| 89092 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
سوال : اگر کسی کام میں کسی دوسرے ملک کی کمپنی یا فرد کے ساتھ معاہدہ ہو، تو کیا اس میں اسلامی اصولِ بیع اور اجرت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جی چونکہ مسلمان بہرحال شرعی احکام کامکلف ہے،اس لیےکسی بھی ملک کی کمپنی یا فردکےساتھ معاملہ کی صورت میں ایک مسلمان کےلیے شرعااس معاملےکےشرعی اصول وضوابط کالحا ظ رکھنا ضروری ہے،لہذا
خریدوفروخت اورتجارت کامعاملہ ہو،اجارہ اورکرایہ داری کامعاملہ ہویا شرکت ومضاربت کاجوبھی معاملہ ہو، اس کےبنیادی اصول وضوابط کا لحاظ رکھناضروری ہوگا۔
حوالہ جات
۔
محمد بن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
25/جمادی الاولی 1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


