03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلانے کا شرعی حکم
89044حکومت امارت اور سیاستدارالاسلام اور دار الحرب اور ذمی کے احکام و مسائل

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ میں کالج کا طالب علم ہوں۔ گھر کے کچھ ضروری کام بھی ہوتے ہیں اور کالج بھی جانا ہوتا ہے۔ میرے ابو کو موٹر سائیکل چلانی نہیں آتی، اس لیے یہ ذمّہ داری اکثر میری بنتی ہے۔ میرا لائسنس ابھی بن نہیں سکا، البتہ مجھے موٹر سائیکل چلانے کا کئی سال کا تجربہ ہے۔ میں ہمیشہ آہستہ اور احتیاط سے چلانے کی کوشش کرتا ہوں،اور ٹریفک کے اصولوں کا بھی خیال رکھتا ہوں۔ میرا اصل سوال یہ ہے کہ اگر میں صرف ضرورت کے وقت (جیسے کالج جانے یا گھر کے اہم کام کے لیے) بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلاتا ہوں تو کیا یہ عمل گناہ شمار ہوگا؟ یا یہ مکروہ اور ناپسندیدہ عمل ہے؟ میری نیت صرف مجبوری اور ضرورت پوری کرنا ہوتی ہے، قانون توڑنے یا لاپرواہی کا ارادہ نہیں ہوتا۔ میرے چچا موٹر سائیکل چلاتے ہیں، لیکن صبح کے وقت اُنہیں جگانا مناسب نہیں لگتا، کیونکہ وہ اُس وقت آرام کر رہے ہوتے ہیں۔ اگر میں فجر کے بعد اُس وقت موٹر سائیکل لے جاؤں جب سڑکوں پر لوگ بہت کم ہوتے ہیں، یا رات کو جب ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، تو کیا ایسی صورت میں بھی یہ عمل گناہ میں شمار ہوگا؟ مزید یہ کہ اس صورتحال کی وجہ سے میری پڑھائی اور کالج جانے میں بھی رُکاوٹ پیدا ہو گئی ہے، اور ذہنی طور پر کافی پریشان ہوں۔ میں باہر بھی زیادہ نہیں جا پا رہا، جس سے تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔ محترم مفتی صاحب! گزارش ہے کہ براہِ کرم اس مسئلے کا جواب جلد مرحمت فرمائیں، کیونکہ اس وقت مجھے اس کی سخت ضرورت ہے۔ اور معذرت خواہ ہوں کہ میں نے پہلے بھی اس موضوع پر سوالات کیے تھے ،مگر وہ مکمل وضاحت سے نہ ہو پائے، اس لیے دوبارہ عرض کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ جزاکم اللہ خیراً

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حکومت کے وہ قوانین جو شریعت سے متصادم نہ ہوں اور عوامی مصلحت پر مبنی ہوں، ان کی پابندی شرعاً ضروری ہے۔ ٹریفک قوانین بھی مصلحت عامہ کے تحت بنائے گئے ہیں، اس لیے ان کی خلاف ورزی شرعاً جائزنہیں۔بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلانا ان قوانین کی خلاف ورزی ہے، جو کہ گناہ کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لیے آپ پہلی فرصت میں لرننگ لائسنس بنوالیں۔لائسنس بنوئے بغیر سڑک پر آنے پر قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (3/ 1080):

عن ابن عمر رضي الله عنهما،عن النبي صلى الله عليه وسلم ‌قال: (السمع والطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية، فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة).

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 99):

وإذا أمر عليهم يكلفهم طاعة الأمير فيما يأمرهم به، وينهاهم عنه؛ لقول الله تبارك وتعالى {يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم} [النساء: 59] وقال عليه الصلاة والسلام: (اسمعوا وأطيعوا، ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع ما حكم فيكم بكتاب الله - تعالى) ولأنه نائب الإمام، وطاعة الإمام لازمة كذا طاعته؛ لأنها طاعة الإمام، إلا أن يأمرهم بمعصية فلا تجوز طاعتهم إياه فيها؛ لقوله عليه الصلاة والسلام: (لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق)

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 422):

(قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة.

   محمد طلحہ فلک شیر

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

23/جمادی الاولی /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب