03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غسل کے بعد وسوسوں کا شرعی حکم
89061پاکی کے مسائلغسل واجب کرنے والی چیزوں، فرائض اور ،سنتوں کا بیان

سوال

غسل فرض کے بعد اس طرح آنے والے وسوسے جیسے تو ناپاک رہ گیا ہو گا یا اس طرح کے دیگر وسوسوں کے بارے میں علما کیا فرماتے ہیں جب ہمیں بوقت غسل یہ یقین ہو گیا ہو کہ ہم پاک ہیں؟؟ مجھے اس طرح کے وسوسے کچھ وقت ہی آتے ہیں جیسے صبح فجر سے پہلے غسل کیا تو ظہر تک اس طرح کے وسوسے رہتے ہیں چاہے ان وسوسوں کی آڑ میں 3-4 بار ہی غسل کیوں نا دہرا دوں۔ پھر اچانک خود ہی ختم ہو جاتے ہیں نیز اس طرح وسوسوں کے وقت اگر کوئی نماز پڑھی جائے تو وہ دہرائی جائے گی؟؟ اسی طرح میں اگر اس دوران کسی نماز کی امامت کرواؤں تو فقہ اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ آخری بات ان وسوسوں کی آڑ میں آکر نیا غسل بنانا چاہیے جب میں نے بوقت گسل اطمینان حاصل کر لیا ہو؟؟ اسی کے ساتھ اگر خدا نخواستہ اگر کوئی حصہ خشک رہ گیا اور بعد میں معلوم ہوا تو کیا اس جگہ کو تر کرنے سے غسل ہو جائے گا یا مکمل غسل کرنا پڑھے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب ایک مرتبہ غسل مکمل ہونےکا یقین ہو جائے تو پھر اس کے بعد آنے والے وسوسوں کا اعتبار نہیں ۔لہذا وسوسوں کے باوجود آپ انفرادی نماز یا امامت ادا کرسکتے ہیں۔

ہاں اگر یقینی طور پر معلوم ہو کہ کوئی حصہ خشک رہ گیا تھا، تو صرف اتنے حصے کو دھونے لینا چاہیے۔ البتہ اس صورت میں جتنی نمازیں پڑھی ہیں، ان کا دوبارہ پڑھنا لازمی ہے۔

حوالہ جات

فتح القدیر (193/1)

اليقين لا يرفع بالشك معنى، فإنه حينئذ لا يتصور أن يثبت شك في محل ثبوت اليقين ليتصور ثبوت شك فيه لا يرتفع به ذلك اليقين، فعن هذا حقق بعض المحققين أن المراد لا يرفع حكم اليقين، وعلى هذا التقدير يخلص الإشكال في الحكم لا الدليل فنقول : وإن ثبت الشك في طهارة الباقي ونجاسته لكن لا يرتفع حكم ذلك التيقن السابق لنجاسته وهو عدم جواز الصلاة فلا يصح بعد غسل الطرف لأن الشك الطارئ لا يرفع حكم اليقين السابق على ما حقق.

الفتاوی الھندیۃ (33/1)

جنب اغتسل وبقي لمعۃ وفني ماءه فيتيمم لبقاء الجنابة فإن أحدث تيمم للحدث فإن وجد ماء يكفيهما صرفه إليهما وإن كفى معينا صرفه إليه والتيمم الى الآخر باق، وإن كفى واحد غير معين صرفه إلى اللمعه وأعاد تیممہ للحدث.

البحر الرائق (84/1)

وأما ركنه فهو إسالة الماء على جميع ما يمكن إسالته عليه من البدن من غير حرج مرة واحدة حتى لو بقيت لمعة لم يصبها الماء لم يجز الغسل.

و فی منحۃ الخالق: قوله : (لمعة) بضم اللام ومن فتحها فقد أخطأ من البدن أو العضو لم يصبه الماء في الاغتسال أو الوضوء، وأصله في اللغة قطعة من نبت أخذت في اليبس اهـ

ظہوراحمد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

23جمادی الاولی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب