفید فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

دعا ایک خالص عبادت ہے، جس کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنا اور اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔ لہٰذا دعا کے بدلے کوئی عوض یا اجرت لینا شرعاً جائز نہیں، چاہے دعا دنیاوی مقصد کے لیے ہو یا اخروی مقصد کے لیے۔البتہ اگر کوئی شخص امام صاحب کو ہدیۃً کچھ رقم وغیرہ  دیتا ہے  اور یہ عوض کے طور پر نہ ہو تو ایسا ہدیہ لینا جائز ہے۔ختمِ قرآن کے معاملے میں تفصیل ہے کہ اگر تلاوت کا مقصد خالص عبادت یا ایصالِ ثواب ہوتو اس پر اجرت لینا جائز نہیں ۔ لیکن اگر تلاوت کسی دنیاوی مقصدجیسے بیماری سے شفا کے لیے کی جائےتو اس پر اجرت لینا جائز ہے،کیونکہ ایسی صورت میں تلاوت محض عبادت نہیں رہتی بلکہ ایک دنیوی منفعت کا ذریعہ بن جاتی ہےاور اجرت دراصل اسی منفعت پر لی جاتی ہے نہ کہ عبادت پر۔

البتہ جو تفصیل ختمِ قرآن کے معاملے میں ہے، وہ دعا کے معاملے میں نہیں ،کیونکہ دعا میں دنیاوی منفعت کی علت موجود نہیں ہے۔ اس لیے دعا خواہ دنیاوی مقصد کے لیےہویا اخروی مقصد کے لیے ،یا دونوں کے لیےہو، اس کے بدلے عوض لینا شرعاً جائز نہیں ہے۔ عام طور پر امام یا خطیب کو جو کچھ دیا جاتا ہے، وہ بطور معاوضہ نہیں ،بلکہ بطورِ ہدیہ ہوتا ہے، کیونکہ اگر یہ معاوضہ ہوتا تو پہلے سے رقم کی تعیین کی جاتی، جو عملاً نہیں کی جاتی۔لہٰذا جب نیت ہدیہ دینے کی ہے تو اس کا لینا جائز ہے۔

حوالہ جات

مسند أحمد (30/ 298 ط الرسالة):

عن النعمان بن بشير أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن الدعاء هو العبادة ". ثم قرأ: {ادعوني أستجب لكم إن الذين يستكبرون عن عبادتي} (1) [غافر: 60].

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 55):

والأصل =أن كل طاعة يختص بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليه عندنا.

شرح مختصر الطحاوي للجصاص (2/ 495):

ولا يجوز ‌الاستئجار على شيء من ‌الطاعات.

 مجموعۃ رسائل ابن عابدین (157/1):

  • يجوز ‌أخذ ‌المال ‌عليه ‌وإن ‌كانت ‌الرقية بقراءة قرآن أو علاج غيره كوضع ترياق أو بما اشبه ذلك ؛لإن ذلك ليس المراد منه: القربة والثواب.

شرح معاني الآثار - ط مصر (128/4):

من استجعل جعلا على عمل يعمله لغيره ،من رقية أو غيرها ،وإن كانت بقرآن أو علاج أو ما أشبه ذلك ،فذلك جائز، والاستجعال عليه حلال. فيصح بما ذكرنا معاني ما قد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في هذا الباب، من النهي ومن الإباحة ،ولا يتضاد ذلك فيتنافى.

محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

 20/جمادی الاولی /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب