| 89036 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم و رحمۃاللہ و برکاتہ! مفتیان کرام سے ایک مسئلہ کا حل مطلوب ہے، جواب دے کر مشکور فرمائیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ چونکہ ڈراپ شپنگ بیع قبل القبض ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے، البتہ مفتیان کرام نے اس کی کچھ جواز کی صورتیں پیش کی ہیں، جس میں سے ایک صورت یہ ہے کہ اگر مثال کے طور پر میں ڈراپ شپنگ کمپنی کو اپنی طرف سے قبضہ کا وکیل بنا دوں، تو پھر میرے پاس جب آڈر آئے تو میں اس کمپنی کو وہ آڈر بھیج دوں، اور وہ میری طرف سے وہ آڈر پیکنگ وغیرہ کر کے کسٹمر کو براہ راست بھیج دیں، تو اس صورت میں وکیل کا قبضہ مؤکل کی طرف سے شمار ہونے کی وجہ سے بیع قبل القبض لازم نہیں آئے گی۔ تو اب میں پوچھنا یہ چاہ رہا ہوں کہ اس کمپنی کو میری طرف سے قبضہ کا وکیل بنانے کے لیے تحریری طور پر ایک فارم فل کرنا ہوتا ہے، جس کے شرائط و ضوابط میں ایک جز یہ ہوتا ہے کہ( اس معاہدے کے تحت دونوں فریق اس بات پر متفق ہیں کہ ڈراپ شپنگ کمپنی کو ڈراپ شپر کی(یعنی میری) ہدایت پر ان کی جانب سے آرڈرز بھیجنے کا اختیار حاصل ہے)۔ تو اس جملہ کی وجہ سے وہ کمپنی میری طرف سے قبضہ کے وکیل بن جائیں گے کہ میں ان کو کسٹمر کی تفصیل وغیرہ بھیج دوں، اور کمپنی میری طرف سے اس چیز پر قبضہ کر کے کسٹمر کو براہ راست بھیج دے ،تو کیا میرے لیے یہ صورت جائز ہوگی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ بات تو درست ہے کہ آپ کی جگہ آپ کا وکیل بھی قبضہ کرسکتا ہے۔تاہم مال چونکہ کمپنی ہی سےلیناہے، اس لیے کمپنی ہی کووکیل بنانا درست نہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں اگر سائل کمپنی سے سامان خرید کر اسی کمپنی کو اس پر قبضہ کرنے کے لیے اپنا وکیل بنائے، اور پھر کمپنی براہ راست کسٹمر کا مطلوبہ سامان ان کے پتے پر ارسال کر دے، تو یہ معاملہ بھی بیع قبل القبض ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا۔ سائل کو چاہیے کہ وہ جس کمپنی سے خریداری کا معاملہ کرے اس کے علاوہ کسی اور کو (مثلا کسی شیپمنٹ کے ذمہ دار کو یا سامان ترسیل کرنے والےمتعین ڈرائیور کو ) سامان پر قبضہ کرنے کے لیے اپنا وکیل بنائے، پھروہ کسٹمر کو پہنچائے۔یا کمپنی آپ کی فراہم کردہ پیکنگ میں پیک کروا کر بھیجے، تو بھی آپ کی خاص پیکنگ میں آنے کی وجہ سے اسے آپ کا قبضہ شمار کیا جائے گا۔
حوالہ جات
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام ط: دار الجيل (1/ 56):
"لو وكل المشتري البائع في قبض المبيع، فالوكالة لا تصح،والسبب في عدم جواز الوكالة أن البائع كان ...مسلما ومستلما في وقت واحد، والحال أنه من الواجب في كل عقد أن يتولاه اثنان، وأن يسلم البائع المبيع للمشتري."
المحيط البرهاني ط: دار الكتب العلمية (7/ 90):
"البائع لا يصلح وكيلا عن المشتري في القبض، ألا ترى أنه لو وكله بذلك نصا، لا يصح."
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ط: دار الكتب العلمية (5/ 247):
"ولو اشترى من إنسان كرا بعينه، ودفع غرائره، وأمره بأن يكيل فيها، ففعل، صار قابضا سواء كان المشتري حاضرا أو غائبا؛ لأن المعقود عليه معين، وقد ملكه المشتري بنفس العقد، فصح أمر المشتري؛ لأنه تناول عينا هو ملكه، فصح أمره، وصار البائع وكيلا له، وصارت يده يد المشتري."
رد المحتار على الدر المختار ط: الحلبي(5/ 221):
"(أو أمر) المشتري (البائع بذلك فكاله في ظرفه) ظرف البائع (لم يكن قبضا) لحقه (بخلاف كيله في ظرف المشتري بأمره) فإنه قبض؛لأن حقه في العين. "
قال العلامة ابن عابدين: (قوله: لأن حقه في العين)" لأنه ملكه بنفس الشراء، فيصح أمره لمصادفته ملكه، فيكون قابضا بجعله في الظرف، ويكون البائع وكيلا في إمساك الظرف، فيكون الظرف والواقع فيه في يد المشتري حكما."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
20/جمادی الاولی /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


