03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناپاکی کی حالت میں خواتین کا مسجد میں داخل ہونے کا حکم
88986وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ہمارا بنات کا مدرسہ ہے جو کہ پہلے ایک رہائشی گھر میں تھا، مگر اب وہ مسجد میں منتقل کیا  گیا ہے۔ درس گاہیں مسجد کے تہہ خانے میں ہوا کرتی ہیں۔ اب مسئلہ یہ درپیش ہے ،کہ خواتین اور لڑکیاں پڑھنے آتی ہیں، پاکی ناپاکی کے مسائل ہوتے ہیں اور مدرسہ مسجد میں ہے۔ تو ان لڑکیوں کے لیے کیا حکم ہے ؟  یہ تہہ خانہ مسجد کے حکم میں ہوگا یا نہیں؟  اس جگہ پر واقف نے کتنے حصے میں مسجد کی نیت کی ہے ، اس بات کا علم نہیں ہے۔  اگر واقف نے پہلے مکمل جگہ کی مثلاً مسجد کی نیت کر لی ہو اور اس جگہ پر اعتکاف بھی کروایا جا چکا ہو  تو کیا خواتین کے مدرسے کی وجہ سے نیت بدلی جا سکتی ہے یاکوئی  گنجائش نکالی جا سکتی ہے یا نہیں؟  ویسے تو پچھلے سال اس جگہ پر پہلی منزل پر اعتکاف ہو چکا ہے، لیکن جب مسجد زیرِ تعمیر تھی تو اس وقت واقف کی نیت خواتین کا مدرسہ بنانے کی تھی،لیکن انہوں نے مدرسہ کی کامل نیت کی یا نہیں، یا کتنے حصے پر مسجد کی نیت کی  اس بات کا علم نہیں ہے، لیکن شروع میں ذہن میں ارادہ تھا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سب سے پہلے انتظامیہ سے معلوم کرنا چاہیے کہ مسجد کی تعمیر کے وقت تہہ خانہ کس نیت سے بنایا گیا تھا،کیونکہ ایسے معاملات کا تعلق انتظامیہ سے ہوتا ہے اور وہی اصل صورتِ حال سے واقف ہوتے ہیں۔ 

اگر انتظامیہ یہ کہے کہ مسجد بناتے وقت تہہ خانہ  مسجد کی نیت سے نہیں بنایاگیا تھا بلکہ مصالح مسجد کے لیے تھا۔ تو ایسی صورت میں وہ تہہ خانہ شرعاً مسجد کے حکم میں نہیں آئے گا ۔  اگر وہ کہیں کہ تہہ خانہ  بھی مسجد ہی کی نیت  سے بنایا گیا تھا تو مدرسہ انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ بچیوں کے پڑھنے کے لیے کسی متبادل جگہ کا انتظام کریں۔اگر نیت کا انتظامیہ سے پتہ نہ چل سکے تو ظاہر حال کو دیکھتے ہوئے اسے مسجد ہی سمجھیں گے، کیونکہ وہاں اعتکاف وغیرہ ہو رہا ہے،اس کا مطلب ہے کہ وہ مسجدہے۔ لہذا اس صورت میں بھی وہ مسجد ہی ہوگا۔

جب کوئی جگہ ایک مرتبہ مسجد شرعی بن جائے تو وہ ہمیشہ مسجد ہی رہتی ہے ۔لہذااس میں صرف وہی کام ہوسکتے ہیں جو مسجد میں جائز ہوں۔اس میں نیت بدلنے سے اس کا حکم نہیں بدلے گا ۔

حوالہ جات

سنن أبي داود (1/ 167 ت الأرنؤوط):

"‌وجهوا ‌هذه ‌البيوت ‌عن ‌المسجد، فإني لا أحل المسجد لحائض ولا جنب"

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 56):

‌يمنع ‌الحيض ‌دخول ‌المسجد، وكذا الجنابة تمنع لقوله عليه الصلاة والسلام ”فإني لا أحل المسجد لحائض ولا جنب“

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 205):

(قوله: ودخول مسجد) أي ‌يمنع ‌الحيض ‌دخول ‌المسجد وكذا الجنابة وخرج بالمسجد غيره كمصلى العيد والجنائز والمدرسة والرباط فلا يمنعان من دخولها

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 358):

قال في البحر: وحاصله أن شرط كونه ‌مسجدا ‌أن ‌يكون ‌سفله ‌وعلوه ‌مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18]-

شرح الزيادات - قاضي خان (5/ 1547):

وعن هذا قلنا إذا جعل السفل مسجدا دون العلو، أو العلو دون السفل، أو جعل وسط داره مسجدا، وأذن بالصلاة فيه، أو جعل مسجدا تحته سرداب، لا يصير مسجدا.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (2/ 490):

ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته ‌فلا ‌يجعل ‌الدار ‌بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (3/ 330):

وإذا ‌صار ‌مسجدا على اختلافهم زال ملكه عنه وحرم بيعه فلا يورث وليس له الرجوع فيه لأنه صار لله بقوله تعالى {وأن المساجد لله} [الجن: 18] ولا رجوع فيما صار لله تعالى كالصدقة.

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص370):

(ويزول ملكه عن المسجد والمصلى) بالفعل و (بقوله جعلته مسجدا) عند الثاني (وشرط محمد) والامام (الصلاة فيه)بجماعة وقيل: يكفي واحد وجعله في الخانية ظاهر الرواية.                                                                                                          

محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

19/جمادی الاولی/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب